Connect with us

اہم خبریں

‘ایرانی ماڈل’ یا کوئی اور طریقہ، پاکستان افغان مہاجرین کی ممکنہ لہر سے کیسے نمٹے گا؟

Published

on

افغانستان میں جہاں ایک جانب امریکی افواج صدر جو بائیڈن کی انخلا کی پالیسی کے تحت تیزی سے وطن واپس لوٹ رہی ہیں وہیں افغان طالبان ملک کے زیادہ سے زیادہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ افغانستان کی اس صورتِ حال پر پاکستان مسلسل اپنی تشویش کا اظہار کرتا آ رہا ہے۔

پاکستان پہلے ہی ملک میں آباد لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنی معیشت پر بوجھ اور مکمل امن کے قیام میں ایک رکاوٹ قرار دیتا ہے اور ان کو بار بار جلد واپس جانے کی ہدایت کرتا رہتا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ہم نے ابھی تک 30 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی ہوئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک واپس چلے جائیں کیوں کہ ہم ایک اور ‘انفلکس’ یعنی مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد نہیں چاہتے۔

پاکستان کے شہر کراچی میں کیمپ ‘جدید’ کے نام سے قائم افغان بستی میں افغان مہاجرین کے رہنما سیداللہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

ان کے بقول، ’’کراچی میں آباد افغان مہاجرین افغانستان کے مختلف حصوں میں اپنے رشتہ داروں اور جاننے والوں سے رابطے میں ہیں اور یوں لگتا ہے کہ حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں وہ پاکستان ہجرت کر سکتے ہیں۔
پاکستانی حکومت کیا منصوبے بنا رہی ہے؟
افغان مہاجرین کے ممکنہ ریلے کے پیشِ نظر لائحہ عمل طے کرنے کے حوالے سے اب تک متعدد اجلاس ہو چکے ہیں جس میں مہاجرین کے مسئلے کو احسن طریقے سے ڈیل کرنے کے لیے متعدد آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں حال ہی میں ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس کے علاوہ بین الوزارت اور سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کے اجلاسوں میں اس معاملے پر تفصیلاً غور و فکر کیا گیا۔

پاکستان میں وفاقی سطح پر افغان مہاجرین کی دیکھ بھال سے متعلق اُمور کی نگران وزارت برائے ریاستی اور سرحدی امور (سیفران) کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بتایا کہ “حکومتِ پاکستان سمجھتی ہے کہ ملک میں پانچ سے سات لاکھ نئے افغان مہاجرین داخل ہو سکتے ہیں جب کہ مہاجرین پر کام کرنے والے عالمی اداروں کے مطابق یہ تعداد دو سے تین لاکھ ہو سکتی ہے۔”

اہل کار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اجلاسوں میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ پاک افغان سرحد پر افغان مہاجرین کے داخلے کے لیے صرف تین باضابطہ سرحدی راستے (یا بارڈر کراسنگ پوائنٹس) کھولے جائیں گے جس میں خیبرپختونخوا میں طورخم (خیبر)، غلام خان (شمالی وزیرستان) اور ارندو (چترال) شامل ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایرانی ماڈل کی طرح مہاجرین کو سرحد میں قائم کیمپوں میں رکھا جائے۔
پاکستان میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ایرانی ماڈل کی طرح مہاجرین کو سرحد میں قائم کیمپوں میں رکھا جائے۔
خیال رہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے افغانستان کے ساتھ تقریباً 2500 کلو میٹر طویل سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ سرحد کا تقریباً 1229 کلو میٹر پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا جب کہ بقیہ حصہ صوبہ بلوچستان کے ساتھ لگتا ہے۔

کابل میں قائم ‘افغانستان انالسٹس نیٹ ورک’ نامی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد افغانستان کے ایک تہائی صوبوں سے منسلک ہے جب کہ سرحد پر 235 ایسے مقامات ہیں جہاں سے عوام، اسمگلرز اور شدت پسند غیر قانونی طور پر سرحد پار کرتے رہے ہیں۔

ایرانی ماڈل
پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے بھی گزشتہ ہفتے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں پاکستان میں نئے آنے والے افغان مہاجرین کی آباد کاری کے لیے ’ایرانی ماڈل‘ اپنانے کا عندیہ دیا تھا۔

سیفران اہلکار کا کہنا ہے کہ ’’پاکستانی حکومت بڑی سنجیدگی سے سوچ رہی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کے حوالے سے ایرانی حکومت کی جانب سے اپنائے گئے ماڈل کو اپنائے جس کے تحت مہاجرین کو پاک افغان سرحد پر پاکستانی حدود میں کیمپ بنا کر رکھا جائے اور ان کے پاکستانی شہروں اور قصبوں میں داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔”

خیال رہے کہ ہیومن رائٹس واچ سمیت متعدد عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ایرانی حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ غیر انسانی سلوک اور تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے۔

مئی 2020 میں ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے اپنے سرحدی علاقے میں مبینہ طور پر افغان مہاجرین کو ہلاک کیے جانے کے الزامات کے بعد تہران کی حکومت شدید تنقید کا نشانہ بنی تھی۔

افغانستان کی حدود ہی میں مہاجرین کیمپس
سیفران اہلکار کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک تجویز یہ بھی ہے کہ افغانستان کی حدود میں ہی پاک افغان سرحد پر مہاجرین کی آباد کاری کے لیے کیمپ تعمیر کیے جائیں جن کی امداد پاکستانی حکومت کرے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے گزشتہ ہفتے وائس اف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’اگر افغانستان میں حالات خراب ہوئے تو پاکستان مہاجرین کو قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کا بندوست بین الاقوامی قوتوں اور اقوامِ متحدہ کو افغانستان کے اندر ہی کرنا ہو گا۔”

ٹی ٹی پی کا خطرہ
پاکستانی حکومت کی جانب سے اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ افغان مہاجرین کے بھیس میں کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد بھی پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمٰن کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے 10 جولائی کو منعقدہ اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے بتایا تھا کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد مہاجرین کی آڑ میں یا بھیس بدل کر پاکستان آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان نے باڑ لگا کر بارڈر کراسنگ پر مؤثر نگرانی شروع کر دی ہے اور ساتھ ہی ساتھ افغان شہریوں کے لیے آن لائن ویزا کا اجرا بھی شروع کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی حکام اور سیکیورٹی کے ماہرین افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ٹی ٹی پی کی جانب سے سرحد پار حملوں میں اضافے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

پاکستان نے جون 2014 میں مختلف مقامی اور بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کی تھی جس کو آپریشن ‘ضربِ عضب’ کا نام دیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے سبب شمالی وزیرستان سے ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کے رہنما اپنے خاندانوں سمیت افغانستان کے سرحدی صوبوں میں منتقل ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ مہینوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اپنے ناراض دھڑوں، لشکرِ جھنگوی اور القاعدہ سے وابستہ چند گروہوں کی شمولیت کے بعد مزید منظم ہوئی ہے۔ دہشت گرد تنظیم نے سابق قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی فورسز اور قبائلی عمائدین پر حملوں کی تعداد بھی بڑھا دی ہے۔

پاکستانی سیاسی جماعتوں کی مخالفت
پاکستان کے چھوٹے صوبوں خصوصاً سندھ اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد پر ہی کیمپوں میں رکھا جائے اورشہروں تک نہ آنے دیا جائے۔

سندھ کے وزیر آب پاشی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما محمد اسماعیل راہو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ افغانستان میں خانہ جنگی جیسی صورت حال کے سبب مزید افغان مہاجرین کی نقل مکانی روکنے کے لیے وفاقی حکومت فوری طور پر سرحد کو سیل کرے اور اگر نقل مکانی ناگزیر ہو تو انہیں افغانستان سے ملحقہ علاقوں تک محدود رکھا جائے۔

