جموں و کشمیر
زنانہ ہسپتال لل دید میں انوکھا واقع، جعلی ڈاکٹر گرفتار
سری نگر، سری نگر میں خواتین کے لئے مخصوص لل دید ہسپتال میں بدھ کے روز ایک جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا جو گزشتہ تین دنوں سے لیبر روم میں مریضوں کا علاج کر رہا تھا۔
ڈپٹی میڈیکل سپر انٹنڈنٹ کے مطابق جعلی ڈاکٹر کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق لل دید سری نگر میں بدھ کے روز ایک ایسا واقع رونما ہوا جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
خواتین کے لئے مخصوص لل دید ہسپتال میں ایک جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کیا گیا جو گزشتہ تین دنوں سے لیبر روم میں مریضوں کا علاج کر رہا تھا۔
جوں ہی یہ معاملہ سامنے آیا توہسپتال میں افرا تفری مچ گئی اور تیمار داروں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج کیا اورجعلی ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ ہسپتال انتظامیہ جنہوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
تیمارداروں نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کے دوران بتایا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک جعلی ڈاکٹر لیبر روم میں بیٹھ کر مریضوں کا علاج کرئے اور ہسپتال انتظامیہ کو تین روز تک اس کی علمیت نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ جب بھی کسی حاملہ خاتون کو لل دید ہسپتال میں بھرتی کیا جاتا ہے تو تیمارداروں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی تو جعلی ڈاکٹر کو کس نے لیبر روم میں علاج کرنے کی اجازت دی اس کی اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہئے۔
دریں اثنا ہسپتال کی ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر میمونہ نے میڈیا کو بتایاکہ تین روز تک لیبر روم میں مریضوں کا علاج ومعالجہ کرنے والے ایک جعلی ڈاکٹر کو پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لیبر روم میں ایک ڈاکٹر کو بغیر وردی پہننے دیکھا گیا جس کے بعد ہسپتال کی حفاظت پر مامور سیکورٹی عملے کو اس پر شک ہوا ، اور انہوں نے اس بارے میں ہسپتال انتظامیہ کو آگاہ کیا۔
ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ فوری طورپر لیبرروم میں پہنچی اور ڈاکٹر کو اپنا شناختی کارڈ دکھانے کو کہا گیا جس کے جواب میں جعلی ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ صدر ہسپتال سری نگر میں تعینات ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب لل دید انتظامیہ نے صدر ہسپتال کے ساتھ رابط قائم کرکے ڈاکٹر کی تفصیلات مانگی تو انہوں نے بتایا کہ اس نام کا کوئی ڈاکٹر ہسپتال میں تعینات نہیں ہے۔
ڈاکٹرمیمونہ کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ نے فوری طورپر راجباغ پولیس اسٹیشن کے ساتھ رابط قائم کیا اور پولیس ٹیم فوری طورپر جائے موقع پر پہنچی اور جعلی ڈاکٹر کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔
ذرائع نے جعلی ڈاکٹر کی شناخت عاتف کے بطور کی ہے۔
یو این آئی – ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں توی ریلوے اسٹیشن کے باہر آگ لگنے سے تقریباً 35 دکانیں جل کر خاکستر
جموں، جموں توی ریلوے اسٹیشن کے باہر واقع شیو مارکیٹ میں اتوار کی دیر رات لگی بھیانک آگ میں تقریباً 35 دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔
افسران نے بتایا کہ اتوار کی دیر رات بازار میں آگ لگ گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی وقت میں تقریباً 30 سے 35 دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
افسران کے مطابق، ہوشیار دکانداروں نے آگ لگنے کی اطلاع دی اور فوراً فائر بریگیڈ اور ہنگامی خدمات کے محکمے کو فون کیا۔ اس کے بعد 12 سے زیادہ فائر بریگیڈ گاڑیوں اور بڑی تعداد میں فائر فائٹرز کو جائے حادثہ پر بھیجا گیا۔
افسران نے کہا، ”آگ بہت بھیانک تھی اور اس پر قابو پانا انتہائی مشکل تھا۔” انہوں نے بتایا کہ فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں تک آگ بجھانے کی کوشش کی اور صبح تک اس پر قابو پا لیا۔ اس بازار میں بنیادی طور پر کپڑوں، خشک میووں اور دست کاری کی دکانیں ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں مقامی ڈھابے اور کھانے پینے کی دکانیں بھی ہیں۔ متاثرہ دکانداروں کا اندازہ ہے کہ آگ میں کروڑوں روپے کا سامان جل کر خاکستر ہوگیا ہے۔
آگ لگنے کی صحیح وجہ کی جانچ کے لیے فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئی ہیں۔ افسران نے بتایا کہ حادثے میں کسی کے زخمی ہونے یا جان گنوانے کی اطلاع نہیں ہے۔ آگ پوری طرح بجھانے کو ترجیح دیے جانے کے باعث فی الحال مالی نقصان کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے اتوار کی دیر رات جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیو مارکیٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک اہم تجارتی مرکز ہے۔
مسٹر رندھاوا نے کہا، ”جب تک فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے حادثہ پر پہنچیں، تب تک پورا بازار آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔” انہوں نے اندازہ ظاہر کیا کہ تقریباً 35 سے 40 دکانیں پوری طرح جل گئی ہیں۔ انہوں نے دکانداروں کو یقین دلایا کہ آگ پوری طرح بجھنے کے بعد نقصان کا مناسب اندازہ لگایا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ”ہم بعد میں انتظامیہ کے ساتھ معاوضے کے معاملے پر بات کریں گے۔ نقصان یقیناً بہت زیادہ ہوا ہے۔”
جموں کے ڈپٹی کمشنر منگا شیرپا، پولیس سپرنٹنڈنٹ (جنوبی) ورون جندیال اور شہری و پولیس انتظامیہ کے کئی دیگر سینئر افسران بھی جائے حادثہ پر پہنچے اور راحت رسانی اور آگ بجھانے کے کاموں کی نگرانی کی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسپریم کورٹ نے انٹرنیٹ تک رسائی کو بچوں سمیت سب کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سی- سم کو ایڈریس کرنے کے لیے ڈیٹا بیس بنانے…
-
دنیا6 days agoپوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
-
دنیا6 days agoایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی
-
دنیا7 days agoروسی ڈیزل سے متعلق امریکی فیصلے پر کشیدگی کے درمیان زیلنسکی کی ٹرمپ کے ایلچیوں سے بات چیت
-
ہندوستان6 days agoکھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں
-
دنیا1 week agoیوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے میں کوئی وقفہ نہیں آیا: روبیو
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کی عدالت نے قتل کیس میں شوہر، ساس اور دیور کو عمر قید کی سزا سنائی
