Connect with us

تازہ ترین

واقعۂ کربلا

Published

on

ڈاکٹر غلام قادر لون
(یہ ڈاکٹر غلام قادر لون کی ایک تقریر ہے؛ جو انھوں نے بارہمولہ کی ایک تقریب میں کی تھی۔عزیزم سمنان صوفی نے اسے تحریری صورت میں پیش کیا ہے۔ افادہ عامہ کے لیے خذف و اضافہ کے بعد اسے شائع کیا جاتا ہے۔)

واقعہ کربلا کے تذکرے میں بعض کتابوں میں آیا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب اہل بیت کے ساتھ میدان کربلا میں تھے تو رات کو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسین سے فرمایا کہ آپ اس جگہ شہید ہوجائیں گے۔ چنانچہ دیکھتےہیں کہ عمربن سعد نے جو پیش کش کی تھی حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ٹھکرا دیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ ابن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی کہا تھا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے نتیجہ کچھ بھی ہو میں وہ کام ضرور انجام دوں گا۔ جب انہوں نے اس کام کے بارے میں سوال کیا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں وہ راز افشا نہیں کروں گا جب تک خدا کے حضور نہیں پہنچ جاؤں گا۔ چنانچہ جب بعض صحابہ نے انہیں مشورے دئے کہ آپ کوفہ نہ جائیں؛ آپ کے شہید ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ تو انھوں نے یہ تمام مشورے نظر انداز کئے اور کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔

شہادت حسین کے واقعہ نے مسلمانوں کی تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اس واقعے کا پس منظر جاننےکے لیے ضروری ہے کہ واقعہ سے پہلے کے پچاس برسوں کی تاریخ دیکھی جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد کسی کو نامزد نہیں کیا تھا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علالت کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سترہ نمازوں کی امامت کی تھی جو اس امر کا واضح اشارہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جانشین ہوں گے۔ سقیفہ بنی ساعدہ کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کے سامنے اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ہیں ان دونوں میں کسی ایک کی بیعت کرلو مگر ان دونوں کا جواب تھا کہ آپ کے ہوتے ہوئے کسی اور کی بیعت کیسے ہوسکتی ہے۔ چنانچہ صحابہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چن لیا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو سال تین ماہ خلیفہ رہے۔ وفات سے پہلے انھوں نے اپنے جانشین پر غور کیا اور صحابہ سے مشورے کے بعد انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جانشین نامزد کیا جو ان کے رشتہ دار نہ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور خلافت مسلمانوں کازریں دورتها۔ دس سال بعد جب آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو شہادت سے پہلے آپ نے چھ صحابہ نامزد کئے۔ ان چھ میں سے خلیفہ چننا تھا۔ چنانچہ ان چھ میں سے حضرت عثمان خلیفہ نامزد کئے گئے۔ان کی خلافت تیرہ سال تک رہی پہلے چھ سال امن میں گزرے مگر آخری برسوں میں ان کے خلاف۔ مختلف علاقوں میں شورشیں اٹھیں اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں صحابہ کو مدینہ میں رہنے کا پابند کیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کو اجازت دی کہ اسلامی قلمرو کے جس شہر میں چاہیں رہ سکتے ہیں۔ جن صحابہ نے اسلام کی خاطر جنگیں لڑی تھیں وہ ایک ایک کرکے دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔ اسلامی فتوحات کے فیض سے جو لوگ اسلام میں داخل ہو رہے تھے انہیں صحابہ کی طرح تربیت کا موقع نہیں ملا تھا۔شورشوں میں یہی لوگ حصہ لے رہے تھے۔ چنانچہ حضرت عثمان بے دردی سے شہید کئے گئے۔ جن لوگوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا وہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ بیعت کریں گے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا تو ان لوگوں نے کہا کہ اگر آپ ہماری بیعت نہیں مانیں گے تو آپ کو بھی قتل کریں گے۔ مجبوراََ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے بیعت لی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل کیا۔ ان کی ساری زندگی جنگوں میں گزری۔اس لیے حالات بد سے بدتر ہوگے۔ 40ھ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ شہید ہوگئے۔ ان کے بعد حضرت حسن خلیفہ ہونے وہ صرف چھ ماہ خلیفہ رہے۔ انھوں نے حضرت معاویہ سے مصالحت کی اور 41ھ میں بعض شرائط پر خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت معاویہ پورے عالم اسلام کے خلیفہ ہوگئے۔

