تازہ ترین
بجلی بلوں کی فراہمی میں تاخیرلوگ کے لئے باعث پریشانی
صارفین دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور، ایل جی سے مداخلت کی اپیل
خبراردو:-
سرینگر:وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں نجی اورسرکاری سیکٹروں کوبجلی بلوں کی فراہم کی وجہ سے طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اس دوران صارفین نے اس سلسلے میں ایل جی انتظامیہ سے معاملے کے حوالے سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق اگست 2019میں انٹرنیٹ بند ہونے اور کووڈ ھ کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے بعد وادی کے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ سرکاری سیکٹر میں بھی استحصالی عناصر سرگرم ہوگئے ہے جس پر ابھی تک روک نہیں لگائی جاسکی ہے۔
ان دو واقعات کے بعد سرکاری محکمہ جات کو کورپشن کی وباء نے بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں کامگاروں کا استحصال کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جارہی ہے۔سرکاری سیکٹر میں سرکاری دفاتر کا کام کاج بری طرح سے متاثر ہواہے جن میں محکمہ بجلی اور محکمہ آبپاشی پیش پیش ہیں۔
محکمہ بجلی کوجہاں فیس سے متعلق شکایات ہیں وہیں محکمہ بعض علاقوں کے صارفین کوچھ چھ ماہ سے بجلی بلیں فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ اسی طرح کاحال محکمہ آبپاشی کا بھی ہے جسکی وجہ سے عام صارفین کو ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ معلوم ہواہے کہ صارفین کی ایک بڑی تعداد محکمہ بجلی کے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ ان صارفین کی شکایت ہے کہ ان کو یاتوبلیں نہیں دی گئی ہیں یا اگر بلیں دی گئی ہیں توان میں غلط اندراجات ہیں جن کی تصحیح کرانے کے لئے ان صارفین کو دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔
کئی صارفین حکام سے فریاد کررہے ہیں کہ ان کی بلوں کی تصحیح کی جاتے تاکہ وہ بجلی فیس اداکرکے اس پریشانی سے چھٹکاراحاصل کرسکیں۔ صارفین کے ایک وفد نے بتایا کہ بلوں کی واگذاری میں تاخیر اور ان میں غلطیوں کے باعث رشوت ستانی کے ایک نئے رجحان نے جنم لیاہے۔غیر ضروری تاخیر کی وجہ سے لوگ سرگرم ہوگئے ہیں جو سادہ لوح صارفین کا استحصال کرتے ہیں اور ان کی بلوں کی تصحیح کے لئے رشوت وصول کرتے ہیں۔
وفد نے بتایاکہ قانون کی پاسداری کرنے والے صارفین جو ہر ماہ بروقت بجلی بل اداکرنا چاہتے ہیں اس چکی میں اس وجہ سے پسے جارہے ہیں کیونکہ وہ دلالوں کو رشوت کی رقم اداکرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہو ں نے الزام لگایا کہ محکمہ کے ملازمین اس بحران کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں اور بلوں کی واگذاری میں تاخیر کے لئے تکنیکی وجوہات کی بہانہ بازی کررہے ہیں جو قابل قبول عذرنہیں ہے۔
وفد میں شامل ایک اور بزرگ شہری نے بتایا کہ بلوں کی واگذاری میں تاخیر اور غلط اندارجات کے واقعات جان بوجھ کروقوع پذیر ہورہے ہیں جن کا مقصد صارفین کو دفتری معاملات میں الجھاکران سے تصحیح کے لئے رقومات بٹورنا ہے۔انہو ں نے الزام عائد کیا کہ محکمہ کے دفاتر میں ملازمین غریب اور لاچار صارفین کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتے ہیں۔
وفد نے جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوں کی واگذاری میں تاخیراوراضافی رقومات کاتقاضا کرنے میں ملوث ملازمین کی نشاندہی کی جائے اور ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ استحصالی عناصر کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
