تازہ ترین
سری نگر نقب زنی : تین سارق ‘پی ایس اے’ کے تحت کورٹ بلوال جیل منتقل
سری نگر،28اپریل(یو این آئی) سری نگر میں چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث تین سارقوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کورٹ بلوال جیل منتقل کیا گیا۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ضلع میں چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث بد نام زمانہ تین نقب زنوں کو پی ایس اے کے تحت کورٹ بلوال بھیج دیا گیا۔
انہوں نے نقب زنوں کی شناخت حافظ گنائی ، ہلال احمد ڈار اور عادل احمد صوفی ساکنان گاندربل کے بطور کی ۔
انہوں نے مزید کہاکہ ملوثین کے قبضے سے بڑی مقدار میں مالہ مسروقہ برآمد کرکے ضبط کیا گیا۔
دریں اثنا عوامی حلقوں نے پولیس کی اس کارروائی کو خواب سراہتے ہوئے کہاکہ چوری کی وارداتوں میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔
واضح رہے کہ سری نگر میں آئے روز چوری کی وارداتیں رونما ہو رہی ہیں اور اب پولیس نے بھی ملوثین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
جموں و کشمیر
یومِ الحاق پر محبوبہ مفتی کی عوام سے اپیل، جموں و کشمیر سے کیے گئے وعدوں کو یاد کریں
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز ملک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کے وقت کیے گئے وعدوں کو یاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور ہندوستان کے درمیان تعلقات اعتماد، سیکولرازم اور آئینی ضمانتوں کی بنیاد پر قائم ہوئے تھے، لیکن ان کے بقول اب ان ضمانتوں کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
محبوبہ مفتی نے سری نگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ”میں ملک کے تمام لوگوں سے درخواست کرتی ہوں کہ ہم نے ایسے ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا جو گاندھی کا بھارت، نہرو کا بھارت اور امبیڈکر کا بھارت ہے، جس نے ہمیں تمام حقوق دیے تھے۔ آج ان حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ میں ان سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ ان وعدوں کو یاد رکھیں۔ یہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں ہے۔”
ان کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جموں و کشمیر میں یومِ الحاق منایا جا رہا ہے۔ اس دن 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے دستاویزِ الحاق پر دستخط کیے جانے کی یاد منائی جاتی ہے۔ اس دستاویز کو 27 اکتوبر 1947 کو بھارت کے اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قبول کیا تھا، جس کے ساتھ ہی سابق شاہی ریاست کے بھارت سے الحاق کو باضابطہ شکل دی گئی۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر مسلم اکثریتی خطہ ہونے کے باوجود بھارت کے ساتھ شامل ہوا، کیونکہ یہاں کے لوگوں کو ملک کی سیکولر قیادت پر اعتماد تھا اور انہیں یقین تھا کہ ان کی منفرد شناخت اور حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ دستاویزِ الحاق اور اس کے بعد کیے گئے آئینی انتظامات میں جموں و کشمیر کو دی گئی یقین دہانیوں کی عکاسی ہوتی تھی۔ ان ضمانتوں کا مقصد خطے کی شناخت، زمین اور روزگار کے مواقع کا تحفظ کرنا بھی تھا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، بی آر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزاد اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی قیادت پر اعتماد کیا تھا۔ ان کے مطابق، ان رہنماؤں نے بھارت کو ایک ایسے سیکولر ملک کے طور پر دیکھا تھا جہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہ سکیں۔
الحاق کے وقت کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ 1947 میں پاکستان سے آنے والے قبائلی حملے نے واقعات کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے دوران جموں و کشمیر کی قیادت نے بھارت سے مدد طلب کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کو توقع تھی کہ ان کی سیاسی امنگوں اور خدشات کا احترام کیا جائے گا۔
تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یہ تعلقات خراب ہوتے گئے، خاص طور پر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی اور جموں و کشمیر کی تنظیمِ نو کے بعد، جب سابق ریاست کو تقسیم کرکے دو الگ الگ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کر دیا گیا۔
محبوبہ مفتی نے کہاکہ ”جموں و کشمیر کے لوگ آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں انہیں 1947 میں چھوڑ دیا گیا تھا۔” انہوں نے الزام لگایا کہ خطے کے عوام اب بھی پابندیوں، بڑے پیمانے پر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کو اب بھی پولیس کی جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ تعلیم، روزگار اور دیگر مواقع کے لیے پاسپورٹ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کو بھی دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے خطے میں لوگوں کی مسلسل حراست اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال کے ساتھ احتیاطی حراست سے متعلق قوانین پر بھی سوال اٹھائے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکومت کو جموں و کشمیر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور جمہوری روابط کو فروغ دینا چاہیے۔
سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے طرزِ فکر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مسائل کو انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے اصولوں کے تحت حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر آپ جموں و کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو اسے گھسیٹیں نہیں۔ اسے ہتھیاروں کے زور پر اپنے ساتھ نہ گھسیٹیں۔ اس کے بجائے اس کا ہاتھ تھامیں اور اسے اپنے ساتھ چلنا سکھائیں۔”
محبوبہ مفتی نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال کا نوٹس لیں اور خطے کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور بھارت کے تعلقات کی رہنمائی انہی اصولوں اور یقین دہانیوں سے ہونی چاہیے جن کی بنیاد پر یہ رشتہ قائم ہوا تھا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
دفاعی افواج کے لیے 2.12 لاکھ کروڑ روپے کے دفاعی خریداری کے منصوبوں کو منظوری
نئی دہلی، وزارت دفاع نے پیر کو تینوں افواج کے لیے تقریباً 2.12 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی خریداری کے منصوبوں کو اصولی منظوری دے دی۔ ان میں جدید توپ خانے کے نظام، ہلکے کثیرمقاصد ہیلی کاپٹر، فضائی دفاعی نظام اور نگرانی و حملے کی صلاحیت رکھنے والے ڈرون سمیت کئی طرح کے آلات کی خریداری شامل ہے۔
مجوزہ خریداری کی مجموعی مالیت کا تقریباً 82 فیصد حصہ ہندوستانی صنعتوں سے حاصل کیا جائے گا۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ دفاعی خرید کونسل (ڈی اے سی) کی میٹنگ میں ان خریداری منصوبوں کو منظوری دی گئی۔
ان منصوبوں میں فوج کے لیے زیادہ نقل و حرکت کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں، گن شاٹ رسپانس سسٹم، بغیر پائلٹ فضائی نظام کا مقابلہ کرنے والے نظام، طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے ڈرون، مربوط نگرانی و حملہ نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے کامیکازی ڈرون نظام کی خریداری بھی شامل ہے۔
زیادہ نقل و حرکت کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیاں دشوار گزار علاقوں میں فوج کی نقل و حرکت اور رسد کے انتظام کو بہتر بنائیں گی۔ خودکار، خود حرکت کرنے والے ٹریک پر مبنی توپ خانے کے نظام سے میکانائزڈ فوجی دستوں کو ان کی ضروریات کے مطابق نقل و حرکت اور مار کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔ گن شاٹ رسپانس سسٹم فوجیوں کو حقیقی وقت میں صورت حال کی معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گا۔
ہلکے کثیرالمقاصد ہیلی کاپٹروں کو فوج اور فضائیہ جاسوسی، نگرانی، جنگی کارروائیوں، تلاش و بچاؤ اور انسانی امداد و آفات سے نمٹنے کے کاموں میں استعمال کریں گی۔ انتہائی کم فاصلے تک مار کرنے والا فضائی دفاعی نظام نئی نسل کے چھوٹے فضائی خطرات سے نمٹے گا، جبکہ بغیر پائلٹ فضائی نظاموں کا مقابلہ کرنے والا نظام جدید میدانِ جنگ میں ٹینکوں کی حفاظت کو مضبوط بنائے گا۔ نگرانی اور ڈرون نظاموں سے فوج کی نگرانی اور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
بحریہ کے لیے ایکٹو آف بورڈ ڈیکوائے سسٹم (اے او ڈی ایس) اور دیگر اہم بحری پلیٹ فارموں کی خریداری کو منظوری دی گئی۔ اے او ڈی ایس جہاز شکن میزائلوں کے خلاف میزائل دفاع کو مزید مضبوط بنائے گا۔
مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے جانے والے اہم بحری پلیٹ فارم جدید جنگ کی ضروریات کے مطابق ہوں گے اور بحریہ کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔
فضائیہ کے لیے ہیلی کاپٹروں، فضائی دفاعی نظام، ہتھیاروں اور موبائل ایکس بینڈ ڈوپلر موسمی ریڈار نظام کی خریداری کو منظوری دی گئی۔ خصوصی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹر فضائیہ کی اہم فضائی نقل و حمل کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دیں گے۔ وہیں، ایکس بینڈ ڈوپلر موسمی ریڈار نظام اگلے محاذ کے علاقوں میں مقامی موسم کی تفصیلی نگرانی فراہم کرے گا۔ ان خریداری منصوبوں کا مقصد دفاعی افواج کے فضائی دفاع اور جنگی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
یواین آئی۔ ایف اے
دنیا
نیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین
تل ابیب، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر ایویگاڈور لیبرمین نے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف غداری کے شبہ میں مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ منگل کے عام انتخابات میں شکست سے بچنے کے لیے اسرائیل کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر ‘کان’ کی رپورٹ کے مطابق، دائیں بازو کی جماعت ‘یسرائیل بیتینو’ کے رہنما لیبرمین نے اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا کو ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی ہے۔
اپنے خط میں لیبرمین نے کہا کہ نیتن یاہو گزشتہ ایک ماہ سے سیکیورٹی کے اعلیٰ حکام پر ایسے اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ فوجی تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔
لیبرمین نے لکھا کہ “گزشتہ ایک ماہ کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سربراہان پر ایسے اقدامات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو ایران کے ساتھ کسی غلط فہمی یا غلط اندازے کا باعث بن سکتے ہیں۔”
انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات میں ہارنے کے خوف سے اسرائیل کو ایک اور جنگ میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “انتخابات کے موقع پر ریاستِ اسرائیل کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش، اور محض انتخابی شکست کے خوف سے آئی ڈی ایف کے سپاہیوں کو قربان کرنے کی آمادگی، ریاست، اس کی سیکیورٹی اور آئی ڈی ایف کے جوانوں کے ساتھ غداری کے زمرے میں آتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ میں غداری کے شبہ میں نیتن یاہو کے خلاف فوری طور پر مجرمانہ تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔”
اسرائیلی اخبار ‘معاریو’ کے مطابق، اس سے قبل پیر کو لیبرمین نے اسرائیلی ریڈیو اسٹیشن 103FM کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران بھی اسی طرح کے الزامات لگائے تھے۔
لیبرمین نے نیتن یاہو پر انتخابی شکست کے خوف سے فوجیوں کی جانیں قربان کرنے پر آمادگی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “نیتن یاہو واضح طور پر ریاست کے ساتھ غداری کر رہے ہیں اور وہ ہمیں جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان اب تک کی بے مثال کشیدگی کا دعویٰ بھی کیا۔انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار ایران کے ساتھ تصادم کو ہوا دینے کی نیتن یاہو کی کوششوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ “فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اس طرح کے کشیدہ تعلقات پہلے کبھی نہیں رہے جیسے آج ہیں۔
لیبرمین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا فوجی اقدام جو ممکنہ طور پر جنگ یا بڑے پیمانے پر تصادم کا باعث بن سکتا ہو، اسرائیلی قانون کے تحت حکومتی غور و خوض اور منظوری کا تقاضا کرتا ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو پر سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کے جواز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام بھی لگایا، اور خبردار کیا کہ ایسی کوششیں شدید اندرونی تصادم کو جنم دے سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم بیک وقت نیتن یاہو کی جانب سے سینٹرل الیکشن کمیٹی اور انتخابی نتائج کو غیر قانونی قرار دینے کی تیز تر کوششیں دیکھ رہے ہیں، چاہے اس کی قیمت شدید اندرونی تصادم، خانہ جنگی اور ریاست کی تباہی کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔”
لیبرمین نے مزید دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو انتخابات ہارنے کے امکان سے واقف ہیں اور اسی لیے وہ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، “نیتن یاہو بھی جانتے ہیں کہ وہ ہارنے والے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ تمام تر گھبراہٹ اور ہمیں جنگ میں دھکیلنے کی کوشش ہے۔
لیبرمین کے الزامات پر نیتن یاہو کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی کو بچوں سمیت سب کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سی- سم کو ایڈریس کرنے کے لیے ڈیٹا بیس بنانے…
-
دنیا6 days agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا1 week agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
دنیا6 days agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
دنیا1 week ago“نتن یاہو، جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو جنگ میں دھکیل رہا ہے: عراقچی
-
پاکستان1 week agoحوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید
-
دنیا1 week agoروبِیو کا دورۂ ازبکستان، وسطی ایشیا کی متنوع شراکت داروں کی تلاش کا عکاس
