جموں و کشمیر
اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ نہیں کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سری نگر، 27اکتوبر(یو این آئی)جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعرات کے روز کہا کہ نوجوان پود کے بہتر مستقبل اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک ساز گار ماحول چھوڑنے کے لئے ہمیں اپنے حقوق کی بحالی کیلئے مل کر جدوجہد کرنی ہوگی اور اگر ہم نے ایسا کرنے سے انحراف کیا تو آنے والے نسلیں ہمیں کسی بھی صورت میں معاف نہیں کریں گی۔
ان باتوں کا اظہارموصوف نے ہندوارہ میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے ہمیں اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر میدان میں اُترنا ہوگا تاکہ ہم اپنی ریاست کی شناخت، انفرادیت اور اجتماعیت کو قائم و دائم رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کے چھینے گئے حقوق کی بحالی کیلئے قانونی اور جمہوری جدوجہد میں برسرجہد ہے اور مستقبل میں جب کبھی بھی انتخابات ہونگے وہ اس جدوجہد میں ایک انتہائی اہمیت کا حامل مرحلہ ہوگا۔ اُس وقت عوام کو اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرکے اس بات کا پیغام دیناہوگا کہ جموںوکشمیر کو آئینِ ہند کے تحت حاصل حقوق کو بحال کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت زر کثیر خرچ کرکے وفاداریاں خریدنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ہمیں ہر حال میں ثابت قدم اور پُرعزم رہ کر اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہوگی۔
اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کے لئے آئے روز سازشیں رچائیں جارہی ہیں کیونکہ یہی ایک عوامی نمائندہ جماعت ہے جو تینوں خطوں کے لوگوں کو موجودہ چیلنجوں سے نجات دلا سکتی ہے۔
اسمبلی نشستوں کی من مرضی حدبندی اور سٹیوں کی ہیرا پھیری کا مقصد بھی نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنا ہی تھا لیکن جب تک اس جماعت کو یہاں کے عوام کا اشتراک اور تعاون حاصل ہے کوئی بھی طاقت اسے زیر نہیں کرسکتی ہے۔
ماضی میں بھی ایسی کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کی سازشیں کامیاب نہیں ہونگی اور یہ جماعت ہر حال میں عوام کی خدمت کرتی رہے گی۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی سے وابستہ تمام لیڈران، عہدیداران اور کارکنان پر زور دیاکہ وہ متحد ہوکر کام کریں ۔
انہوں نے پارٹی کے بزرگ رہنماﺅں پر زور دیاکہ وہ نوجوانوں کو آگے آنے کا موقع فراہم کریں کیونکہ نوجوانوں کو ہی قوم کی بھاگ ڈور سنبھالنی ہے۔
انہوں نے پارٹی سے وابستہ نوجوانوں پر بھی زور دیا کہ وہ بزرگ رہنماﺅں کے نقش قدم پر چلیں اور اُن کے مشوروں کے عین مطابق ہی کام کریں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ جموں و کشمیر کے عوام کو سیاسی مسائل کے علاوہ اس وقت روز مرہ کے گوناگوں مسائل و مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ لوگوںکو راشن، پانی اور بجلی کی صورت میں بنیادی ضروریات میسر نہیں۔
آسمان چھوتی مہنگائی، کساد بازاری اور اقتصادی بدحالی نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا کر رکھ دی ہے۔ ریکارڈ توڑ بے روزگاری نے نوجوان پود کو مایوسی اور نااُمیدی کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ افسر شاہی میں موجودہ صورتحال سے نجات نہیں پایا جاسکتا اور ایک عوامی منتخبہ حکومت ہی لوگوں کو راحت پہنچا سکتی ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا6 days agoایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
-
دنیا6 days agoایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ
-
دنیا6 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
-
جموں و کشمیر1 week agoدہشت گردی کے معاملے میں این آئی اے کی کشمیر کے کئی اضلاع میں چھاپہ مار کارروائی
-
ہندوستان5 days agoہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی
-
ہندوستان5 days agoذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط
-
دنیا6 days agoپاکستان کے آرمی چیف ایک بار پھر ایران میں، امن مذاکرات کا تعطل ختم کرا نے کی کوشش
