تازہ ترین
سال نو کی آمد پر وادی کشمیر میں درمیانہ درجے کی برف باری
معمو لات زندگی متاثر،کئی رابطہ سڑکیں بند
ہوائی سروسز میں خلل، جموں ائر پورٹ سے کئی اڑانیں منسوخ،مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا
سرینگر:’سال نو کی آمدپر وادی کشمیر میں درمیانہ درجے کی برفباری‘سے معمولات زندگی متاثر ہوگئے جبکہ کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ادھر گہری دھند اور خراب موسم کی وجہ سے سرینگر اور جموں میں ہوائی سروسز میں بھی خلل پڑا جسکی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق وادی کشمیر میں منگل کے روز دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب کے سبھی 10اضلاع میں برفباری ہوئی۔برفباری سے اگرچہ مفی درجہ حرارت سے لوگوں نے کسی حد تک راحت کا سانس لیا،تاہم برفباری سے ہر طرح کے معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔
سرینگر میں منگلوار کی علی الصبح سے ہلکی برفباری شروع ہونے لگی اور یہ سلسلہ دوپہر تک جاری رہا۔برفباری کے سبب سرینگر بھی سفید رنگ میں رنگ گیا۔سٹی رپورٹر کے مطابق سرینگر میں منگلوار کی صبح 7بجے برفباری کا سلسلہ شروع ہوا،جو مسلسل کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔سرینگر میں برف کی ہلکی چادر بچھ گئی جسکے نتیجے میں قدرتی نظارے دلفریب تو ہوئے لیکن معمولات زندگی متاثر ہوئے۔
اس دوران وادی کے دیگر اضلاع سے بھی برفباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔حکام کے مطابق شمالی کشمیر میں عالمی شہرت یافتہ سکینگ مرکز گلمرگ میں کم و بیش7 انچ تازہ برفباری ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ جنوبی کشمیر میں واقع سیاحتی مقام پہلگام میں 3 انچ کے آس پاس برف باری درج کی گئی۔
ادھر شمالی کشمیر کے گریز میں بھی برف باری ہوئی اور وہاں 3 انچ تازہ برف ریکارڈ کی گئی ہے۔پیر پنچال خطے میں بھی برفباری ہوئی۔جواہر ٹنل کے آس پاس اور پتنی ٹاپ میں برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں۔حکام نے کہا کہ اگر چہ جواہر ٹنل کے آس پاس بھی تازہ برف باری ہوئی ہے تاہم وادی کشمیر کو جموں سے ملانے والی شاہراہ پر ٹریفک کا نقل و حمل جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3ڈگری سیلشیس اورگلمرگ میں منفی7.5ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔سرینگر میں رات کا درجہ حرارت 0.0ڈگری سیلشیس،گیٹ وے آف کشمیر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.4ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا،سیاحتی مقام جوکہ امرناتھ یاتریوں کا بیس کیمپ بھی ہے،میں کم سے کم درجہ حرارت منفی3.0ڈگری سیلشیس درج کیا گیا۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.0ڈگری سیلشیس،کوکرناگ میں منفی3.0ڈگری سیلشیس،جموں میں کم سے کم درجہ حرارت 3.7ڈگری سیلشیس،بانہال میں 0.4ڈگری سیلشیس،بٹوت میں رات کا درجہ حرارت منفی1.5ڈگری سیلشیس،کٹرا میں کم سے کم درجہ حرارت میں 4.5ڈگری سیلشیس اوربھدرواہ میں منفی1.9ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا۔یہ رواں چلہ کلان کی پہلی وادی گیر برف باری ہے۔
وادی کشمیر میں منگل کی صبح چلہ کلان کے نویں روز جب لوگ گھروں سے باہر نکلے تو میدانی و بالائی علاقوں میں جم کر برف باری ہورہی تھی۔ بالائی علاقوں میں اگر چہ برف باری کا سلسلہ منگل کی علی الصبح ہی شروع ہوا تھا تاہم سری نگر میں قریب سات بجے صبح سے برف باری شروع ہوئی۔
