تازہ ترین
جموں و کشمیر کا چہرہ(سرینگر)40سال سے نظر انداز:مئیرمتو
15ہزار لینوں کو صاف کرنے کیلئے15’جے سی بی‘ناکافی
خبراردو
سرینگر:سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر جنید عظیم متو نے کہا جموں و کشمیر کے چہرے ’شہر سرینگر‘ کو گزشتہ چالیس سال کے دوران نظر انداز کیا گیا ہے جہاں 15ہزار لین کو صاف کرنے کے لئے15جے سی بی،لوڈر موجود ہیں۔جبکہ ایس ایم سی کے جوانوں کو بیلچے سے سڑکیں صاف کرتے ہوئے دیکھ کر شرمندہ گی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا ایل جی کو اس حوالے سے لکھیں گے کہ سڑکوں سے برف ہٹانے میں دیر کیوں لگ رہی ہے۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق شہر سرینگر میں چار روز گزر جانے کے باوجودسڑکیں صاف نہ ہونے کی شکایات پر سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر جنید عظیم متو نے جمعرات کو کہا کہ 15 ہزا لین کو صاف کرنے کے لئے 15جے سی بی اور لوڈر سری نگر میں 15ہزارسڑکوں سے برف صاف کرنے کا واحد سامان ہے۔
متو نے اپنے دفتر میں یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”سری نگر میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کے جوانوں کو بیلچے سے برف صاف کرتے دیکھنا شرمناک ہے۔مئیرنے یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ’ایس ایم سی‘ اور دیگر2 محکموں نے سڑکوں پر موجودبرف کو صاف کیا ہے جبکہ اس سے بہتر کام ہوسکتا ہے۔
انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر زور دیا کہ وہ یہ جانئے کہ بھاری برفباری کے بعد ایسی زمینی صورتحال کیوں پیدا ہوئی ہے جس کا لوگ سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایل جی کا احترام کرتا ہوں کیونکہ وہ فراہمی میں یقین رکھتا ہے۔ میں انھیں یہ بھی جاننے کے لئے ایک خط لکھوں گا کہ سڑکوں پر برف کو صاف کرنے میں دیر کیوں لگ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مکینیکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، سڑکوں اور عمارتوں اور ایس ایم سی سمیت تینوں محکموں کا م بہتر ہوسکتا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایس ایم سی کا تعلق ہے، کارپوریشن کے پاس برف باری کے بعد صورتحال سے نمٹنے کے لئے صرف 12سے15 جے سی بی اور لوڈرز موجود ہیں۔ انہوں نے کہا، ”یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سری نگر میں 15 جے سی بی اور لوڈرز 15ہزار لینوں کو صاف کررہے ہیں۔متو نے زمینی سطح پر ایس ایم سی کے تحت کام کر رہے عملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہا’ایس ایم سی‘ کے جوانوں کو بیلچے سے سڑکیں صاف کرتے دیکھنا شرمناک ہے۔
انہوں نے کہا، میں نے میئر کی حیثیت سے یہ چارج سنبھالنے کے فورا بعد ہی، میں نے 25 برف کلیئرنس مشینوں کی خریداری کا مطالبہ کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے، میں نہیں جانتا کہ مناسب فنڈز دستیاب ہونے کے باوجود مشینیں کیوں نہیں حاصل کی گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مشینیں حاصل کی جاتی تو ایس ایم سی سری نگر کے 24گھنٹوں میں ہی برف کو صاف کرسکتا تھا۔ سری نگر، جموں و کشمیر کا چہرہ گذشتہ 40 سالوں سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔ لیکن، جب تک میں یہاں میئر کی حیثیت سے رہوں گا، میں ایس ایم سی میں نظامی اصلاحات لانے کی کوشش کروں گا۔(کے این ایس)
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