۲۲ رجب 60 ھ میں حضرت معاویہ کا انتقال ہوگیا۔ انھوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین نامزد کیا تھا۔ حضرت معاویہ کو اندیشہ تھا کہ حضرت عبد الرحمٰن بن ابوبکر ،حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت حسین کو خلیفہ تسلیم نہیں کریں گے۔ اول الذکر دو حضرات خلافت سے دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر کے بارے میں انہیں سخت خدشہ تھا۔ حضرت معاویہ نے یزید کو وصیت کی تھی ک اگر حضرت حسین کے ساتھ جنگ ہوجائے۔ تو ان پر قابو پانے کے بعد عزت اور احترام سے پیش آنا یہ ان کی آخری وصیت تھی۔

حضرت معاویہ کی وفات کے وقت مدینہ منورہ کے گورنر ولید تھے۔ انھیں جب خبر پہنچی کہ حضرت معاویہ کا انتقال ہوگیا اور یزید ان کے جانشین ہو گیے ہیں تو انھوں نے شام کے وقت حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلاوا ںیهجا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ساتھ تیس سپاہیوں کو لے کر ولید کے پاس آئے۔ انھوں نے سپاہیوں کو دارالامارت کے باہر بٹھایا اور خود ولید کے پاس اندر گئے۔ ولید نے انھیں حضرت معاویہ کے انتقال اور یزید کے خلیفہ ہونے کی خبر سنائی اور کہا کہ آپ یزید کی بیعت کریں۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ مجھ جیسا آدمی تنہا بیعت نہیں کرسکتا۔آپ مسجد نبوی میں کھڑے ہوں میں وہی جواب دوں گا۔ ولید کے پاس اس وقت مروان بھی تھا۔ اس نے ولید سے کہا کہ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی وقت بیعت لیں ورنہ وہ کبھی آپ کے ہاتھ نہیں آئیں گے مگر ولید نے مروان کی بات نہیں مانی اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رخصت کیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو مسجد نبوی میں رہے۔ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ شہید ہوجائیں گے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ چلے گئے اور وہاں تین مہینے قیام کیا۔ مکہ میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس کوفہ کے سرکردہ لوگوں کے خطوط آئے کہ آپ کوفہ تشریف لائیں اور لوگوں سے بیعت لے کر خلافت کا منصب سنبھالیں ۔ یہاں کے لوگ دل وجان سے آپ کی تشریف آوری کے منتظر ہیں۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا۔ وہ کوفہ روانہ ہوئے۔ دشوار گزار راستے سے سفر کرتے ہوئے وہ کوفہ پہنچے کوفہ میں ان کے آنے کی خبر ملی تو پہلے ہی دن دس ہزار لوگوں نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ بیعت کے لیے لوگ جوق در جوق آنے لگے تو حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسلم من عقیل نے خط لکھا کہ آپ فوراً کوفہ تشریف لائیں۔ یہاں کے لوگ تیار ہیں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس خط پہنچا تو انھوں نے کوفہ روانہ ہونے کی تیاری کی۔ جب یہ خبر مکہ میں پھیلی تو بڑے بڑے صحابہ ان کے پاس آئے اور انھیں کوفہ جانے کا ارادہ ترک کرنے کی استدعا کی۔ کیوں کہ کوفہ کے لوگوں نے حضرت علی اور حضرت حسن کے ساتھ دغا بازی کی تھی۔ مگر حضرت حسین نے ان کی بات نہیں مانی – جب حضرت عبداللہ بن عباس نے دیکھا کہ آپ کوفہ جانے کے لیے مصر ہیں تو کہا کہ کم از کم اپنے بال بچوں کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں مگر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ مانے۔ یہ دیکھ کرحضرت عبداللہ بن عباس روتے ہوئے ان سے رخصت ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر نے سنا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفہ جارہے ہیں تو انھوں نے بھی کوشش کی حضرت حسین کوفہ جانے سے باز رہیں۔ مگر ان کی کوشش بھی بےسود رہی۔ اس وقت کوفہ کے گورنر حضرت نعمان بن بشیر تھے۔ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ میں انصار کے یہاں سب سے پہلے یہی پیدا ہوئے تھے ، وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں مسلم بن عقیل کی بیعت کر رہے ہیں مگر انھوں نے تعرض نہیں کیا۔ چنانچہ عمار بن ولید نے یزید کو ایک خط بیھجکر کوفہ کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ بنو امیہ کے طرف داروں نے بھی خطوط لکھے کہ نعمابن بشیر سے ان خطرات کا تدارک نہیں ہوسکتا۔

