کھیل
خراب کارکردگی کے باوجود کئی کھلاڑیوں کی انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز دوروں کے لیے سلیکشن پر سوالیہ نشان!
کراچی —
پی ایس ایل سکس میں کئی کھلاڑیوں کی جانب سے خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا پانے کے باوجود انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے لیے ان کے قومی ٹیم کے لیے منتخب ہونے پر ٹیم سلیکشن پر مبصرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ملتان سلطانز کی کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کا سورج غروب تو ہوگیا، لیکن جاتے جاتے کئی سوالات کو جنم دے گیا۔
پی ایس ایل سکس کے بعد قومی ٹیم کو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنا ہے، جہاں اچھی کارکردگی کے لئے جن کھلاڑیوں پر سلیکٹرز نے اعتماد کیا ہے، انہوں نے پی ایس ایل میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی ہی نہیں دکھائی۔
???#HBLPSL6 | #MatchDikhao | #MSvPZ pic.twitter.com/66D54505le
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 24, 2021
جن کھلاڑیوں نے پی ایس ایل سکس میں اپنی کارکردگی سے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا، ان میں سے کئی یا تو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ نہیں، یا پھر کسی ایسے فارمیٹ کا حصہ ہیں جس میں نہ تو ان کی ضرورت ہے، اور نہ ہی جس کا انہیں کوئی تجربہ۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے لئے قومی ٹیم کا اعلان بالکل درست وقت پر ہوا، دو ممالک کے درمیان سیریز میں ٹیم سلیکشن کے علاوہ بھی کئی معاملات دیکھنا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سیریز کی تیاری میں میزبان بورڈ کو قبل از وقت آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
ایونٹ کے فائنل میں پلئیر آف دی میچ قرار دئیے جانے والے صہیب مقصود بھی دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے اسکواڈ میں اس لئے جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے، کیونکہ نوجوان بیٹسمین حیدر علی نے بائیو سیکیور ببل کی خلاف ورزی کی، اور ان کی معطلی کے بعد ایک بیٹسمین کی جگہ اسکواڈ میں بن گئی تھی۔
That's how you celebrate returning to the national side! ?? ?? @sohaibcricketer with an innings to remember!#HBLPSL6 | #MatchDikhao | #MSvPZ pic.twitter.com/QXB8hHxKrw
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 24, 2021
پی سی بی کے مطابق صہیب مقصود کو اسکواڈ میں حیدر علی کی بجائے اس لئے آسانی سے جگہ مل گئی کیونکہ ان کے پاس انگلینڈ کا ویزا تھا، جو ان کے حق میں گیا۔
ٹیم میں کم بیک کرنے والے صہیب مقصود کون ہے اور کہاں غائب تھے؟
34 سالہ صہیب مقصود کا شمار پاکستان کے ان بیٹسمینوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے انٹرنیشنل کیرئیر کے دوران اپنی کارکردگی سے بہت سوں کو متاثر تو کیا لیکن جب ٹیم سے باہر ہوئے تو واپس نظر نہیں آئے۔
2013 سے 2016 کے درمیان 26 ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اس کھلاڑی نے 32 رنز فی اننگز کی اوسط سے 735 رنز اسکور کئے، جس میں 89 ناٹ آؤٹ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور، اور پانچ نصف سنچریاں شامل تھیں۔ 20 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کی بیٹنگ اوسط تو کم رہی، لیکن 110 کا اسٹرائیک ریٹ ہی مخالف ٹیم کو ڈرانے کے لئے کافی تھا۔
A tournament to remember capped off with an iconic performance in the final.
New #HBLPSL6 champion @sohaibcricketer is the player of the final!#MatchDikhao | #MSvPZ pic.twitter.com/xxbzdexuHB
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 24, 2021
ملتان سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی نے اپنے پہلے دونوں ون ڈے میچز میں نصف سنچریاں اسکور کی تھیں۔ لمبے چوڑے قد کاٹھ رکھنے والے اس بلے باز کا موازنہ انضمام الحق سے کیا جاتا تھا، لیکن مبصرین کے مطابق مستقل طور پر ایک نمبر پر بیٹنگ نہ کرانا اس کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بنی۔
پاکستان سپر لیگ میں نمبر تین پر بیٹنگ کرکے صہیب مقصود نے نہ صرف 428 رنز اسکور کئے بلکہ فائنل میں 35 گیندوں پر ناقابل شکست 65 رنز کی اننگز کھیل کر ملتان سلطانز کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ پانچ سال بعد ٹیم میں ان کی واپسی حیدر علی کی بداحتیاطی کی وجہ سے ہوئی، ورنہ شاید آج بھی وہ کم بیک کی آس لگائے بیٹھے ہوتے!
کل تک پی ایس ایل ٹیم سے باہر، آج ٹیم آف پی ایس ایل سکس کا کپتان!
کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں، قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان گزشتہ سیزن میں کراچی کنگز سے جڑے ہوئے تھے، اور انہیں صرف دو میچز میں موقع دیا گیا تھا، لیکن اس بار نہ صرف فرانچائز بدلنا ان کے لئے خوش قسمت ثابت ہوا، بلکہ انہیں پی ایس ایل سکس کی ٹیم کا وکٹ کیپر اور کپتان بھی مقرر کر دیا گیا تھا۔
قومی ٹیم میں ایونٹ کے ٹاپ پرفارمرز کو شامل کیا گیا ہے جن میں ملتان سلطانز ، اسلام آباد یونائیٹڈ اور لاہور قلندرز کے تین تین،پشاور زلمی کے دو اور کراچی کنگز کے ایک کھلاڑی کو شامل کیا گیا ہے۔
افغانستان سے تعلق رکھنے والے پشاور زلمی کے اوپنر حضرت اللہ زازئی کو کراچی کنگز کے بابر اعظم کے ساتھ اننگز کے آغاز کے لئے چنا گیا، تو اسلام آباد یونائیٹڈ کے کولن منرو اور ملتان سلطانز کے صہیب مقصود اور محمد رضوان کو مڈل آرڈر میں جگہ ملی۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے جارح مزاج بلے باز آصف علی کو لوئر آرڈر میں رکھا گیا ہے جہاں وہ اننگز کے آخر میں اپنی تیز رفتار بیٹنگ سے مخالف ٹیم کو پریشان کرسکتے ہیں۔
Rizwan to captain Team of HBL PSL 6
Read more: https://t.co/YVBTlgeKBQ#HBLPSL6 | #MatchDikhao pic.twitter.com/X2Zhip4Ym1
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 25, 2021
باولنگ کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے ملتان سلطانز کے شاہنواز داہانی بھی موجود ہیں، پشاور زلمی کے وہاب ریاض، لاہور قلندرز کے راشد خان، جیمز فالکنر، اور شاہین شاہ آفریدی، اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے حسن علی ان کے ہمراہ بالنگ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
پی ایس ایل کا اسٹار فاسٹ بالر شاہنواز داہانی پاکستان ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں کیوں نہیں؟
پاکستان کرکٹ ٹیم کو دورہ انگلینڈ میں تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل، اور تین ون ڈےانٹرنیشنل کھیلنا ہیں، جب کہ ویسٹ انڈیز میں انہیں پانچ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اور دو ٹیسٹ میچز کھیلنے کا موقع ملے گا۔ لیکن انگلینڈ میں پاکستان اسکواڈ کےساتھ اگر کوئی نہیں ہوگا، تو وہ ہیں شاہنواز داہانی، کیونکہ سلیکٹرز نے انہیں ٹیسٹ ٹیم میں منتخب کیا ہے۔
پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن میں لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے اس بالر نے 20 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، سب سے چھوٹے فارمیٹ میں اپنی مہارت دکھائی، لیکن منتخب اسے ایک ایسے فارمیٹ میں کے لیے کیا گیا ہے جہاں پہلے ہی سے کئی امیدوار لائن میں ہیں۔
سینئیر اسپورٹس صحافی عبدالماجد بھٹی کا کہنا تھا کہ اگر شاہنواز داہانی کو ٹیسٹ کھلانا ہی تھا، تو انہیں زمبابوے کے خلاف موقع دے دیا جاتا، لیکن وہ کیوں ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل نہیں، یہ ایک معمہ ہے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کا یہ المیہ ہے کہ جس کی جس فارمیٹ میں جگہ بنتی ہے، اس میں اسے نہیں کھلایا جاتا۔
Rizwan to captain Team of HBL PSL 6
Read more: https://t.co/YVBTlgeKBQ#HBLPSL6 | #MatchDikhao pic.twitter.com/X2Zhip4Ym1
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 25, 2021
‘شاہنواز داہانی پرفارم کر رہا ہے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں، پی ایس ایل کی ایمرجنگ کیٹگری میں تھا جو کہ ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے، اور بیسٹ بالر بھی بنا بھی تو بیس اوورز والی کرکٹ میں، لیکن لے کر جارہے ہیں اسے ٹیسٹ فارمیٹ میں۔ قائد اعظم ٹرافی میں اسکی وکٹیں ہیں، اور اس نے وہاں اچھی بالنگ بھی کی، لیکن جس فارمیٹ میں پرفارم کررہا ہے اس میں منتخب نہیں ہورہا ہے۔’