ان کے بقول،’’وفاقی حکومت افغان مہاجرین کے لیے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں مہاجرین کیمپس قائم کریں اور انہیں سندھ کی جانب نہ بھیجے کیوں کہ سندھ مزید کسی بڑی ہجرت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ضیا الحق کے دور میں لائے ہوئے افغان مہاجرین ابھی تک واپس نہیں گئے۔

پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعداد
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ( یواین ایچ سی ار) کے ترجمان قیصر آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں موجود افغان شہریوں کو تین کیٹیگریز میں رکھا گیا ہے۔

قیصر آفریدی کے مطابق پہلی کیٹگری میں وہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین شامل ہے ہیں جن کی تعداد صرف 14 لاکھ ہے۔ انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے باقاعدہ نادرا کے رجسٹریشن کارڈز جاری کیے گئے ہیں جسے پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈز کہتے ہیں۔

ان کے بقول، ’’دوسری کیٹگری کو پاکستان کے ادارے نادرا نے افغان سٹیزن کارڈ جاری کیے ہیں اور ان کی تعداد آٹھ لاکھ 80 ہزار بتائی جاتی ہے۔ ان کی رجسٹریشن 2017 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ تیسری کیٹگری میں ایسے مہاجرین ہیں جن کے پاس ‘افغان سٹیزن کارڈ‘ اور ‘پروف آف رجسٹریشن‘ موجود نہیں ہیں۔ قیصر آفریدی نے سیفران کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایسے افراد کی تعداد چار سے پانچ لاکھ بتائی ہے۔

قیصر آفریدی کا کہنا ہے کہ یو این ایچ سی آر صرف پی او آر کارڈ ہولڈرز ہی کو افغان مہاجرین تسلیم کرتی ہے اور ان ہی کی کفالت پر مامور ہے۔

ان مہاجرین نے سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت یا بعد میں پسپائی کے بعد صورتِ حال کی وجہ سے نقل مکانی کی تھی اور افغان مہاجرین کی پاکستان کی موجودہ آبادی میں اکثریت وہ ہے جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے عہدے کا حلف لینے کے ایک ماہ بعد کراچی میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ اُن کی حکومت ایسے افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دے گی جو یہیں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔ مگر سندھ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کی مخالفت کے سبب وفاقی حکومت اس منصوبے پرکام نہیں کرسکی۔

تاہم وزیراعظم نے 2019 میں افغان مہاجرین کی سہولت کے لیے انہیں بینک میں کھاتے کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

Continue Reading

اہم خبریں

اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم

Published

on

جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔

اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔

حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔

حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔

سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔

اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔

Continue Reading

جموں و کشمیر

بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا

Published

on

بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔

اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔

ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔

اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

Continue Reading

اہم خبریں

عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری

Published

on

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔

قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔

خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔

گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”

کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”

احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔

خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”

انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔

(مصنف: پرویندر سندھو)

Continue Reading
Advertisement
ہندوستان11 hours ago

اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ

ہندوستان11 hours ago

مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور

دنیا11 hours ago

سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال

دنیا11 hours ago

یمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے

دنیا11 hours ago

ایران کا آبنائے ہرمز میں چار جہازوں پر حملے کا دعویٰ، تین دیگر بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے

جموں و کشمیر14 hours ago

انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما

جموں و کشمیر14 hours ago

بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد

دنیا16 hours ago

ٹرمپ کا ایران کو شکست دینے کا دعویٰ، جے سی پی او اے سے نکلنے کے فیصلے کا دفاع

دنیا16 hours ago

ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی

دنیا16 hours ago

سعودی عرب پر حملہ ہوا تو مصر دفاع کے لیے میدان میں آئے گا: السیسی

دنیا16 hours ago

ایران نے دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو حکومت کا تختہ الٹیں گے: نتن یاہو

دنیا16 hours ago

ایران کی امریکہ کو فوجی کارروائی کے سنگین نتائج کی وارننگ، توانائی منڈیاں تین سال تک غیر مستحکم رہنے کا خدشہ

دنیا17 hours ago

امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں

ہندوستان18 hours ago

سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم

جموں و کشمیر18 hours ago

جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا

دنیا18 hours ago

یوکرین مذاکرات میں پیش رفت کے درمیان ٹرمپ کا روس پر پابندیوں سے گریز

ہندوستان18 hours ago

راہل گاندھی ”پارٹ ٹائم لیڈر، فل ٹائم سیاح” ہیں: شیوراج سنگھ چوہان

ہندوستان21 hours ago

مودی نے امت شاہ کو سالگرہ کی مبارک باد دی

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر پولیس نے کٹرا میں جعلی ٹریول ایجنٹ کو بے نقاب کیا

جموں و کشمیر1 day ago

دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’

دنیا1 day ago

ایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ، امریکہ کا تہران کے ساتھ امن معاہدہ انتہائی مشکل قرار

دنیا2 days ago

ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر کے اودھم پور میں سڑک حادثہ، دو ہلاک، 15 زخمی

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا

ہندوستان2 days ago

نوجوان فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں: مرمو

ہندوستان2 days ago

دسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کا ہدف: شاہ

ہندوستان2 days ago

پی ایم۔ دکش یوجنا میں بھی ‘ دکشتا’ نہیں دکھا سکی مودی حکومت: کانگریس

ہندوستان2 days ago

منی پور کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مودی، شاہ جواب دیں: کھرگے

دنیا2 days ago

ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں، ناکام سفارت کاری کا نتیجہ ہے موجودہ جنگ

دنیا2 days ago

ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں

دنیا2 days ago

ایران: “ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا”

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر: اودھم پور میں بس سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار، 17 مسافر زخمی

ہندوستان2 days ago

وزیر اعظم مودی نے پولیس یادگاری دن پر فرض کی ادائیگی کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا

دنیا2 days ago

امریکہ اور اسرائیل نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس

جموں و کشمیر3 days ago

لداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا

ہندوستان3 days ago

راجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل

ہندوستان3 days ago

آر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل

دنیا3 days ago

فرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ

دنیا3 days ago

ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ

جموں و کشمیر3 days ago

عمر عبداللہ نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر میں دربار موو، دفاتر 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے

جموں و کشمیر3 days ago

سجاد لون کی اسمارٹ میٹرنگ پر جموں و کشمیر حکومت پر تنقید، کیبل پالیسی کو عوام کے لیے ‘حیران کن تحفہ’ قرار دیا

دنیا3 days ago

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن

دنیا3 days ago

ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی

ہندوستان3 days ago

بچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…

ہندوستان3 days ago

حلقہ بندی پر نئی تجویز ہے تو عام کریں، کل جماعتی اجلاس بلائیں: کانگریس

دنیا3 days ago

جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا

دنیا3 days ago

ہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو

دنیا3 days ago

پوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ

ہندوستان3 days ago

کھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان7 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

ہندوستان6 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر8 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین8 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

پاکستان5 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

تازہ ترین9 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

اہم خبریں9 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

جموں و کشمیر7 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین9 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تجزیہ10 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

جموں و کشمیر2 months ago

اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل9 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین9 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین9 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین9 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

اہم خبریں9 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

دنیا9 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین9 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تازہ ترین9 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین12 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

ہندوستان9 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین10 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

دنیا8 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تجزیہ11 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

جموں و کشمیر9 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

جموں و کشمیر8 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

تازہ ترین9 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

اداریہ5 years ago

اردو شعر و ادب کا ’تحریک آزادی‘ میں ناقابل فراموش کردار رہا ہے: پروفیسر نجمہ اختر

جموں و کشمیر12 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

جموں و کشمیر6 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر7 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر8 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین8 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں9 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں9 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین9 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر12 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر3 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین4 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین4 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر4 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین4 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین4 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین4 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر4 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر4 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین4 years ago

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر4 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین4 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین4 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر4 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین4 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending