تازہ ترین
’میری کوشش ہے کہ حکومت اور میڈیا کے مابین تعلقات مضبوط ہوں‘:ڈاکٹر سحرش
ذرائع ابلاغ جمہوریت کا چوتھا ستون‘
خبراردو:-
سرینگر:اطلاعات وتعلقات عامہ کی ناظم ڈاکٹر سحرش اصغرنے کہا ہے کہ ذرائع ابلاع جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔انہوں نے کہا کہ اُنکی کوشش ہے کہ میڈیا اور حکومت کے درمیان تعلقات مستحکم ہوں۔
ادارہ کشمیر نیوز سروس کے ماہانہ رسالہ کشمیر میگزین کو دئے گئے ایک انٹر ویو میں ڈاکٹر سحرش نے کہا کہ جب سے انہوں نے محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے سربراہ کے بطور عہدہ سنبھالا اُنکی یہی کوشش رہی ہے کہ سب کو ساتھ لیکر چلیں۔
ان کا کہناتھا ’جب میں نے ڈی آئی پی آر میں ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو ہر دن ایک نیا چیلنج سامنے آتا تھا، ان تمام چیلنجوں کے درمیان میری کوشش تھی کہ سب کو ساتھ لیکر چلوں‘۔ڈاکٹر سحرش اصغرکا کہناتھا ’جب میں نے ڈی آئی پی آر ذمہ داریوں کا عہدہ سنبھالا تو میری کوشش تھی کہ صحافی برادری کے لئے سہولیت بہم رکھوں، ہم نے مشکل حالات میں میڈیا سہولیاتی مرکز (ایم ایف سی) کا آغاز کیا۔
ابتداء میں مشکلات تھیں، لیکن ہم نے سخت محنت کی اور آہستہ آہستہ ایک قابل ماحولیاتی نظام بنانے میں کامیاب ہوگئے تاکہ صحافیوں کو آسانی سے کام کرنے کا ماحول یقینی بنایا جاسکے‘۔ان کا کہناتھا’ہمیں باقاعدگی سے آراء ملتی تھیں اور اسی کے مطابق سہولیات میں بہتری لائی جاتی تھی۔ ہماری کوشش اور ارادہ یہی تھا کہ ان حالات میں میڈیا برادری کو ہم زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا سیں۔
تمام سہولیات کو یقینی بنانے کے لئے، ہم نے افرادی قوت سمیت اپنے وسائل بروئے کار لائے۔ میری ٹیم کے سبھی ممبران نے سخت محنت کی اور ان سب کو غیر معمولی سخت محنت کرنے کا سہرا لینا چاہئے،بہت سارے اپنی ڈیوٹی وقت سے زیادہ دیتے تھے‘۔ڈاکٹر سحرش نے کہا’ڈی آئی پی آر کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کے علاوہ، ہمارے پاس میڈیا افراد کو سہولت دینے کے لئے اوپر سے ہدایات تھیں۔
اب، 2 جی کو بحال کیا گیا ہے، براڈ بینڈ فعال ہے لیکن، ہم نے میڈیا سہولیاتی مرکز کوفعال رکھا ہے‘۔ان کا کہناتھا ’ایک دن میں 300 سے 400 جیسی بڑی تعداد میں نہیں لیکن آج بھی صحافی میڈیا سہولیاتی مرکز کی طرف رخ کرتے ہیں اور ہم اُنکی میزبانی کرتے ہیں‘۔انہوں نے کہا’موجودہ کووڈ۔19بحران میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو دوگنا کرنا پڑااور چھٹی بھی نہیں کی،وبا میں ہماری ذمہ داری کئی گنا بڑھ گئی‘۔
جموں و کشمیر میں میڈیا کے کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا، ’میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، ہم محکمہ کی حیثیت سے جو کام کرتے ہیں وہ اہم ہے، یہ میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچتا ہے۔ عوام اس کے برعکس میڈیا کے ذریعہ آواز اٹھاتے ہیں کہ لوگ جو بھی بات اجاگر کرنا چاہتے ہیں، یہاں میڈیا ایک ذریعہ کے بطور اپناکردار ادا کرتا ہے‘۔
ان کا کہناتھا ’ڈی آئی پی آر کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے پیشہ ور میڈیا کو ہر حال میں مثبت کردار ادا کرتے دیکھا ہے، جب بھی ہم نے عوامی مسائل سے متعلق معلومات کولوگوں تک پہنچانے کی کوشش،یہ میڈیا ہی تھا،ایسے حالات میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا، اسی طرح لوگوں نے اپنا فیڈ بیک اور شکایات میڈیا کے ذریعے اجا گر کیں،اور ہم نے بطور محکمہ انہیں سمیٹنے کی کوشش کی،ہم نے میڈیا شکایاتی سیل تشکیل دی اور ہم ہر روز میڈیا سے پیش آنے والی یہ شکایات مناسب اور ضروری کارروائی کے لئے متعلقہ سکریٹریوں / محکموں کے سربراہان کو بھیجے‘۔
ان کا کہناتھا ’تعمیری تنقید قابل تعریف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی بھی شخص نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہے، تو میڈیا اس پر روشنی ڈالے تو یہ قابل تحسین ہے۔ کچھ سرگرمیاں ایسی ہیں جو آئی پی سی یا سی آر پی سی کے تحت آتی ہیں، ڈی آئی پی آر اس میں مداخلت نہیں کرتا ہے۔ اگر میڈیا بنیادی ڈھانچے کی ترقی، شکایات کے بارے میں روشنی ڈالتا ہے تو ہم اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور ان کی تعریف کرتے ہیں۔
در حقیقت لیفٹیننٹ گور نر شکایات کے ازالے میں خاص طور اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں‘۔بعض اخبارات کے مدیر ان کے الزامات کی نفی کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’اشتہارات خالص طور پر اخبارات کی گردش کے معروضی طریقہ کار اور اشتہارات کے ہدف کے سامعین پر مبنی ہوتے ہیں اور کچھ نہیں، یہ کہنا کافی ہے کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ ایک مضبوط نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے‘۔
ان کا کہناتھا ’کبھی کبھار ہمیں بہترین تجویز ملتی ہے،ہم اس کو شامل کرکے چیزوں کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں‘۔سکون پروگرام کے بارے میں ان کا کہناتھا کہ ’سکون پروگرام کا بنیادی مقصد ان لوگوں تک پہنچنا تھا جو کووڈ۔19وبائی مرض کی وجہ سے بحران کا شکار تھے‘۔
انہوں نے کہا ’ہم نے اس کا آغاز مارچ میں چھٹی سے بارہویں جماعت کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لئے ڈی ڈی کاشر پر روزانہ دو گھنٹے نشر کرکے کیا تھا‘۔ان کا کہناتھا ’پھر ہم نے سکون پروگرام کوان لوگوں کے لئے شروع کیا جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے گھروں کے اندر موجود تھے‘۔
ڈائریکٹر انفارمیشن نے بتایا’گھریلو تشدد، منشیات کی لت، خودکشی کے رجحانات کے معاملات بڑھتے جارہے تھے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ کووڈ۔19 سے متعلق بہت سی غلط معلومات پھیلائی جارہی تھیں‘۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
