تازہ ترین
برنگی دریا کا پانی موڑنے کے باوجود بھی دوسری جگہ پانی زیر زمین غائب ہورہا ہے،ہزاروں مچھلیاں ہلاک
سری نگر، (یو این آئی): جنوبی ضلع اننت ناگ کے واں دیولگام علاقے میں برنگی دریا کے پانی کو دوسری جگہ موڑنے کے باوجود بھی پانی مسلسل زیر زمین غائب ہو رہا ہے اور 15سے 20 کلومیٹر تک نالہ خشک ہو گیا جس وجہ سے ہزاروں مچھلیاں ہلاک ہوئی ہیں جبکہ نالہ کے اردگرد علاقوں کے لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری طورپر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو ہزاروں ہیکٹر اراضی پانی کی قلت کی وجہ سے بنجر میں تبدیل ہو کر رہ جائے گی۔
مائننگ آفیسر کے مطابق کشمیر یونیورسٹی، این آئی ٹی اور جیالوجی اینڈ مائننگ محکموں کے ماہرین نے برنگی دریا کا جائزہ لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ پانی میں پی ایچ کی مقدار زیادہ ہوجانے کی وجہ سے پتھر گھس چکے ہیں جس وجہ سے زمین پانی کو جذب کررہا ہے۔
یو این آئی اردو کے نامہ نگار نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے معروف سیاحتی مقام کوکر ناگ سے تقریباً پانچ کلومیٹر کی دوری پر واقع علاقہ واں دیولگام کے مقام پر برنگی دریا میں ایک ہفتے قبل آبگیرہ کی شکل میں ایک بڑا گڑھا رونما ہوا جس کے بعد پانی اس گڑھے سے ہوتے ہوئے غائب ہو رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کئی روز تک پانی زیر زمین غائب ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر اننت ناگ پیوش سنگلا اور ماہرین کی ٹیم برنگی دریا پر پہنچی اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد نالہ کے پانی کو دوسری جگہ سے موڑنے کے احکامات جاری کئے۔
تین روز قبل برنگی دریا کے پانی کو موڑ دیا گیا لیکن ماہرین کی پیروں تلے اُس وقت زمین کھسک گئی جب اُن کے مشاہدے میں آیا کہ پانی ایک جگہ پر ہی جمع ہے اور یہ آگے نہیں بڑھ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ منگل کے روز ماہرین کی مزید کئی ٹیموں نے برنگی دریا کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ دوسری جگہ بھی پانی زیر زمین غائب ہو رہا ہے جس وجہ سے 15سے 20 کلومیٹر تک کا نالہ خشک ہو گیا ہے۔

تصویریو این آئی
ضلع اننت ناگ کے مائننگ آفیسر شوکت احمد نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی، این آئی ٹی اور جیالوجی اینڈ مائننگ کی ٹیموں نے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طورپر معلوم ہوا کہ پانی میں پی ایچ کی مقدار بڑھنے کے باعث پتھر گھس رہے ہیں جس وجہ سے پانی زیر زمین غائب ہو نے کا عمل شروع ہوا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ نالہ کے نیچے بڑا سوراخ بن گیا ہو جس وجہ سے پورا پانی وہاں سے کسی اور جگہ پر بہہ ہو رہا ہو۔مذکورہ آفیسر کا کہنا تھا کہ مقامی لوگوں نے بتایا کہ 27برس قبل اسی مقام پر ایک گہرا گڑھا بن گیا تھا اوراُس وقت بھی پانی زیر زمین غائب ہو گیا جس کے بعد ماہرین کو پتہ چلا تھا کہ پانی اچھ ول نالہ میں بہہ رہا ہے۔مائننگ آفیسر کا مزید کہنا تھا فی الوقت ماہرین کو یہ پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ زیر زمین پانی کہاں جارہا ہے تاہم اس کا پتہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
آفیسر موصوف سے جب پوچھا گیا کہ برنگی دریا میں پانی غائب ہونے سے آس پاس علاقوں کا اگریکلچر اور ہاٹی کلچر شعبہ متاثر ہوسکتا ہے تواس نے بتایا کہ چونکہ اس نالہ کے اردگرد متعدد بستیاں آباد ہیں لہذا یہ قدرتی امر ہے کہ اُنہیں پانی کی عدم دستیابی کا سامنا کرناپڑسکتا ہے۔اادھرماہر موسمیات فیضان نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات چیت کے دوران بتایا کہ پوری دنیا کا اگر جائزہ لیا جائے تو نالوں کے بیچ و بیچ ایسے گڑھا رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ پانی میں پی ایچ کی مقدار زیادہ ہونے سے نالوں پر گڑھے نمودار ہوتے ہیں۔موصوف نے بتایا کہ ماہرین کو یہ دیکھنا چاہئے کہ آخر زیر زمین پانی کہاں پر بہہ رہا ہے۔اُن کے مطابق برنگی دریا کا 15سے 20کلومیٹر کا علاقہ خشک ہو گیا ہے اگر صورتحال پر فور ی طورپر قابو نہیں پایا گیا تو آس پاس علاقوں میں ہاٹی کلچر اور اگریکلچر شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جہاں تک گڑھے کا تعلق ہے تو ماہرین کو یہ پتہ ہی نہیں کہ مذکورہ گڑھا کتنا گہرا ہے اور اس کی بھرائی مکمل ہونے میں کتنا وقت صرف ہوگا۔
دریں اثنا مقامی ذی شہریوں نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ برنگی دریا کا پانی زیر زمین غائب ہونے سے اُنہیں فکر وتشویش لاحق ہو گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ نالہ برنگی کے اردگرد درجنوں گاؤں آباد ہے اور پانی کا واحد ذریعہ برنگی دریا ہی ہے لہذا اگر اس معاملے کو جلد از جلد نہیں سلجھایا گیا تو آس پاس علاقوں کی اراضی بنجر میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
اُن کے مطابق لوگ ہی اس کے ذمہ دار ہے کیونکہ ہم نے نالوں کو ڈمپنگ سائٹ میں تبدیل کیا اور قدرتی نے اب پانی جیسی انمول شئے کو لوگوں تک پہنچنے کے بجائے زمین کے اندر ہی جذب کرنا شروع کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر چہ یہ جغرافیائی عمل ہے اور ماہرین اس کا جائزہ لے رہے ہیں لیکن دریاؤں اور ندی نالوں کے ساتھ ہر گز چھیڑ چھاڑ نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ ایسا کرنے سے قدرت کا قہر نازل ہوتا ہے اورا یسی ہی صورتحال ہمیں نالہ برنگی میں دیکھنی کو مل رہی ہیں۔علاوہ ازیں بدھ کے روز انتظامیہ نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے تلقین کی ہے کہ وہ نالہ برنگی کے نزدیک جانے گریز کریں۔
انہوں نے بتایا کہ ایس ڈی ایم نے نالہ کے اردگرد دفعہ 144نافذ کیا ہے لہذا جو کوئی بھی خلاف ورزی کرنے کا مرتکب پایا جائے گا تو اُس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