صبح کے دس بجنے تک پوری وادی، میدانوں، پارکوں، صحنوں، اشجار سے لے کر مکانوں کے چھتوں تک، نے سفید چادر اوڑھ لی تھی تاہم میدانی علاقوں میں بارہ بجنے سے قبل ہی برف باری کا سلسلہ تھم گیا۔
اس قبل بالائی علاقوں میں کہیں کہیں درمیانہ درجے کی برف باری ہوئی تھی لیکن میدانی علاقوں موسم خشک ہی رہا تھا۔منگلوار کو وادی کے دیگر9اضلاع پلوامہ،کولگام،شوپیان،اننت ناگ،بڈگام،گاندر بل،کپوارہ،بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی برفباری ہوئی۔
اطلاعات کے پہاڑی علاقوں میں 6انچ سے لیکر ایک فٹ تک برفباری ہوئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں 30 دسمبر سے موسم بہتر ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں 30 دسمبر سے یکم جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔
ہوائی سروسز میں خلل:
ایک اطلاع کے مطابق سرمائی دارالحکومت جموں میں منگل کو گہری دھند کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوئے یہاں تک کہ ہوائی سروس بھی متاثر ہوئی اور کئی اڑانیں منسوخ جبکہ سات میں تاخیرہوئی۔
جموں ائر پورٹ ڈائریکٹر پریاوت رنجن بیوریا کے مطابق دھند کے نتیجے میں کم روشنی کے باعث جموں ہوائی اڈے پرہوائی سروس پوری طرح بحال نہیں ہوسکی۔انہوں نے کہا کہ آج صبح چار اڑانوں کو منسوخ کیا گیا جبکہ کئی ایک میں تاخیر ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صبح نو بجے جموں ائر پورٹ پر روشنی بہت ہی کم تھی تاہم بعد میں ایک بجے اس میں کچھ بہتری آئی۔ اس دوران کئی مسافروں جن میں ریاض بٹ بھی شامل ہیں، نے بتایا کہ وہ جموں سے سرینگر ”گو۔ائر“ نامی ہوائی جہاز سے سفر کرنے والے تھے اور اُنکی پرواز کا وقت 2بجکر20منٹ تھا،لیکن ائر پورٹ پر کئی گھنٹوں تک انتظار کرنے کے بعد پرواز منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔
ایک مسافر شو کت جان نے بتایا کہ وہ جموں سے سرینگر وستارا نامی پرواز سے سفر کرنے والے تھے،تاہم پرواز کے نمائندے نے ائر پورٹ کے مرکزی در وازے پر آکر قطار میں بیٹھے مسافر وں کو بتایا کہ جو مسافر اُنکی پرواز دوپہر2جموں سے سرینگر کی طرف سفر کرنے والے ہیں،اُنہیں اطلاع دی جاتی ہے کہ پرواز منسوخ کی گئی کیوں کہ دہلی ائر پورٹ سے پرواز نے اُڑان نہیں بھری۔
انہوں نے کہا کہ اس پرواز سے درجنوں افراد جموں سے سرینگر کی طرف سفر کرنے والے تھے،تاہم اُنہیں یہاں سے مایوس ہو کر واپس ہوٹلوں اور دیگر مقامات کی طرف رخ کرنا پڑا۔ادھر ذرائع سے معلوم کہ سرینگر ائرپورٹ سے بھی کئی پروازوں میں یا تو تاخیر ہوئی یا پھر منسوخ کی گئیں۔تاہم سرینگر ائر پورٹ کے ڈائریکٹر شرد کمار نے کوئی تفصیلات دینے سے احتراض کیا۔دریں اثناء کئی علاقوں سے لوگوں نے بتایا کہ برقی رو کی سپلائی متاثر ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق کئی سرحدی اضلاع کے سرحدی علاقے ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ گئے کیوں کہ برفباری سے پیدا شدہ پھسلن کے باعث کئی رابطہ سڑکیں ٹریفک کی آواجاہی کے حوالے سے بند کی گئیں۔جن رابطہ سڑکوں کو بند کیا گیا،اُن گریز۔بانڈی پورہ،مژھل۔کپوارہ وغیرہ شامل ہے۔(کے این ایس)
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