یزید کو اس کے عیسائی مشیر سبرحون نے مشورہ دیا کہ نعمان بن بشیر کو معطل کیا جائے اور انکی جگہ عبید اللہ ابن زیاد کو گورنر مقرر کیا جائے ابن زیاد اس وقت بصرہ کا گورنر تھا اب کوفہ بھی ان کی ولایت میں دیا گیا ابن زیاد بڑا شاطر تھا اس نے کوفہ جانے کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جو مدینہ منورہ سے کوفہ آتا تھا۔ وہ حجازی لباس پہنے تھا اس کے ساتھ 17 سوار تھےبصرہ میں داخل ہوتے وقت لوگ سمجھے کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ تشریف لائے ہیں وہ لوگوں سے السلام علیکم کہتا تو لوگ وعلیکم السلام مرحبا یا ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے۔قصر امارت تک یہی حال رہا قصر امارت میں حضرت نعمان بن بشیر کو بھی دھوکا ہوا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں انہوں نے قصرامارت کے دروازے بند کیے اور کہا کہ میں تو نہ امارت آپ کے حوالے کروں گا اور نہ آپ سے لڑوں گا دوسری طرف سے آواز آئی دروازہ کھولو ورنہ میں خود کھولوں گا تو انہوں نے دروازہ کھول دیا۔ وہ اب بھی یہی سمجھے کہ حضرت حسین ہے مگر اندر جا کر معلوم ہوا کہ یہ ابن زیاد ہیں اس پر حضرت نعمان بن بشیر کو سخت ندامت ہوئی۔ قصر امارت میں داخل ہوکر ابن زیاد نے منادی کرا دی لوگ جمع ہوگئے۔ ابن زیاد لوگوں کے سامنے آیا اور تقریر کی کہ امیرالمومنین یزید نے مجھے تم پر حاکم بنا کر بھیجا ہے انہوں نے حکم دیا کہ ک فرمان بردار لوگوں پر احسان کرو اور نافرمانوں پر سختی کروں۔تقریر کے بعد اس نے کوفہ کے سرکردہ لوگوں کو گرفتار کرلیا اور ان سے ضمانت لی کے وہ کسی مخالف کو اپنے گھر میں پناہ نہیں دیں گے۔ اگر کسی نے کسی مخالف کو پناہ دے رکھی ہے تو وہ اسے حوالے کرے گا خلاف ورزی کرنے والوں کے جان و مال حلال ہوں گے۔ میں انھیں قتل کر کے ان کے سر انہیں کے دروازوں پر لٹکادوں گا اس کے ساتھ ساتھ ان کے گھر والے کبھی محفوظ نہیں ہوں گے۔

کوفہ کے لوگ ان دھمکیوں سے مرعوب ہو گئے جن لوگوں نے مسلم بن عقیل کی بیعت کی تھی ان میں سے صرف پانچ سو شام تک ان کے ساتھ رہ گئے۔اندھیرا چھا گیا تو وہ بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوگئے۔ مسلم بن عقیل اس وقت تک مختار بن عبید کے گھر میں تھا انہوں نے حالات کا رخ دیکھ کر مختار کا گھر چھوڑا اور ہانی بن عروہ کے گھر میں پناہ لی۔ ابن زیاد نے ایک جاسوس کے ذریعے پتہ لگایا کہ مسلم بن عقیل نے ہانی کے گھر میں پناہ لے رکھی ہے۔ اس کے بعد مسلم بن عقیل کے پاس کوفہ کے لوگ جمع ہو گئے انہوں نے اپنے جوانوں کو لے کر قصر امارت کا محاصرہ کیا۔ ابن زیاد نے اپنے محل میں موجود کوفہ کے سرداروں سے کہا کہ

وہ باہر نکل کر اپنے اپنے قبیلہ کے سپاہیوں کو مسلم بن عقیل کا سر چھوڑنے پر آمادہ کرے ان سرداروں کے کہنے پر ان کے قبیلوں کے سپاہیوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور صرف تیس جوان ان کے ساتھ رہ گئے۔ مغرب کے بعد اندھیرا چھا گیایا تو یہ بھی غائب ہوگئے چنانچہ انہوں نے ایک عورت کے مکان میں پناہ لی۔ ابن زیاد نے منادی کرا دی کہ تمام لوگ شہر کی جامع مسجد میں عشاء کی نماز پڑھیں جامع مسجد میں نماز پڑھا کر ابن زیاد نے تقریر کی اور لوگوں کو ڈرایا دھمکایا اس نے مسلم بن عقیل کو پکڑنے کے لیے حصین بن نمیر کو کوفہ کے ہر گھر کی تلاشی لینے کا حکم دیا۔ مسلم بن عقیل نے جس عورت کے گھر میں پناہ لی تھی اس کے بیٹے نے خود ہی کو کوفہ کے سردار کے بیٹے سے کہا کہ مسلم بن عقیل اس کے گھر میں موجود ہیں سردار کو جب پتہ چلا تو اس نے ابن زیاد کو اطلاع دی اس نے فوراً حکم دیا کہ مسلم کو گرفتار کر کے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ مسلم بن عقیل نے اپنی پناہ گاہ کے باہر لوگوں کے شور کی آواز سنی تو وہ سمجھ گئے کہ انھیں گرفتار کرنے کے لیے دشمن کے سپاہی آگئے ہیں وہ ہاتھ میں تلوار لے کر تن تنہا بڑی دلیری سے لڑنے لگے زخموں سے چور ہو کر دیوار کے سہارے کھڑے ہوگئے تو سپاہیوں نے گرفتار کر کے تلوار چھین لی۔ ابن زیاد کے محل میں پہچائے گئے جہاں چھت پر لے جا کر انہیں شہید کیا گیا۔ یہ واقعہ 9 ذالحجہ 60ھ کو پیش آیا ابن زیاد نے ان کا سر یزید کے پاس دمشق بھیج دیا اس کے بعد ایک شخص ان کے دو کم سن بچوں کے سر بھی ابن زیاد کے پاس لاۓ جو کربلا کی تاریخ کا ایک اور دردناک سانحہ ہے۔

حضرت حسین اسی دن کوفہ کے سفر پر روانہ ہوئے جس روز مسلم بن عقیل شہید کئے گئے راستے میں مختلف مقامات پر عراق سے آنے والوں نے انہیں کوفہ نہ جانے کا مشورہ دیا مگر آپ نے نہ مانا۔ ثقعلیہ کے مقام پر اطلاع ملی کے مسلم بن عقیل شہید ہو گئے ہیں انہوں نے وصیت کی تھی کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے حالات سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ کوفہ نہ آئے۔ حضرت حسین نے لوگوں کو جمع کرکے تقریر کی کہ کوفہ کے حالات بدل گئے ہیں ہمارے لوگوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے تم میں سے جو واپس جانا چاہیے وہ واپس جائے ہماری طرف سے اس پر کوئی الزام نہیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر سب لوگ چپھنا شروع ہوۓ۔ جو راستے میں ان سے ملے تھے اور صرف وہی لوگ رہ گئے جو مدینہ سے آئے تھے کچھ لوگوں نے رائے دی کہ ہمیں واپس چلنا چاہیے مگر مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے واپس جانے سے انکار کیا۔ چلتے چلتے 6 محرم 61ھ کو ایک مقام پر پہنچ گئے۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مقام کا نام دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا کہ اس کا نام کربلا ہے۔

دوسرے دن ابن زیاد کے حکم پر عمر بن سعد چار ہزار سپاہ لے کر اسی جگہ پہچا عمر بن سعد کی کوشش تھی کہ حضرت حسین کو ان کے ہاتھوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے مگر ابن زیاد حسین سے بیعت لینے پر مصر تھا۔ 60 محرم تک عمر بن سعد اور حضرت حسین کے درمیان تھی بعد ملاقات ہوئی بعض مورخین لکھتے ہیں کہ عمر بن سعد نے حضرت حسین سے کہا آپ چلے جائیں جہاں آپ کو جانا ہے حضرت حسین رات کو چلتے تھے مگر صبح کو اسی جگہ ہوتے تھے جہاں سے سفر شروع کرتے تھے۔ اس سے حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ سمجھ گئے کہ مقتل یہی ہے ابن زیادہ 7 محرم کو ایک خط عمر بن سعد کو بھیجا جس میں اصرار کیا گیا تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ یز ید کی بیعت کریں۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ پر پانی بند کیا جائے چنانچہ عمر بن سعد نے 7 محرم کو حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کر دیا مگر عباس بن علی اپنے ساتھیوں کو لے کر دریا پر پہنچ گئے اور عمر بن سعد کے سپاہیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے مشکوں میں پانی بھر کر لائے

اس دوران عمر بن سعد اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی کئ بار ملاقاتیں ہوئیں عمر بن سعد نے ابن زیاد کو خط لکھا کہ خدا کا شکر ہے کہ فتنہ فرو ہو گیا۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالی نے تین تجاویز سامنے رکھی ہیں امید ہے آپ بھی ان تجاویز کو مانیں گے۔ ابن زیاد نے خط دیکھا تو اس نے بھی ان تجاویز کو ماننے کا عندیہ دیا مگر شمر آڑے آیا اس نے ابن زیاد سے کہا کہ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیں کہ اپنے آپ اور اپنے ساتھیوں کو آپ کے حوالے کردیں ابن زیاد؛ شمرکے جھانسے میں آیا۔ اس نے عمر بن سعد کو خط لکھا کے تم حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ڈھیل دیتے ہو ہم اس لیے آپ کو نہیں بھیجا ہے۔ اس نے شمر سے کہا کہ اگر عمر بن سعد میرا حکم بجالاۓ تو اس کی اطاعت کرنا اگر وہ حکم عدولی کرے تو اسے ہٹانا اور فوج اپنی ماتحتی میں لینا اور اس کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیجنا۔ ابن زیاد نے عمر بن سعد کے نام خط میں لکھا تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے ساتھیوں سے بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہنا اگر وہ مان جائیں تو سب کو حفاظت میں میرے پاس بھیجنا۔ اگر انکار کرے تو ان پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دو۔ اور قتل کے بعد ان کی لاش گھوڑوں سے روند ڈالو۔شمر نے خط لے جا کا عمر بن سعد کو دیا۔ عمر نے دیکھا تو سمجھ گیا کہ سارا کچھ شمر نے کروایا ہے۔ شمر نے عمر بن سعد سے کہا کیا تم امیر کے حکم کی اطاعت کرکے دشمن سے جنگ کرو گے تو مجھے بتاؤ اگر نہیں لڑنا ہے تو فوج کو حوالے کر دو۔ شمر کی پھوپھی ام البنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ ان سے حضرت علی کے چار بیٹے عباس ،جعفر عبداللہ اور عثمان تھے جو کربلا میں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۔ شمر نے ان چاروں کے لیے ابن زیاد سے امان حاصل کی تھی۔ جنگ سے پہلے اس نے ان چاروں کو بلایا اور کہا کہ میں نے ابن زیاد سے تم چاروں کے لیے امان حاصل کر لی مگر انہوں نے جواب دیا تم پر اور تمہاری امان پر لعنت ہو۔ ہمہارے لیے امان ہے مگر ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے امان نہیں تمہاری امان کے ہمیں حاجت نہیں۔

عمر بن سعدنے 9محرم ہی سے جنگ کی تیاریاں شروع کیں رات کو ان کی ملاقات حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی حضرت عباس سے ہوئی۔ انہوں نے ایک رات کی مہلت مانگی تاکہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور استغفار کرلیں عمر بن سعد نے یہ بات مان لیں اور واپس گئے اس کے بعد حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے تمام ساتھیوں کے سامنے تقریر کی۔ انہوں نے خدا کی تعریف کرتے ہوئے اور اپنے خاندان میں نبوّت کی نعمت کا تذکرہ کرتے ہوئے دعا کی اللہ ہم سب کو شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اہل بیت سے زیادہ نیک اور صلہ رحمی کرنے والے کبھی نہیں دیکھے۔ اے ساتھیوں کل کا دن میرے اور دشمنوں کے درمیان فیصلے کا آخری دن ہے میرے دشمنوں کو صرف میری ضرورت ہے میں تمہیں اجازت دیتا ہوں میری طرف سے کوئی گلہ نہ ہوگا اور رات ہوچکی ہے میرے اہل بیت کا ساتھ پکڑ لو اندھیرے میں ادھر ادھر چلے جاؤ اور اپنی جانوں کو بچاؤ۔

حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی تقریر سن کر ان کے بھائیوں، بیٹوں ،بھتیجوں اور عزیزوں نے بیک زبان کہا

ہم آپ کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے۔ اپنی جانیں، اپنے اموال اور اپنے اہل و عیال سب آپ پر قربان کریں گے جو انجام آپ کا ہوگا وہی ہمارا ہوگا۔ آپ کے تمام عزیزوں اور ساتھیوں نے جذبہ عقیدت کا اظہار کیا۔ اپنے عزیزوں اور ساتھیوں کا اخلاص دیکھ کر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت متاثر ہوئے۔

رات کو آپ نمازوں میں مشغول رہے۔ دعائیں نانگیں اور استغفار کرتے رہے۔ اپنی بہن حضرت زینب کو وصیت کی کہ جب میں مروں تو گریباں چاک نہ کرنا ، نوحہ اور آہ و بکا نہ کرنا۔

10 محرم الحرام 61 ھ ۱۱ اکتوبر ۱۸۶ ءجمعہ کا دن تھا۔ نماز فجر کے بعد حضرت حسین ؓ نے اپنے ساتھیوں کی صف بندی کی اس کے بعد آپ نے دشمن فوجوں کے سامنے تقریر کی۔ حضرت حسین ؓ کے ساتھ بتیس سوار اور چالیس پیادے تھے۔ آپ کی تقریر نے مخالف کیمپ کے ایک شخص جس کا نام حر بن یزید تھا؛ اسی نے پہلے حضرت حسین کا راستہ روک دیا تھا۔ اس نے اپنا کیمپ چھوڑا اور حضرت حسین کے ساتھ شامل ہوا۔ حر نے اپنی قوم سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر تم نے توبہ نہ کی تو قیامت کے دن پیاسے تڑپوگے۔ مگر ان کی تقریر کے بعد ہی عمربن سعد کے غلام درید نے یہ کہتے ہوئے تیر چلایا کہ لوگو! گواہ رہو سب سے پہلے میں نے تیر چلایا۔ اس کے بعد دونوں طرف سے ایک ایک دو دو آدمی نکلتے اور مبارزت طلبی کرتے مگر حضرت حسین کی طرف سے لڑنے والے بہادر تھے۔ اس لیے نقصان عمر بن سعد کے سپاہیوں کا ہوتا تھا۔ اس لیے شمر نے چاروں طرف سے حملہ کردیا۔ حضرت حسین کے ساتھی ایک ایک کرکے سب شہید ہوئے جن میں ۲۵ مرد اورایک عورت تھی۔ اب بنو ہاشم کی باری تھی۔ سب سے پہلے حضرت حسین کے بیٹے علی اکبر میدان میں آئے۔ اس کے بعد مسلم میں عقیل کے بیٹے اور بھائی نکلے اور ایک ایک کرکے سب شہید ہوئے۔ حضرت حسن ؓ کے بیٹے قاسم تلوار لیکر میدان میں نکلے تو عمرو بن سعد کے ایک سپاہی نے ان کی گردن پر تلوار ماری۔ قاسم زمین پر گرے تو حضرت حسین نے سپاہی پر حملہ کرکے اس کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ اسے اپنے ہی سپاہیوں نے گھوڑوں سے روند ڈال کرہلاک کردیا۔ حضرت حسین ؓ اپنے خیمہ کے سامنے کھڑے تھے۔ اسی وقت ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ بچہ حضرت حسین کے پاس لایا گیا۔ آپ اس کے کان میں اذان دینے لگے۔ عمرو بن سعد کے ایک سپاہی نے تیر مارا جو بچے کے حلق میں لگا اور وہ اسی وقت شہید ہوگیا۔ یہ کر بلا کا سب سے کم عمر شہید تھا۔ اہل بیت میں سے دو کمسن بچے بھی حضرت حسین کے دفاع میں میں نکلے وہ بھی شہید ہوگئے۔ شمر کے پھوبھی زاد بھائی عباس بن علی ؓ، عبداللہ بن علی ؓ، جعفر بن علی ؓ اور عثمان بن علی ؓ بڑی بے جگری سے لڑے اور داد شجاعت دیتے ہوئے ایک ایک کرکے سب شہید ہوئے۔ اس کے بعد حضرت حسین لڑنے لگے۔ شمر ایک جماعت لیکر آپ پر حملہ آور ہوا۔ ایک سپاہی نے حضرت حسین کے سر پر تلوار ماری جو ٹوپی کر چیرتی ہوئی سر پر لگی۔ آپ ٹوپی اتار کر سر پر پٹی باندھ لی اور سرپر ٹوپی لگاکر اس پر عمامہ باندھ لیا۔ اس دوران ان کا نو عمر بھتیجا ہاتھ میں لکڑی لے کر خیمے سے نکلا اور حضرت حسین کے پہلو میں کھڑا ہوگیا۔ بچے نے حملہ آور سپاہی ابی بن کعب سے کہا کہ ارے خبیث ! تو میرے چچا کو قتل کرے گا۔ ابی بن کعب نے تلوار مار کر بچے کا ہاتھ کاٹ ڈالا۔ بچہ تکلیف سے چلانے چیخنے لگا تو حضرت حسین نے اسے اپنی آغوش میں اٹھالیا۔

حضرت زینب ؓ اپنے دو بچوں عون اور محمد کو لے آئی۔ ان میں ایک کی عمر ۶ سال اور دوسرے کی عمر ۸ سال کی تھی اور انہوں نے حضرت حسین سے کہا کہ یہ دونوں آپ پر قربان ہوجائیں گے حضرت حسین نے کہاکہ ان دونوں کو آپ واپس لیجائیں۔ انہوں نے ابھی دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے مگر حضرت زینب نہ مانی یہ اتنے چھوٹے تھے کہ جب حضرت زینب نے ان کے کمر سے تلواریں باندھیں تو تلواریں زمین سے لگ رہی تھیں۔ یہ دونوں شہید ہوگئے۔

حضرت حسین کے بیٹے علی بن حسین ؓ جو زین العابدین کے لقب سے مشہور ہیں اس وقت بیمار تھے اور چارپائی پر لیٹے تھے۔ انہوں نے اسی حالت میں حضرت حسین سے اجازت طلب کی کہ میں بھی لڑوں گا مگر انہوں نے اجازت نہیں دی کہ تم بیمار ہو۔حضرت حسین خیمے سے نکلے اور بڑی بہادری سے لڑنے لگے۔ دشمن نے چاروں طرف سے ان پر حملہ کردیا آپ لڑتے لڑتے زخموں سے چور ہوچکے تھے۔ شمر کے ساتھیوں نے آپ پر تیروں کی بارش کردی۔ اسی دوران شمر چلایا تمہارا ناش ہو تم حسین کو قتل نہیں کرتے۔ یہ سن کر زرعہ بن شریک نے آپ کے بائیں بازو پر تلوار مار کر اسے جدا کردیا۔ پھر آپ کے شانے پر تلوار ماری سنان بن انس نے آپ کو نیزہ مارا جس سے آپ زمین پر گر پڑے۔ سنان نے آپ کا سر تن سے جدا کردیا۔

