تازہ ترین
ٹنل کے آر پار بالائی اور میدانی حصوں میں برف باری،راجوری میں ایک فٹ جمع
کھلی دھوپ کے بعددرجہ حرات میں بہتری، 3جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان:موسمیات
سرینگر جموں شاہراہ گھنٹوں کے بعد بحال،راجوری میں سڑک حادثے میں 9مسافر زخمی
سرینگر:ٹنل کے آر پار بالائی و میدانی علاقوں میں تازہ ہلکی برف باری ہوئی۔جس کے نتیجے میں وادی میں جاری سخت سردی میں کسی حد تک کمی واقعی ہوئی ہے جبکہ درجہ حرارت میں بھی بہتری درج ریکارڑ درج ہوئی ہے اس دوران کھلی دھوپ میں میں لوگوں نے رات کی سانس لی ہے۔
جموں کے راجوری میں سال رواں کی پہلی برف باری کی وجہ سے بیشتر رابطہ سڑکیں بند ہوئیں جن پر برف بٹا لیا گیا ہے ادھر میں پھسلن پیدا ہونے کی وجہ سے ایک گاڑی حادثے کی شکار ہوئی ہے جس میں سوار9افراد زخمی ہوئے۔ادھر سرینگر جموں شاہراہ پر پسی گر آنے کے نتیجے میں اتوار کے روز بند ہونے کے بعد اتوار کے صبح سویرے آمد رفت کے لئے بحال کیا گیا،
تاہم گزشتہ دن اور رات کے دوران مسافر درماندہ رہنے کی وجہ سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے محکمہ موسمیات 28دسمبر سے 3جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق اتوار اور سوموار کی درمیانی رات کے دوران ٹنل کے آرا پار میدانی و بالائی علاقوں میں تازہ ہلکی تا بھاری برف باری ہوئی ہے جو دن کے ایک بجے تک تقریباً مختلف میدانی علاقوں میں زمین پر موجود رہی ہے جبکہ پہاڑوں اور بالائی علاقوں میں درمیانی درجے کی برف باری ہوئی ہے۔
کشمیر نیوز سروس کے نامہ نگاروں نے جو تفصیلات فراہم کئے ہیں ان کے مطابق وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں ہلکی برف ریکاڑ ہوئی ہے۔ادھر ٹنل کے اس پا ر بھی متعدد پہاڑی علاقوں میں دوسری تازہ برف باری ہوئی ہے۔راجوری سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ راجوری ضلع کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ رات کے دوران رواں موسم کی پہلی برفباری ہوئی جس کے نتیجے میں وہاں کئی سڑکیں آمد و رفت کیلئے بند ہوئیں۔
حکام کے مطابق رات بھر خراب موسم کی اطلاعات ضلع کے سبھی علاقوں میں سے موصول ہوئیں تاہم تھنہ منڈی اور کوترانکا علاقوں میں رات بھر برفباری ہوتی رہی۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ راجوری میں رواں موسم کی پہلی اور بھاری برفباری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوترانکاقصبہ میں کم و بیش ایک فٹ جبکہ قصبہ کے ارد گرد واقع مینڈھر گالا علاقوں میں کم و بیش ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق کوترانکا کا راجوری سے رابطہ منقطع ہوا ہے تاہم سڑکوں سے برف ہٹانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔اسی طرح تھنہ منڈی اور سرنکوٹ کے درمیان راستہ بھی بند ہوگیا ہے۔حکام کے مطابق بھاری برفباری کی وجہ سے کہیں سے بھی کسی جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
اد ھر کشمیر وادی میں پیر کے صبح سے ہی کھلی دھوپ نکلنے کے نتیجے میں میدانی حصوں میں جمع کئی اینچ برف ختم ہوا ہے اور یہاں باقی دنوں کے نسبت درجہ حرارت میں بھی کافی حد تک اضافہ ہوا ہے۔
اھر وادی کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا درجہ حرارت میں بہتری اور کھلی دھوپ کی وجہ سے یہاں لوگوں عوام نے راحت کی سانس لی ہے۔گلمرگ،پہلگام کے علاوہ سونہ مرگ میں بھی تازہ برف باری ہوئی ہے جس دوران یہاں سردی میں شدت دیکھی گئی ہے اور ان مقامات پر دن کو دھوپ نہیں کھلی۔کشمیر نیوز سرس سٹی رپوٹر کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین برعکس وادی کشمیر کے میدانی علا قوں میں جہاں موسم خشک ہے وہیں مطلع ابر آلود رہنے سے شبانہ درجہ حرارت میں بھی بہتری واقع ہوئی ہے۔
متعلقہ محکمے کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں 28سمبر کی شام تک کہیں کہیں موسم ناساز گار رہ سکتا ہے تایم بعد ازاں 29 دسمبر سے 3جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی توقع ہے۔وادی کشمیر میں پیر کو چلہ کلان کے آٹھویں روز بھی موسم مجموعی طور پر خشک رہا اورسورج بھی بیشتر اوقات نمودار رہا اور شبانہ درجہ حرارت میں بہتری واقع ہونے سے لوگوں کو سردی کی شدت سے قدرے راحت نصیب ہوئی۔
ادھر سرینگر جموں شاہراہ پر چندر کوٹ کے نذدیک ایک مٹی کاایک بڑا تودپ گر آیا ہے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر اتوار کے صبح سے ہی ٹریفک آمد رفت کے لئے بند رہا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں مال اور مسافر بردار گاڑیاں یہاں درماندہ ہوئیں ہیں۔اس دوران مسافروں کو ایک دن اور ایک رات شاہراہ پر درماندہ گاڑیوں میں بھوکے رہنا پڑا جس دوران چھوٹے بچو اور خواتین کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران شاہراہ کو سوموار کے صبح سویرے گاڑیوکی آمد رفت کے لئے بحال کیا گیا ہے۔ادھروادی کشمیر کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر – لیہہ شاہراہ پر یک طرفہ ٹریفک کی نقل و حمل جاری ہے تاہم جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کو صوبہ جموں کے ضلع پونچھ کے ساتھ جوڑنے والا تاریخی مغل روڈ گذشتہ زائد از دو ہفتوں سے مسلسل بند ہے۔
ادھر خطہ پیرپنچال کے ضلع راجوری کے سوجیان منڈی علاقے میں پیر کو ایک سڑک حادثے کے نتیجے میں کم سے کم نو افراد زخمی ہوگئے۔نمائندے کے مطابق ایک مسافر گاڑی سڑک سے لڑھک کر برف سے لبریز کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں سومو گاڑی میں سوار سبھی نو افراد زخمی ہوگئے۔مذکورہ گاڑی سوجیان سے کنڈی کی طرف جارہی تھی جب یہ سندری نالہ کے قریب پھسلن کی وجہ سے ڈرائیور کے کنٹرول سے باہر ہوکر لڑھک گئی۔زخمیوں کو سوجیان کے اسپتال میں علاج و معالجہ کیلئے پہنچایا گیا ہے۔(کے این ایس)
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
