تازہ ترین
بھارتی معیشت اور لچک کی ممکنہ ت ثلیث
سنجنا کادیان

تلسی پریہ راجکماری اور
فیونکس پرندہ جب جل کر راکھ ہوجاتا ہے تو اس کی راکھ سے ایک اور فیونکس پرندہ پیدا ہوتا ہے، جو زندگی کے جوش اور جذبے سے لبریز ہوتا ہے۔ اسی طرح سال 2020 بھی بھارت کے لئے فیونکس کی مانند رہا ہے۔ 2020ایک بے مثال عالمی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی انگنت گہری مصیبتوں کا سال رہا، جس نے انسانیت کی ذہنی توانائیوں کو غیر یقینی اور مایوسی کی گردشوں میں جکڑ دیا، لیکن وہ سال ایسا بھی رہا جس نے انسان کے عزم اور معاشی لچک کے نئے عزم کو اُس مصیبتوں اور پریشانیوں سے چھٹکارا بھی دلایا۔
کووڈ-19 کے پھیلاؤ اور اس کی شدت نے معیشت اور جغرافیائی خطوں پر سماجی ، اقتصادی حثیت کے معاملے میں مطالبے اور سپلائی کا دہرا جھٹکا دیا۔ ایک طرف جہاں غیر ضروری شعبوں نے غالب طورپر اختیاری طور پر صرفے کی تکمیل کی اور تمام تر ذخیروں کو اس طرح کے مطالبات میں صرف کیا، وہیں دوسری طرف اشیائے ضروری سے متعلق شعبے پر زراعت سے متعلق جمود کا جھٹکا عائد ہوا، کیونکہ بنیادی طور پر یہ شعبہ غیر ضروری اشیا کے شعبوں میں رونما ہونے والی محدود سرگرمیوں کے اثرات سے از خود بھی متاثر ہوا۔ جیسا کہ 21-2020 کے اقتصادی سروے میں دکھایاگیا ہے کہ گھریلو اور عالمی سپلائی چینوں میں رونما ہونے والی رخنہ اندازی اور رکاوٹوں نے درآمداتی لحاظ سے زرعی ان پٹ مثلاً کمیاوی کھادوں اور کیڑا کش محلولوں وغیرہ کے معاملے میں زراعت کو متاثر کیا ہے، ساتھ ہی ساتھ چاول، مرغی، بطخ کی شکل میں حاصل ہونے والی پیداوار اور مصالحوں وغیرہ پر مبنی زرعی برآمدات متاثر ہوئی۔اس طرح مالی سال 2021 کے پہلے تین ماہ میں گردش کرنے والی اور وسیع بنیاد پر مبنی زرعی افراط زر ناگزیر ہےاور اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
البتہ کووڈ-19 سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود بھارت سرکار کی جانب سے بروقت اور سرگرمیوں کی وجہ سے زراعت سے متعلق سرگرمیاں کافی حد تک جاری رہیں اور انہیں آسان بنایا گیا ۔ مینوفیکچرنگ شعبے نے مانگ اور سپلائی جھٹکے کو برداشت کیا، جو ٹیکسٹائل اور فیبرکس، صارفین اشیا، کمپیوٹر ہارڈویئر، مشینری اور آلات وسازوسامان سمیت تقریباً سبھی ذیلی سیکٹروں سے تعلق رکھتے تھے۔
البتہ بحرانی صورتحال میں موقع کے ایک معاملے کی ایک مثال دیتے ہوئے صحت خدمات میں اضافے نے دواسازی کے شعبے کو تقویت دی۔ عالمی وبا کی وجہ سے سوشل ڈسٹینسنگ کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی وجہ سے تجارت، سیاحت اور ٹرانسپورٹ خاص طور پر تعمیری اور کانٹیکٹ خدمات کے سیکٹر سب سے زیادہ مشکلات سے گھرے رہے۔ لاک ڈاؤن کی بندشوں سے مستثنیٰ ہونے کے باوجود سیمنٹ اور اسٹیل جیسی صنعتوں میں کم مطالبے کا اثر کانکنی کی کارروائیوں پر بھی پڑا۔
اس عالمی وبا کے جغرافیائی پھیلاؤ نے بھارت میں جو صدمہ پہنچایا وہ ریاستوں میں اس سے پہلے سے موجود خستہ اقتصادی حالی کے ساتھ مل کر دو چند ہوگیا۔ 21-2020 کے اقتصادی جائزے میں اِس خستہ حالی کو مجموعی بالحاظ قیمت اضافے کے ساتھ (جی وی اے) لگنے والے صدمے اور لیبر شاک کے طور پر واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔سب سے زیادہ آؤٹ پٹ دینے والی ریاست اور ملک کا کووڈ-19 کا ایپک سینٹر (مرکز) مہاراشٹر نے کنٹیکٹ حساس خدمات سیکٹر کے شاک کو جھیلا اور ساتھ ہی ساتھ لیبر مارکیٹ کے دباؤ کو بھی برداشت کیا، جہاں56 فیصد آؤٹ پٹ خدمات سے حاصل ہوتاہے اور ملک کی بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کا سات اعشاریہ پانچ فیصد اسی ریاست میں واقع ہے، جبکہ تمل ناڈو اور کیرالہ میں دوسروں کے مقابلے تعمیری شعبوں کو زیادہ جھٹکا لگا، جو گجرات اور جموں وکشمیر میں اقتصادی بحالی میں رخنہ ڈالتا رہا۔ پنجاب کا جہاں تک تعلق ہے تو وہاں نسبتاً لچکدار زرعی شعبہ ہے، لیکن وہاں لیبر کا شدید جھٹکا محسوس کیاگیا اور اُس کا 62 فیصد غیر زرعی شعبہ غیر رسمی رہا۔ خدمات کے زیر اثر غیر رسمی سیکٹر نے دہلی اور تلنگانہ جیسی ریاستوں کو بھی جھٹکا پہنچایا۔ تعمیرات کی زیر قیادت غیر رسمی سیکٹر کی موجودگی سے اترپردیش سب سے زیادہ متاثر ہوا۔
ہندوستانی معیشت پر عالمی وبا کے مکمل اثرات اب بھی امڈ رہے ہیں۔ معیشت نے تین سطحوں پر بہت وسیع لچک حاصل کی ہے۔ سب سے پہلے کمزور گھرانوں اور کاروباری اداروں کے لئے بھارت سرکار کی طرف سے بروقت سرگرم اور فعال تعاون دیاگیا۔ دوسرے نئے چیلنجوں اور بحالی کو اپنانے کے لئے سیکٹروں کو تیار کرنے کے لئے مربوط مالی اور مالیاتی پالیسی نے زبردست لچک پیدا کی۔ تیسرے اور سب سے اہم صحت کے نظام کی لچک ہے۔جو مرکز، ریاست اور ریاستی سرکار کی جانب سے عالمی وبا کے پیش نظر تیار کی گئی ہیں!
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
