تازہ ترین
خشک سالی کا شاخسانہ: جموں وکشمیر کے جنگلوں میں آتشزدگی
سری نگر،(یو این آئی): جموں و کشمیر میں جاری خشک موسمی صورتحال کے چلتے جنگلات میں آگ لگنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگلوں میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ موجودہ خشک سالی ہے اور بارشیں ہونے سے اس آفت کو قابو میں کیا جا سکتا ہے۔
نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن(این اے ایس اے) کی فائر انفارمیشن فار ریسورس منیجمنٹ سسٹم (ایف آئی ایس ایم ایس) کی سیٹلائٹ تصویروں کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر کے آٹھ جبکہ جموں کے پچاس جنگلوں میں آگ لگ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق گذشتہ پندرہ دنوں کے دوران جموں وکشمیر کے جنگلوں میں آگ کی کم سے کم ایک سو وارداتیں پیش آئی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ خشک موسمی صورتحال جنگلوں میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ یونین ٹریٹری میں بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے آگ کی واردتیں کم ہونے کی امید ہے۔
قابل ذکر ہے کہ محکمہ ماحولیات اور ریموٹ سنسنگ کی ایک سروے کے مطابق جموں و کشمیر کی کل جنگل اراضی کا نصف رقبہ آگ لگنے کے سب سے زیادہ خطرناک اور درمیانی درجے کے خطرناک علاقوں میں آتا ہے۔
سروے کے مطابق جموں و کشمیر کے جنگلاتی ڈویڑنز کے 6646 کمپارٹمنٹس میں 27869.87 مربع کلو میٹروں کے کل رقبے میں سے 4282.21 مربع کلو میٹر آگ لگنے کے سب سے زیادہ خطرناک زون میں جبکہ9490.15 مربع کلو میٹر درمیانی درجے کے خطرناک علاقوں میں آتے ہیں۔سروے میں کہا گیا ہے کہ آگ سے پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے کے لئے فوری طور تفصیلی ایکشن پلان تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ذرائع کے مطابق جنوبی کشمیر کے سیر آباد پستونہ کے کپمارٹمنٹ نمبر26,27 اور 28 میں دو اپریل کو آگ لگ گئی تھی اور اس سے نوگڈی بٹی نور، زاجہ کھڈ، پنیر جاگیر، آری پل، وانتہ وگن، حاجن، ستورہ، نارستان وغیرہ جیسے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔
جنوبی کشمیر کے چیف فارسٹ کنزرویٹر عرفان شاہ نے یو این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ آگ دراصل وائلڈ لائف علاقوں میں لگ گئی ہے جہاں درخت کم اور گھاس زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے عملے، جس کو محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی، وائلڈ لائف، پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں نے مدد فراہم کی، نے اس آگ کو زیادہ پھیلنے سے روک دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب درجہ حرارت میں زیادہ اضافہ درج ہوتا ہے تو یہ آگ قدرتی طور پر لگ جاتی ہے۔موصوف عہدیدار نے کہا کہ بعض علاقوں میں گلہ بانوں نے گھاس کو آگ لگادی، جو پھیل گئی۔انہوں نے کہا کہ دراصل یہ ’فارسٹ فائر‘ نہیں بلکہ ’بش فائر‘ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس آگ سے گھاس جل گئی ہے تاہم کہیں کہیں درختوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا ہے فی الوقت یہ آگ قابو میں ہے۔
وائلڈ لائف رینج آفیسر کھنہ گنڈ بشیر بابا نے یو این آئی کو بتایا کہ اس آگ پر نوے فیصدی کنٹرول کیا گیا ہے اور اب کہیں کہیں صرف جھاڑیاں جل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس آگ سے درختوں کو نقصان نہیں پہنچا ہے تاہم جو درخت گر کر سوکھ گئے تھے وہ جل گئے ہیں اور اس کے علاوہ گھاس جل گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا اکتوبر کے مہینے میں ہوتا تھا لیکن خشک سالی سے یہ واقعات ماہ اپریل میں ہونے لگے۔موصوف عہدیدار نے کہا کہ ہم دن کو آگ بجھاتے تھے تو شام کو ہوا کے جھونکے اس آگ کو دوبارہ تیز کر دیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ بارشیں ہونے سے اس آگ کو پوری طرح سے قابو میں کیا جاسکتا ہے۔
ترال کے وائلڈ لائف رینج آفیسر نے کہا کہ چار اپریل کو یہ آگ نمودار ہوئی تھی جس کو قابو میں کر لیا گیا لیکن چھ اپریل کو کھریو سے یہ آگ دوبارہ نمودار ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ اس آگ سے گھاس وغیرہ کو نقصان ہوا درختوں کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اگر دیکھا جائے تو رواں سیزن میں اس قسم کی آگ نہیں لگتی تھی بلکہ اکتوبر یا نومبر کے مہینوں میں لگتیتھی۔
بتادیں کہ ماہرین موسمیات کا ماننا ہے کہ وادی کشمیر میں جاری خشک سالی آنے والے مہینوں میں پانی کی قلت کا بھی موجب بن سکتی ہے جس سے کسان طبقے کو گونا گوں مشکلات سے دوچار ہونے پڑ سکے گا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے سانکو ضلع کے قیام کا اعلان کیا
