تازہ ترین
سوگن زینہ پورہ شوپیان میں خونین جھڑپ15گھنٹے کے بعد اختتام پذیر
البدر،حزب المجاہدین سے وابستہ3 مقامی جنگجو جاں بحق
علاقے میں پُر تشدد مظاہرے،6زخمی،ضلعے میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات منقطع،4 رہائشی مکان کو پہنچا نقصان
خبراردو:-
شوپیان:سوگن شینہ پورہ شوپیان میں منگل کی شام جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان شروع ہوئی معرکہ آرائی بدھ کی صبح 15گھنٹے کے بعد البدر اور حزب المجاہدین سے وابستہ 3 مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت پر اختتام پذیر ہوئی۔جھڑپ کے دوران 4 رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ ضلعے میں امن وقانون کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے کے لئے موبائیل انٹر نیٹ خدمات منقطع رہے۔
ادھر جھڑپ کے بعد علاقے میں پُر تشدد مظاہرے ہوئے جس دوران پتھراؤ،ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کے نتیجے میں 6افراد مضروب ہوئے،جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق ایک خفیہ اور مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر فوج کی44آر آر،ایس او جی شوپیان اور سی آر پی ایف نے مشترکہ طور پر منگل کی شام سوگن زینہ پورہ شوپیان گاؤں کو محاصرے میں لیکر جنگجومخالف آپریشن شروع کیا۔نامہ نگار نے ذرائع کا حوالہ دیتے جو تفصیلات فراہم کیں،اُنکے مطابق گاؤں میں تلاشی کارروائی کے دوران جب فورسز کی پارٹی مخصوص مقام کی طرف جارہی تھی،تو گاؤں میں موجود مسلح جنگجوؤں نے فائرنگ شروع کی،جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید جھڑپ کا سلسلہ شروع ہوا۔
ذرائع نے بتایا کہ طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ وقفے وقفے سے دیر رات تک جاری رہا۔ذرائع نے بتایا کہ رات دیر گئے فوج وفورسز نے اس آپریشن کو بدھ کی صبح ملتوی کیا،تاہم بدھ کی صبح روشنی کی پہلی کرن زمین پر پڑ نے کیساتھ یہ آپریشن دوبارہ شروع کیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ گاؤں میں محصور جنگجوؤں کو خود سپردگی کرنے کی پیشکش کی گئی،تاہم انہوں نے ٹھکرا دی۔ ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان قریب15گھنٹوں تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں 3مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے جن کا تعلق البدر اور حزب المجاہدین عسکری تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔اس جھڑپ میں کم ازکم4رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ ایک رہائشی مکان کو شدید نقصان پہنچا۔
ذرائع نے بتایا کہ2جنگجوؤں کو مکان کے باہر جاں بحق ہوئے جبکہ تیسرے جنگجو نے ایک مکان میں پناہ لی تھی،جو جاری آپریشن کے دوران جاں بحق ہوا۔پولیس نے بتایا کہ تینوں جاں بحق جنگجوؤں کی نعشیں انکاؤنٹر کے مقام سے برآمد کی گئیں جبکہ جاں بحق جنگجوؤں کی تحویل سے ہتھیار اور گولی بارود بھی ضبط کیا گیا۔
جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت سجاد ملا ساکنہ ملڈھیرہ شوپیان،جنید رشید ساکنہ تمہال پلوامہ اور معراج الدین ساکنہ آری گام پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ان میں سے ایک جنگجو کا تعلق البدر جبکہ دو کا تعلق عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے تھا۔ضلعے میں امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے موبائیل انٹر نیٹ خدمات منقطع کردئے گئے۔اطلاعات کے مطابق علاقے میں جھڑپ کے بعد جاں بحق جنگجوؤں کی نعشیں ورثاں کے سپرد کرنے کے مطالبے کو لیکر پُر تشدد احتجاج بھی ہوا۔
اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کی ٹولیاں گاؤں میں نمو دار ہوئی،جنہوں نے صدائے بلند کر تے ہوئے فورسز پر شدید خشت باری کی۔پولیس نے مشتعل مظاہرین کو تتر بتر کرنے کے لئے اشک آؤر گیس کے گولے داغے جبکہ پیلٹ فائرنگ بھی کی۔معلوم ہوا ہے کہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران کم سے کم 6افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ پیلٹ لگنے سے تین زخموں کو ضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیا گیا۔علاقے میں صورتحال کشیدہ تھی۔یاد رہے کہ کووڈ۔19کے سبب جاں بحق مقامی جنگجوؤں کی نعشیں بھی ورثاں کے سپرد نہیں کی جاتی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق جنگجوؤں کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری شرکت رہتی ہے جسکی وجہ سے کووڈ۔19کی وبا پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔پولیس نے بتایا کہ جاں بحق جنگجوؤں کی آخری رسومات اُنکے لواحقین کی موجودگی میں انجام دی جاتی ہیں جبکہ جاں بحق جنگجوؤں کو مخصوص قبرستانوں میں سپرد خاک کیا جاتا ہے۔
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