حضرت حسین ؓ کی شہادت کے بعد شمر اور اس کے سپاہی اہل بیت کے خیموں میں داخل ہوئے۔ شمر حضرت زین العابدین کو قتل کرنا چاہتے تھے جو بیمار تھے مگر حمید بن مسلم نے کہا کہ کیا تم بچوں کو بھی قتل کروگے۔ شمر کے دوسرے ساتھیوں نے بھی کہا کہ ہم اس بیمار کو قتل نہیں کریں گے۔ اسی دوران عمر بن سعد بھی آگیا اس نے کہا خبر دار کوئی شخص خیموں میں نہ جائے اور بیمار کو ہاتھ نہ لگائے اور جس نے جو کچھ لوٹا ہے وہ واپس کرے۔ اس نے خیموں پر کچھ سپاہی تعینات کئے تاکہ عورتوں اور بچوں کی حفاظت کی جائے۔

عمر بن سعد نے واپس آکر میدان میں پکارا کہ حسین کا جسم روندنے کے لیے کون کون تیار ہے۔ دس آدمیوں نے اپنے نام لکھوائے چنانچہ ان دس آدمیوں نے جسم اطہر کو روند ڈالا۔

شہادت کے وقت حضرت حسین کی عمر چھپن برس پانچ ماہ پانچ دن تھی۔آپ کے ساتھ بہتر آدمی شہید ہوئے جن میں اٹھارہ ابو طالب کی آل میں سے تھے۔ ان میں آپ کے بیٹے ، بھتیجے، بھانجے ، بھائی، چچازاد بھائی اور چچا زاد بھائیوں کے بیٹے تھے۔ عمر بن سعد کے اٹھاسی سپاہی کربلا میں ہلاک ہوئے تھے۔

شہادت کا یہ واقعہ یوم عاشورہ ١٠ محرام الحرام ٦١ ھ ۱۱ اکتوبر ۱۸۶ کو نماز ظہر کے بعد پیش آیا۔ اس دن جمعہ تھا۔ حضرت حسین نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دشمنوں سے کہو کہ وہ ہمیں نماز پڑھنے دیں مگر دشمنوں نے یہ بات نہ مانی اس لیے حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں نے میدان کا رزار ہی میں نماز خوف ادا کی۔

شہادت کے دو روز بعد عمر بن سعد اہل بیت کی عورتوں ، بچوں اور زین العابدین کو اپنے ساتھ لیکر کربلا سے کوفہ چلاگیا۔ ان کے جانے کے بعد ایک نزدیکی بستی غاصریہ کے لوگوں نے آکر نماز جنازہ ادا کی اور شہداء کی لاشیں دفن کردی۔

حضرت حسین ؓ نے کربلا کا راستہ اپنا کر دنیا کے تمام روشن ضمیروں کیلیے ایک نمونہ پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے انقلابی انہیں اپنا رہنما اور پیشوا مانتے ہیں:

انسان کو بیدار تو ہولینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؓ

حضرت حسین نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور ظلم کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان ، اپنی اولاد ، اپنا خاندان اور مال و متاع سب کچھ قربان کردیا اور یہ بلند مقام انہیں کیلیے خاص ہے۔ انہیں شہید کرنے والے بھی اپنے آپ کو دیندار سمجھتے تھے مگر بقول فیض:

جو ظلم پہ لعنت نہ کرے آپ لعین ہے

جو جبر کا منکر نہیں وہ منکر دین ہے

Continue Reading

ہندوستان

اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ

Published

on

نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔

مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔

مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔

یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔

یواین آئی ۔ ایف اے

Continue Reading

ہندوستان

مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور

Published

on

نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔

اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

یواین آئی ۔ ایف اے

Continue Reading

دنیا

سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال

Published

on

دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔

بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔

جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔

گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔

وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔

وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔

حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔

یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading
Advertisement
ہندوستان7 hours ago

اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ

ہندوستان7 hours ago

مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور

دنیا7 hours ago

سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال

دنیا7 hours ago

یمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے

دنیا7 hours ago

ایران کا آبنائے ہرمز میں چار جہازوں پر حملے کا دعویٰ، تین دیگر بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے

جموں و کشمیر10 hours ago

انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما

جموں و کشمیر10 hours ago

بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد

دنیا11 hours ago

ٹرمپ کا ایران کو شکست دینے کا دعویٰ، جے سی پی او اے سے نکلنے کے فیصلے کا دفاع

دنیا12 hours ago

ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی

دنیا12 hours ago

سعودی عرب پر حملہ ہوا تو مصر دفاع کے لیے میدان میں آئے گا: السیسی

دنیا12 hours ago

ایران نے دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو حکومت کا تختہ الٹیں گے: نتن یاہو

دنیا12 hours ago

ایران کی امریکہ کو فوجی کارروائی کے سنگین نتائج کی وارننگ، توانائی منڈیاں تین سال تک غیر مستحکم رہنے کا خدشہ

دنیا12 hours ago

امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں

ہندوستان14 hours ago

سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم

جموں و کشمیر14 hours ago

جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا

دنیا14 hours ago

یوکرین مذاکرات میں پیش رفت کے درمیان ٹرمپ کا روس پر پابندیوں سے گریز

ہندوستان14 hours ago

راہل گاندھی ”پارٹ ٹائم لیڈر، فل ٹائم سیاح” ہیں: شیوراج سنگھ چوہان

ہندوستان17 hours ago

مودی نے امت شاہ کو سالگرہ کی مبارک باد دی

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر پولیس نے کٹرا میں جعلی ٹریول ایجنٹ کو بے نقاب کیا

جموں و کشمیر1 day ago

دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’

دنیا1 day ago

ایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ، امریکہ کا تہران کے ساتھ امن معاہدہ انتہائی مشکل قرار

دنیا1 day ago

ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر کے اودھم پور میں سڑک حادثہ، دو ہلاک، 15 زخمی

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا

ہندوستان1 day ago

نوجوان فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں: مرمو

ہندوستان1 day ago

دسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کا ہدف: شاہ

ہندوستان1 day ago

پی ایم۔ دکش یوجنا میں بھی ‘ دکشتا’ نہیں دکھا سکی مودی حکومت: کانگریس

ہندوستان2 days ago

منی پور کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مودی، شاہ جواب دیں: کھرگے

دنیا2 days ago

ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں، ناکام سفارت کاری کا نتیجہ ہے موجودہ جنگ

دنیا2 days ago

ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں

دنیا2 days ago

ایران: “ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا”

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر: اودھم پور میں بس سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار، 17 مسافر زخمی

ہندوستان2 days ago

وزیر اعظم مودی نے پولیس یادگاری دن پر فرض کی ادائیگی کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا

دنیا2 days ago

امریکہ اور اسرائیل نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس

جموں و کشمیر2 days ago

لداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا

ہندوستان2 days ago

راجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل

ہندوستان2 days ago

آر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل

دنیا2 days ago

فرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ

دنیا2 days ago

ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ

جموں و کشمیر2 days ago

عمر عبداللہ نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر میں دربار موو، دفاتر 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے

جموں و کشمیر3 days ago

سجاد لون کی اسمارٹ میٹرنگ پر جموں و کشمیر حکومت پر تنقید، کیبل پالیسی کو عوام کے لیے ‘حیران کن تحفہ’ قرار دیا

دنیا3 days ago

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن

دنیا3 days ago

ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی

ہندوستان3 days ago

بچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…

ہندوستان3 days ago

حلقہ بندی پر نئی تجویز ہے تو عام کریں، کل جماعتی اجلاس بلائیں: کانگریس

دنیا3 days ago

جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا

دنیا3 days ago

ہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو

دنیا3 days ago

پوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ

ہندوستان3 days ago

کھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان7 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

ہندوستان6 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر8 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین8 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

پاکستان5 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

تازہ ترین9 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

اہم خبریں9 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

جموں و کشمیر7 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین9 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تجزیہ10 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

جموں و کشمیر2 months ago

اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل9 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین9 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین9 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین9 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

اہم خبریں9 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

تازہ ترین9 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

دنیا9 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین9 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تازہ ترین12 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

ہندوستان9 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین10 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

دنیا8 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تجزیہ11 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

جموں و کشمیر9 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

جموں و کشمیر8 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

تازہ ترین9 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

اداریہ5 years ago

اردو شعر و ادب کا ’تحریک آزادی‘ میں ناقابل فراموش کردار رہا ہے: پروفیسر نجمہ اختر

جموں و کشمیر12 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

جموں و کشمیر6 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر7 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر8 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین8 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں9 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں9 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین9 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر12 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر3 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین4 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین4 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر4 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین4 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین4 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین4 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر4 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر4 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین4 years ago

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر4 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین4 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین4 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر4 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین4 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending