تازہ ترین
پاكستان وزیراعظم کا کفایت شعاری اقدامات کااعلان؛وفاقی کابینہ تن خواہوں،مراعات سے دستبردار
وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستا کو درپیش معاشی زبوں حالی سے نمٹنے کے کفایت شعاری کے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت ان کی کابینہ اپنی تن خواہوں اوردیگرمراعات سے دستبردار ہوگئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
میاں شہبازشریف نے بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے ارکان کے ساتھ نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزرا، وزرائے مملکت اور وزیراعظم کے معاونین خصوصی نے رضاکارانہ طورپر اپنی تن خواہوں اور مراعات سے دستبردار ہورنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب تمام وزراء اپنے ٹیلی فون، بجلی، پانی اور گیس کے بل خود ادا کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ کابینہ ارکان کے زیراستعمال تمام لگژری گاڑیاں واپس لی جا رہی ہیں اور ان کی نیلامی کی جائے گی۔جہاں ضرورت ہو گی، وہاں وزراء کو سکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی مہیا کی جائے گی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وفاقی وزراء اندرون ملک یا بیرون ملک سفرکے لیے اب اکانومی کلاس استعمال کریں گے۔معاون عملہ کواب سرکاری دوروں پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ کابینہ ارکان غیر ملکی دوروں میں فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام نہیں کریں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزارتوں، محکموں اور ذیلی محکموں کے موجودہ اخراجات میں 15 فی صد کمی کی جائے گی۔متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسراس فیصلے کی روشنی میں اپنے بجٹ میں ضروری تبدیلیاں کریں گے۔جون 2024 تک لگژری اشیاء کی خریداری پرمکمل پابندی رہے گی۔اگلے سال جون تک ہرقسم کی نئی گاڑیاں خریدنے پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ سرکاری افسروں کو صرف ’’لازمی دورے‘‘کرنے کی اجازت ہوگی۔نیز وزارتوں کے سینیرافسروں کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کو واپس لے لیا جائے گا۔نیز اب سرکاری افسروں کو سکیورٹی کی گاڑیاں بھی نہیں دی جائیں گی۔ وزیرداخلہ کے زیرنگرانی ایک کمیٹی صورت حال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس ٹو کیس کی بنیاد پرسکیورٹی گاڑیاں مہیّاکرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرے گی۔
انھوں نے زور دے کرکہا کہ کابینہ کا کوئی بھی رکن یا سرکاری افسرلگژری گاڑی استعمال نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ سفری اخراجات کو کم کرنے کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے گا۔وفاقی سطح پرکوئی نیا محکمہ نہیں بنایا جائے گا۔ اگلے دو سال تک کوئی نیا انتظامی یونٹ، ڈویژن یا سب ڈویژن تشکیل نہیں دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ایک “سنگل ٹریژری اکاؤنٹ” قائم کیا جائے گا اوروزارت خزانہ نے اس سلسلے میں کام شروع کر دیا ہے۔گیس اور بجلی کی بچت کے لیے موسم گرما میں صبح ساڑھے سات بجے دفاتر کھولنے کا مشورہ قبول کر لیا گیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو ایک سے زیادہ پلاٹ الاٹ نہیں کیا جائے گا،اس پر کل سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ برطانوی دورکے کئی ایکڑ پر محیط سرکاری مکانات ہیں جہاں،اعلیٰ انتظامی عہدے دار اور پولیس افسراور وزراء رہائش پذیرہیں جبکہ لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے سورہے ہیں۔وزیرقانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس زمین پر ٹاؤن ہاؤسز کی تعمیر کے منصوبے کا مسودہ تیار کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ کھانے کے حوالے سے سرکاری تقریبات میں صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی۔اسلام آباد کی تمام وزارتوں، وزیراعظم ہاؤس اوروفاقی کابینہ میں صرف ایک ڈش ہوگی۔ اگر یہ چائے کا وقت ہے، تو صرف چائے اور بسکٹ پیش کیے جائیں گے۔تاہم انھوں نے کہا کہ اس پابندی کا اطلاق غیر ملکی مہمانوں اور معززین پر نہیں ہوگا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے گا اورنئے مالی سال کے بجٹ کے وقت “اضافی اقدامات” کیے جائیں گے۔
وفاقی کابینہ اور میں چیف جسٹس آف پاکستان،چاروں صوبوں کی عدالتوں اور وزرائے اعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے اداروں اور حکومتوں میں بھی اسی طرح کے اقدامات پر عمل درآمد کریں۔
حکومت کے توانائی کے تحفظ کے منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ آج سے ہم مرکز اور صوبوں کو یہ پیغام دیں گے کہ اگر اس پرعمل درآمد میں مزید تاخیر ہوئی تو ہم بڑی مارکیٹوں اورخریداری مالوں میں بجلی کی ترسیل منقطع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
کابینہ ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے محکمہ توشہ خانہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی کو بھی 300 ڈالر سے زیادہ مالیت کے سرکاری تحائف رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی اعلان کیا کہ توشہ خانہ ریکارڈ کو عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ ایک عوامی ریکارڈ ہے۔ہرایک کو اس کے بارے میں جاننے اورپوچھنے کا حق ہے۔ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اقدامات سے سالانہ 200 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات
پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے منی بجٹ منظور کیا ہے جس کے تحت بڑی کارپوریشنوں پر نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں تاکہ عام آدمی کو ‘کسی حد تک’ مہنگائی سے بچایا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاملات “آخری مرحلے” میں ہیں اور امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور یہ معاملات چند دنوں میں حل ہوجائیں گے لیکن اس سے مزید مہنگائی ہوگی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی قریباً تمام شرائط پوری کر دی ہیں۔
انھوں نے آئی ایم ایف معاہدے کے بعد آنے والے وقت میں مشکلات کا اندازہ لگاتے ہوئے قوم کو یقین دلایا کہ حکومت اس دوران میں ملک کی رہنمائی کرے گی۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے مقابلے میں صرف ایک یا دو چیزیں باقی رہ گئی ہیں اور پاکستان جلد ہی عالمی قرض دہندہ کے ساتھ معاہدہ کرے گا۔
انھوں نے ملک کی معاشی بدحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں مراعات یافتہ افراد کی قربانیوں کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ حکومتی مشینری کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں سیاسی چہرہ اور افسرشاہی کا چہرہ شامل ہے اور صوبائی حکومتوں کے تمام ارکان اس انتہائی مشکل وقت میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کریں جس کی اشد ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ درآمدی افراط زر، آئی ایم ایف کی شرائط اور سابقہ حکومت کے اقدامات سمیت مختلف وجوہ کی بناپرملک کو اس وقت معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
وزیراعظم نے قوم پر زور دیا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور آگے بڑھنے کا فیصلہ کریں۔انھوں نے کہا کہ قوم حکومت کی طرف تنقیدی اور سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی ہے اور تسلیم کیا کہ یہ نہ تو آسان ہے اور نہ ہی مذاق ہے کہ موجودہ حکومت فیصلے کرنے میں ایک ساتھ کھڑی ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کوشش کررہی ہے لیکن عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ‘ذاتی مثال سے قیادت’ اوراب اسے دکھانے کا وقت ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں آج کھڑے ہو کر چیلنج کو قبول کرنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط قوم ہے اور حکومت ان چیلنجوں کے مقابلے میں ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے۔
انھوں نے اس بات کا اعتراف کیاکہ تنگ دستی اور سادگی کے اقدامات سے افراط زر کا بوجھ کم نہیں ہوگا لیکن ان سے کم سے کم اس ناراضی کو کم کیا جاسکے گا جوگذشتہ 75 سال سے جو کچھ ہو رہا ہے،اس کی وجہ سے لوگوں کے اندرپائی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات سے عوام کو احساس ہوگا کہ حکومت، سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے دل کی گہرائیوں سے قربانی کا جذبہ دکھانے کا فیصلہ کیا ہے۔آج وقت آگیا ہے کہ آپ کھڑے ہوں اور اس چیلنج کو قبول کریں اور خدا کے نام پر، پاکستان کے نام پر ایسا کریں۔آئیے اس میں تاخیر نہ کریں اور اپنی خوش حالی کو شرمندہ نہ کریں۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
پیرس، فرانس میں گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کی خامیاں سامنے آنے اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ بڑھنے کے درمیان، حکام نے نئے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ہفتہ کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس کے کئی بڑے عجائب گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
تشدد کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر لوور، اورسے میوزیم، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے سمیت کئی ثقافتی ادارے بند رہے۔ پیرس میں منعقد ہونے والے عصری فنون کے بڑے میلے آرٹ باسل کے منتظمین نے بھی جمعہ کو افتتاح کے بعد ہفتے کے اختتام کے پروگرام منسوخ کر دیے۔
پیرس سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع اورلیاں میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی گئی۔ یہ مظاہرہ میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی کی قومی کانگریس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والا ہے۔
ٹریڈ یونینوں، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نسل پرستی مخالف انجمنوں سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے اس مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ حکام کو اس میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات میں فساد مخالف پولیس، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن شامل ہوں گے۔
نونیز نے جمعہ کو کہا، ”ہم تشدد کرنے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکام کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
طلبہ تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے پیرس میں بھی احتجاجی مظاہروں کی توقع ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لوموند’ کے حوالے سے پیش کیے گئے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، پیرس کی سڑکوں پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد اتر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فرانس بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔
حکام نے خصوصی پولیس دستوں، سراغ رساں کتوں کی ٹیموں، گھڑسوار اہلکاروں اور ڈرون مخالف ٹیموں کی مدد سے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ نیشنل جنڈارمری کے زیر استعمال تقریباً 15 واٹر کینن گاڑیوں اور 20 بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
احتجاج سے قبل پیرس کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کے شٹر اور دروازے مضبوط کیے اور سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے متاثر ہونے والے پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب کاروباری اداروں اور بینک کی ایک شاخ نے اپنے احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے جنوب مشرق میں واقع ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے عملے کی کمی اور تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بعد میں اس تحریک میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ناراضگی بھی شامل ہو گئی۔
اسکولوں میں ناکافی فنڈنگ، پسماندہ علاقوں میں عملے کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل نے بھی طلبہ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
لیون، نیس اور مونٹ پیلیئر میں مجوزہ بعض مظاہروں پر مقامی حکام نے پابندی عائد کر دی، جبکہ پیرس اور مارسیے میں ریلیاں نکالے جانے کی توقع ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر میکرون، جنہیں اپنی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی میں اضافے کا سامنا ہے، نے سکیورٹی کے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں، کاروباری اداروں اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہیں۔
یواین آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
