تازہ ترین
کھیل کھیل میں بچوں سے کروائیں ورزش اور خود بھی صحتمند رہیں
آج کل بچے موبائل فون، ویڈیو گیم، انٹرنیٹ وغیرہ میں اس قدر الجھتے رہتے ہیں کہ آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز اور ایکسرسائز سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر والدین بچوں کو کھیل کھیل میں ایکسرسائز سکھائیں اور کروائیںتو نہ صرف بچے دماغی اور جسمانی طور پر مضبوط ہوں گے بلکہ آپ میں بھی چستی آئے گی
اِن دنوں بچے موبائل فون، ویڈیو گیم، انٹرنیٹ وغیرہ میں اس قدر الجھتے رہتے ہیں کہ آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز اور ایکسرسائز سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر والدین بچوں کو کھیل کھیل میں ایکسرسائز سکھائیں اور کروائیں، اس سے دگنا فائدہ ہوگا۔ جہاں بچے دماغ اور جسمانی طور سے مضبوط ہوں گے وہیں والدین بھی چست رہیں گے۔
کھیل بھی، صحت بھی
ز جب بچہ ۲؍ سال کا ہوتا ہے تبھی سے اسے ہلکی پھلکی ورزش کھیل کھیل میں کروا سکتی ہیں۔
ز بچے کے ساتھ بال سے کیچ کیچ کھیلیں۔ اس سے آنکھوں کی ایکسرسائز ہوگی۔
ز اس عمر میں سب سے زیادہ توجہ ’مومنٹ اسکیل‘ اور ’باڈی کنٹرول‘ پر ہونا چاہئے۔
ز بچے کو فری رننگ، گیند پکڑنا، دوڑنا، ایروبک جیسے کھیل سکھائیں۔ اس طرح کے کھیل سے بچوں کی ہڈّی مضبوط ہوتی ہے۔
ز بچے کے ساتھ ہر روز ٹہلیں، پیدل چلیں اور گھومیں۔ اس سے دوران ِ خون بہتر رہتا ہے۔
ز اگر بچے کی عمر ۱۲؍ سال سے زیادہ ہے، تو اسے سائیکلنگ، ٹینس، سوئمنگ، اسکیٹنگ جیسے کھیل کھیلنے کے لئے ترغیب دیں۔
ز کلائمبنگ (اونچائی پر چڑھنا) والے کھیل سے بچے کی پیٹھ، ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں، ساتھ ہی ان کا قد بڑھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
ز ’سی سا‘ زیادہ تر بچوں کا پسندیدہ کھیل ہے۔ اس میں دو بچے آمنے سامنے جھولے پر بیٹھ کر اٹھک بیٹھک کرتے ہیں، جس سے جہاں ان کے ہاتھ پیر کی ایکسرسائز ہوتی ہے، وہیں ان کے ساتھ بڑوں کی بھی اچھی خاصی کسرت ہوجاتی ہے۔
ز بچے کی یادداشت بڑھانے کے لئے ان کے ساتھ ’’میمری گیمز‘‘ کھیلیں۔
ز بچوں کیساتھ کھیلیں کودیں۔ ایسا کرنے سے باڈی اسٹریچ ہوتی ہے اور فیلکسی بیلیٹی بڑھتی ہے۔
ز رسّی کودنا… دس منٹ رسّی کودنا، آٹھ منٹ کے دوڑنے کے برابر ہوتا ہے۔
ز ایک منٹ رسّی کودنے سے ۱۰؍ سے ۱۵؍ کیلوریز برن (پگھلتی) ہوتی ہے۔
ز رسّی کودنے سے جسم کا بیلسنگ پاور بڑھتا ہے اور پیروں میں مومنٹ سے پھرتی اور کنٹرول کرنے کی طاقت بڑھتی ہے، اس لئے بچوں کے ساتھ رسّی کودنے والا گیم ضرور کھیلیں۔
کھیل کے ساتھ پڑھائی بھی
ز اگر بچہ بہت چھوٹا ہے، تو آپ اسے کھیل کھیل میں کچن میں ہی ریاض سکھا سکتی ہیں۔
ز بچوں کو کچن میں کچھ برتن اکٹھا کرنے کے لئے کہیں اور پھر گنتی کروائیں۔
ز اس طرح آپ ایک سے ۱۰؍ اور ایک سے ۲۰؍ آسانی سے گنتی سکھا سکتی ہیں۔
ز کچن میں ایک جیسی دیکھنے والی چیزوں کو الگ کروائیں، جیسے سبھی کٹوریاں، گلاس، پلیٹ وغیرہ۔
ز بچوں کو ان کے سائز کے بارے میں بتائیں، اس سے وہ الگ الگ ساخت کے بارے میں جان سکیں گے۔
ز دھیان رہے، کھیل کھیل کے ذریعے بچہ جو کچھ سیکھتا ہے وہ اسے ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔
کچھ ایکسرسائز ایسی بھی
ز کرالنگ لائیک اے بے بی یعنی بچوں کی طرح رینگنا۔ یہ بھی ایک مزیدار ایکسرسائز ہے، جو قریب ۱۷۰۰؍ سال پرانا ہے۔ اس سے بچوں جیسا چنچل پن اور مضبوطی آتی ہے۔ یہ ایک فن ایکسرسائز ہے۔ اس سے باڈی کی فلیکسی بلیٹی بڑھتی ہے، مسلز مضبوط ہوتے ہیں اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں۔ اسے آپ بچوں کے ساتھ کرسکتے ہیں۔
دلچسپ طریقہ
ز آ پ جب بھی بازار جائیں تو بچے کو ساتھ لے کر جائیں۔ اس سے بچہ یہ سمجھ سکے گا جو بھی ہم خریدتے ہیں اس کے بدلے میں ہمیں پیسے دینے پڑتے ہیں۔
ز اس طرح آپ بچوں کو دلچسپ طریقے سے پیسے کی اہمیت بھی سمجھا سکتے ہیں۔
ز بچے سے پہیلی پوچھ سکتے ہیں، کراس ورڈ، لفظوں کا تلاش کرنا، باکس، سوڈوکو جیسے کھیل دماغ کے لئے بہترین ورزش ہیں۔
اس باتوں کا رکھیں خیال
ز اگر بچے کا دل نہیں ہے تو اسے زبردستی کھیلنے کے لئے آمادہ نہ کریں۔
ز ہر روز بچے کو کم سے کم ایک گھنٹہ کھیلنے کے لئے تحریک دیں۔
ز آپ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلنے سے ہچکچائیں نہیں، بلکہ ان کا بھرپور ساتھ دیں۔
ز اس سے بچوں کے درمیان آپسی سمجھ اور بانڈنگ بڑھے گی۔
ز بیڈ منٹن، فٹ بال، کرکٹ جیسے آؤٹ ڈور گیمز میں بچے کا ساتھی بن کر کھیلنے سے آپ بچے کے اچھے دوست بن سکتے ہیں۔
ز ایکسرسائز کرنے سے بچے تناؤ سے دور رہتے ہیں۔ اچھی نیند آتی ہے، وزن کنٹرول ہوتا ہے اور ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں(انقلاب)
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
