تازہ ترین
حکومت جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے حقوق سلب کرنے سے گریز کریں: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سری نگر، (یو این آئی): نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ کا کہنا ہے کہ نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا دارومدار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے، جس قوم کا نوجوان بیدار اور باشعور ہوگا اُس کا مستقبل محفوظ، روشن اور تابناک ہونے طے ہوتا ہے۔
ان باتوں کا اظہارموصوف نے جموں میں واقع اپنی رہائش گاہ پر جموں زون سے وابستہ یوتھ ونگ کے پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ نئی نسل ہی ملک میں مثبت تبدیلی لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور ایسے میں نوجوانوں پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو آگے چل کر تمام معاملات کی بھاگ ڈور سنبھالنی ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ نیشنل کانفرنس نے نوجوانوں کو آگے لانے کا سلسلہ روز اول سے ہی جاری رکھا ہے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کی یوتھ ونگ سے وابستہ نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح پر لوگوں کیساتھ رابطے میں رہیں اور اُنہیں اس بات سے باخبر کریں کہ ہم کہاں تھے اور آج ہم کہاں پہنچ گئے ہیں۔
مسٹرعبداللہ کے مطابق مرکز کے غیر سنجیدہ اور غیر دانشمندانہ اقدامات اور سخت گیر پالیسی نے ہمارے لوگوں کی حالت کی قدر غیر بنا دی رہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زمینی سطح پر لوگوں کے مسائل و مشکلات دیکھیں اور اُن کی آواز بند کر اُن کے مسائل و مشکلات اُجاگر کریں۔
انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کو خود کو عوام کیلئے وقف کرنا چاہئے کیونکہ آپ میں ہمت، صلاحیت، جوش اور جذبے کی کوئی کمی نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کا لائحہ عمل، نیا کشمیر پروگرام اور پارٹی کا ایجنڈا عوام تک پہنچانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کی شناخت، انفرادیت، اجتماعیت، مذہبی ہم آہنگی اور یکساں ترقی کیلئے نوجوانوں کو اپنا رول نبھانا ہوگا۔
پبلک سروس کمیشن کی طرف سے 31اکتوبر 2019 سے قبل کی 1500سے زائد اور باڈر بٹالین کے لئے لئے گئے امتحانات کو رد کرنے کو مقامی نوجوانوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے نیت صاف دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
اُن کے مطابق یہ لوگ ان اسامیوں پر نئے سرے سے امتحانات لیکر باہری ریاستوں کے اُمیداروں کیلئے میدان کھلا چھوڑنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ہوش کے ناخن لیکر ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لیکر ان کے نتائج کا اعلان کریں اور مقامی نوجوانوں کے حقوق پر شب خون مارنے سے گریز کریں۔
اس موقعے پر دیگر لوگوں کے علاوہ زون صدر جموں سندیپ سنگھ، نائب صدر صوبہ گھورو کپور،ضلع صدر جموں تیجندر سنگھ، ضلع سکریٹریساہل کیرنی، مزمل ملک، یاسین اور میر چودھری بھی موجود تھے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