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر شاہنواز داہانی کو زمبابوے لے گئے تھے تو وہاں موقع دینا چاہئے تھا کیونکہ زمبابوے ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں نسبتاً کمزور ٹیم تھی، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور فہیم اشرف کی موجودگی میں شاہنواز داہانی کو ٹیسٹ الیون میں موقع ملنا ، بقول ان کے مشکل لگتا ہے۔
کیا شاداب خان کو کرکٹ سے بریک لینا چاہئے؟
اچھے سے اچھا کھلاڑی بھی ہر میچ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکتا، لیکن ہر کھلاڑی یہ جانتا ہے کہ ایک خراب کارکردگی انٹرنیشنل میچ کا نتیجہ بدلنے کے لئے کافی ہے۔
قومی ٹیم کے نائب کپتان اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان شاید یہ ماننے کو تیار نہیں کہ ان کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ان سے بہتر لیگ اسپنر عثمان قادر کو کم مواقع مل رہے ہیں، اور آسٹریلوی بلے باز اسٹیو اسمتھ کے نقش قدم پر چلنا ان کے کیرئیر کے لئے نقصان دہ ہے۔
بقول ماجد بھٹی، شاداب خان کو وائٹ بال فارمیٹ میں نائب کپتان تو بنا دیا گیا ہے، لیکن ان سے بہتر کھلاڑی اسکواڈ میں موجود ہیں، جنہیں ان کی وجہ سے موقع نہیں ملتا۔
‘ہم بہت سارے لوگوں کو وقت سے پہلے اوپر لے جاتے ہیں اور پھر دھکا دے دیتے ہیں، شاداب خان کی نہ تو فٹنس ہے، نہ فارم ہے، نہ ہی پرفامنس۔ انہیں ماضی کی کارکردگی پر جنہوں نے منتخب کیا وہی ان کی ٹیم میں موجودگی کا جواب دے سکتے ہیں۔’
ان کا مزید کہنا تھا کہ زاہد محمود اور عثمان قادر کے ہوتے ہوئے شاداب خان کی قومی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی، بہتر تو یہی ہوگا کہ انہیں واپس ڈومیسٹک کرکٹ بھیجا جائے تاکہ وہ وہاں اپنی خامیاں دور کرنے کے بعد پاکستان کے لئے کم بیک کریں!
بلے بازوں کی ناکامی، قومی ٹیم کی سلیکشن پر سوالیہ نشان!
کیا سلیکٹرز کی جلد بازی قومی ٹیم کو اگلے ماہ شروع ہونے والے دورہ انگلینڈ اور اس کے بعد دورہ ویسٹ انڈیز میں مہنگی پڑے گی؟ کیا جیسے صہیب مقصود کو شاندار کارکردگی پر ٹیم میں واپس لائے، ویسے ناقص کارکردگی دکھانے والوں کو گھر نہیں بھیجا جانا چاہئے؟
سابق کپتان معین خان کے بیٹے اعظم خان ہوں، سابق کپتان محمد حفیظ ہوں یا قومی ٹیم کے جارح مزاج اوپنر فخر زمان، ان کی واجبی سی کارکردگی کسی بھی حال میں قومی ٹیم کے لائق نہیں۔
ویسے تو لاہور قلندرز کے محمد حفیظ نے 10 میچوں میں 271 اور فخر زمان نے 281 رنز بنائے، لیکن اہم میچز میں جب ان سے اچھی کارکردگی کی توقع تھی، تو ان میں سے کوئی بھی کام نہ آیا۔
دوسری جانب اعظم خان نے ایونٹ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے 10 میچز میں 174 رنز بنائے، جو نہ صرف کئی بلے بازوں سے کم تھے، بلکہ ان کے 134 کے اسٹرائیک ریٹ سے بہتر کئی اور کھلاڑیوں کے اسٹرائیک ریٹ تھے۔
ان کے برعکس ٹیم سے باہر رہنے والے صہیب مقصود نے 12 میچوں میں 428، شعیب ملک نے 13 میچوں میں 354 اور شان مسعود نے 7 میچز میں 209 رنز بناکر سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
He looked in silky touch tonight ??@shani_official #HBLPSL6 | #MatchDikhao | #MSvIU pic.twitter.com/PYRsydbFX0
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 19, 2021
فی الحال صہیب مقصود نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے لئے ٹیم میں جگہ بنائی ہے، لیکن امکان ہے کہ ورلڈ کپ کے اسکواڈ کے انتخاب سے قبل شعیب ملک اور شان مسعود کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔
اسٹار بالرز سے بہتر کارکردگی باہر بیٹھے بالرز نے دکھائی!
اور اگر بات باولرز کی جائے تو قومی ٹیم میں موجود بالرز سے بہتر کارکردگی انہوں نے دکھائی جو ٹیم میں ہیں ہی نہیں۔ قومی ٹیم میں شامل حارث رؤوف نے نو میچوں میں 10 وکٹیں تو حاصل کیں، لیکن 9.67 فی اوور کی اوسط سے پٹے، جو ایونٹ میں نو سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والے بالرز کی فہرست میں سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے وہاب ریاض 8.97، محمد حسنین 8.89 اور شاداب خان 8.33 کے اکانومی ریٹ سے پٹنے والے بالرزکو بھی پیچھے چھوڑ دیا، اور رنز روکنے کے بجائے رنز دینے والے بالرز بن کر سامنے آئے۔
ویسے تو ملتان سلطانز کے شاہنواز داہانی 8.42 اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد وسیم 8.4 بھی مہنگے بالرز ثابت ہوئے، لیکن ایک نے ایونٹ میں 20، اور دوسرے نے 12 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
صرف 7 میچز میں 12 وکٹیں حاصل کرنے والے عمران خان کا اسٹرائیک ریٹ بھی اچھا تھا، اور اکانومی ریٹ بھی، لیکن وہ قومی ٹیم کا حصہ نہیں۔
What a catch by @iMRizwanPak!#HBLPSL6 | #MatchDikhao | #MSvPZ pic.twitter.com/m18SXsamol
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) June 24, 2021
پاکستان ٹیم میں شامل دو اسپنرز عماد وسیم اور محمد نواز نے بھی پی ایس ایل سکس میں سخت مایوس کیا، کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے 11 میچز کھیل کر صرف سات وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد نواز نے نو میچز کھیلے اور صرف تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
کھیل
پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
نشین، (جاپان) ابھیشیک شرما (61)، تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) اور شیوم دوبے (27 رن/2 وکٹ) کی شاندار کارکردگی کی بدولت ہندوستان نے ہفتہ کو ایشیائی کھیل 2026 کی کرکٹ مقابلے کے فائنل میں روایتی حریف پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کر لیا۔
212 رن کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان کی ٹیم کے لیے کپتان صاحبزادہ فرحان اور ماجد صاداقت کی افتتاحی جوڑی نے پہلی وکٹ کے لیے 33 رن جوڑے۔ چوتھے اوور میں واشنگٹن سندر نے صاحبزادہ فرحان (10) کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو پہلی کامیابی دلائی۔ اگلے ہی اوور میں اکشر پٹیل نے عثمان خان (3) کو آؤٹ کردیا۔ پاکستان کی تیسری وکٹ ساتویں اوور میں ماجد صاداقت (23) کے طور پر گری۔ اس کے بعد حسن نواز اور صائم ایوب کی جوڑی نے پاکستان کی اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 87 رن جوڑ کر پاکستان کی میچ میں واپسی کرائی۔ 15ویں اوور میں شیوم دوبے نے صائم ایوب (29) کو آؤٹ کرکے اس شراکت داری کا خاتمہ کیا۔ 18ویں اوور میں واشنگٹن سندر نے عبدالصمد (9) کو آؤٹ کرکے پاکستان کو پانچواں جھٹکا دیا۔ اس دوران حسن نواز نے ایک سرا سنبھالے رکھتے ہوئے تیزی سے رن بنائے۔
شیوم دوبے نے انہیں میچ کی آخری گیند پر وکٹ کیپر سنجو سیمسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ انہوں نے 51 گیندوں میں 5 چوکے اور 7 چھکوں کی مدد سے 96 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی ٹیم مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 192 رن ہی بنا سکی اور مقابلہ 19 رن سے ہار گئی۔ہندوستان کی جانب سے شیوم دوبے، واشنگٹن سندر اور اکشر پٹیل نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے پہلے آج یہاں ابھیشیک شرما (61) اور تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) کی جارحانہ نصف سنچری اننگز کی بدولت ہندوستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 212 رن کا ہدف دیا تھا۔ ہندوستانی کپتان شریئس ایئر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلے بازی کے لیے اتری ہندوستانی ٹیم کو تیسرے اوور کی پہلی گیند پر وائبھو سوریہ ونشی (15) کے طور پر پہلا جھٹکا لگا۔ اگلے ہی اوور میں سنجو سیمسن (2) رن بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد کپتان شریئس ایئر نے ابھیشیک شرما کے ساتھ اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 42 رن کی شراکت داری ہوئی۔ آٹھویں اوور میں عرفات منہاس نے ابھیشیک شرما کو اسٹمپ آؤٹ کرکے اس شراکت داری کو توڑا۔ ابھیشیک نے 28 گیندوں میں 3 چوکے اور 7 چھکے لگاتے ہوئے 61 رن کی اننگز کھیلی۔
13ویں اوور میں ایشان کشن (20) رن اور اگلے اوور میں شریئس ایئر (21) رن بناکر آؤٹ ہوئے۔ شیوم دوبے نے 15 گیندوں میں 2 چوکے اور 2 چھکوں کی مدد سے 27 رن بنائے۔ ہندوستان نے مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 211 رن کا چیلنجنگ اسکور کھڑا کیا۔ تلک ورما نے 22 گیندوں میں 3 چوکے اور 4 چھکے لگاتے ہوئے ناٹ آؤٹ 51 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔ صائم ایوب اور ابرار احمد نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
سری نگر، موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن جموں و کشمیر نے سری نگر میں ایرانی کپ کے دوسرے دن زبردست حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مشکل حالات سے نکل کر ’ریسٹ آف انڈیا‘ کے خلاف پہلی اننگز میں 41 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
صبح 37 رنز پر چار وکٹ اور لنچ کے بعد 166 رنز پر آٹھ وکٹ کے مشکل مرحلے سے گزرنے والی موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن ٹیم کو تجربہ کار پارس ڈوگرا (75 رنز) اور نمبر 10 پر کھیلنے والے لون ناصر مظفر (58 گیندوں پر جارحانہ 64 رنز) نے سنبھالا اور ٹیم کو 278 رنز تک پہنچا دیا۔
’ریسٹ آف انڈیا‘ کی ٹیم پہلے دن 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کی برتری حاصل کرنے کی امیدوں کو اس وقت ابتدائی دھچکا لگا جب مکیش چودھری نے اوور نائٹ بلے باز شبھم کھجوریہ اور کامران اقبال کو پہلے ہی پانچ اووروں میں آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد ڈوگرا اور عبدالصمد نے 97 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا اور لنچ تک جموں و کشمیر کا اسکور 134 رنز پر چار وکٹ تک پہنچا دیا۔ صمد (57 رنز) اس جوڑی میں زیادہ جارحانہ رہے اور وقفے سے عین قبل انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 12ویں نصف سنچری مکمل کی۔
تاہم لنچ کے بعد ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے واپسی کرتے ہوئے صمد کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد کنہیا ودھاون، عابد مشتاق اور ساحل لوٹرا بھی 11 اوور کے دوران آؤٹ ہوگئے۔ 166 رنز پر آٹھ وکٹ گرنے کے بعد بھی جموں و کشمیر 71 رنز پیچھے تھی۔
اس کے بعد ڈوگرا اور مظفر نے نویں وکٹ کے لیے 64 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کا رخ بدل دیا۔
ڈوگرا 75 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی چودھری نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی، لیکن مظفر نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور آخری وکٹ کے لیے سنیل کمار کے ساتھ 48 رنز جوڑ کر جموں و کشمیر کو برتری دلا دی۔ مظفر بالآخر 64 رنز پر آؤٹ ہوئے اور جموں و کشمیر کی پوری ٹیم 278 رنز پر سمٹ گئی۔ چودھری نے 78 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے، جبکہ آکاش دیپ نے 43 رنز دے کر تین وکٹ لیے۔
جواب میں ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے اسٹمپس تک ایک وکٹ پر 24 رنز بنا لیے تھے اور وہ اب بھی 17 رنز پیچھے تھی۔ سودیپ گھرامی اور سَنَت سانگوان ناٹ آؤٹ تھے، جبکہ سست اوور ریٹ کے باعث 15 اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔
مختصر اسکور:
ریسٹ آف انڈیا: 237 اور 1/24 (سنیل کمار 1/9)، جموں و کشمیر: 278 (پارس ڈوگرا 75، لون ناصر مظفر 64، عبدالصمد 57؛ مکیش چودھری 5/78، آکاش دیپ 3/43) — 17 رنز پیچھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان
کراچی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم رضوان سے متعلق جاری معاملے پر بات کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونس خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے اور اس معاملے میں محتاط انداز میں گفتگو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ہم کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کیس سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔”
یونس خان نے کہا کہ محمد رضوان سے متعلق معاملہ ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آیا ہے، اس لیے کیس کا نتیجہ سامنے آنے تک اس پر گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے معاملات تقریباً چار ماہ تک جاری رہے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
