تازہ ترین
برنگی نالہ کا پانی اچھ بل میں پھوٹ رہا ہے، دلچسپ واقعے کے دلچسپ نتائج برآمد/این آئی ٹی سری نگر کے ماہرین کی رپورٹ
سری نگر،(یو این آئی): جموں وکشمیر کے ضلع اننت ناگ کے واں دیلگام کے نزدیک نالہ برنگی کاپانی زیر زمین غائب ہونے کے سلسلے میں این آئی ٹی سری نگر کے ماہرین کی تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پانی آبگیرہ سے سولہ کلو میٹر کلے فاصلے پر اچھ بل میں پھوٹ رہا ہے۔
ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ پیوش سنگلا نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’کوکر ناگ آبگیرہ کے متعلق نیشنل انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی (این آئی ٹی)کی اسٹیڈی کے مشاہدے کے مطابق اس آبگیرے کو 16 کلو میٹر کے فاصلے پر اچھ ول کے مقام پرایک آوئٹ لٹ(پانی نکلنے کی جگہ) ہے نزدیکی علاقوں میں مزید آؤٹ لیٹس ہوسکتے ہیں دلسپ واقعے کے دلچسپ نتائج‘۔
قابل ذکر ہے کہ رواں سال فروری کے پہلے ہفتے میں جنوبی کشمیر کے معرو ف سیاحتی مقام کوکر ناگ سے تقریباً پانچ کلومیٹر کی دور پر واقع علاقہ واں دیلگام کے مقام پر برنگی نالہ میں آبگیرہ کی شکل میں ایک بڑا گڑھا رونما ہوا تھا جس وجہ سے پانی زیر زمین غائب ہو رہا تھا۔نالہ برنگی کا پانی غائب ہونے کی خبر پوری وادی میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور دور دراز علاقوں سے لوگ اس کا مشاہدہ کرنے کی خاطر واں دیلگام پہنچنے لگے۔
ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ پیوش سنگلا نے انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر واں دیلگام میں دفعہ 144نافذ کیا جس کے بعد این آئی ٹی اور کشمیر یونیورسٹی کے ماہرین نے دریا کا بغور جائزہ لیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک جغرافیائی عمل ہے جو پوری دنیا میں ہو رہی ہے لہذا اس حوالے سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
دو ماہ کی کڑی مشقت کے بعد این آئی ٹی سری نگرکی ٹیم نے اپنی رپورٹ ضلع ترقیاتی کمشنر اننت ناگ کو سونپی جس میں بتایا گیا کہ واں دیلگام نالہ میں غائب شدہ پانی 16کلومیٹر کے فاصلے پر اچھ ول کے مقام پرنکل رہا ہے۔سب ضلع مجسٹریٹ کوکر ناگ مسٹر سارب نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ این آئی ٹی ماہرین نے4اپریل کو رپورٹ سونپی جسمیں کہا گیا ہے کہ واں دیلگام کا نویں فیصد پانی اچھ ول میں نکل رہا ہے اور یہ ایک جغرافیائی عمل ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماہرین نے سائنٹفک عمل کے ذریعے دیکھا کہ پانی اچھ ول میں ہی پھوٹ رہا ہے۔
اْن کے مطابق ماہرین نے پچاس سے ساٹھ نمونے اْٹھائے اور لیبارٹری میں اْن کے ٹیسٹ بھی کئے گئے جبکہ سٹیلائٹ کے ذریعے میپنگ بھی کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ دراصل نالہ برنگی اچھ ول چشمے کا ماخذ ہے۔موصوف ایس ڈی ایم کے مطابق سر والٹر لارنس نے سال 1898میں ہی اپنی کتاب ’دی ویلی آف کشمیر‘ میں اس کا تذکرہ کیا ہے کہ واں دیلگام کے مقام پر نالہ برنگی کا پانی اچھ ول میں نکل رہا ہے۔
بارشوں کے دوران پانی کی سطح بلند ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایس ڈی ایم نے کہا کہ چونکہ یہ عمل برسوں سے جاری ہے لہذا خطرے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ پھر بھی ہم اس کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں کہ گڑھے کی لمبائی کتنی ہے اور جہاں سے پانی اچھ ول کی طرف جا رہا ہے وہاں کتنے گاوں آباد ہیں۔
موصوف مجسٹریٹ نے بتایا کہ واں دیلگام کے مقام پر جو گڑھا نمودار ہوا تھا اس کی بھرائی کا کام مکمل کیا گیا اور پانی پہلے کی طرح بہہ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ اگست میں پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے جس کو دیکھتے ہوئے ہم نے برنگی نالہ کے اردگرد چھوٹے نالوں کے پانی کے ڈرائی ورشن پر کام شروع کیا ہے تاکہ لوگوں کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یو این آئی
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
