جموں و کشمیر
امسال 55غیر ملکیوں سمیت 76 دہشت گرد مارے گئے، حالات بہتری کی جانب گامزن :پولیس سربراہ
جموں، جموں وکشمیر کے پولیس سربراہ آر آر سوئن نے ہفتے کے روز کہا کہ یونین ٹریٹری میں عام شہریوں ، سیکورٹی فورسز کی ہلاکتوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق امسال 55غیر ملکیوں سمیت 76دہشت گرد ملی ٹینٹ مخالف آپریشنز کے دوران مارے گئے۔
انہوں نے کہاکہ ملی ٹینٹ بھرتیوں میں 80فیصد، دہشت گردی کے واقعات میں 63فیصد ، پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں 71فیصد کمی آئی ہے۔
پولیس چیف کے مطابق پتھراو اور ہڑتال اب قصہ پارینہ بن گئے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امسال کشمیر میں جی ٹونٹی ، نیشنل لیگل سروس کانفرنس کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا ، ساڑھے چار لاکھ امر ناتھ یاتریوں نے پوتر شیو لنگم کے درشن کئے جبکہ 34سال کے بعد آٹھ محرم الحرام کے جلوس کو نکالنے کی اجازت دی گئی جس میں کم از کم 40ہزار عزاداروں نے شرکت کی۔
ان باتوں کا اظہار پولیس سربراہ نے جموں میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں امسال مجموعی سیکورٹی صورتحال میں کافی بہتر ہوئی اور لو گ بھی اس کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔
پولیس سربراہ نے کہاکہ سال 2023میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر بھی روک لگی ، دہشت گردی کے واقعات میں 63 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امسال سیکورٹی فورسز نے 48ملی ٹینٹ مخالف آپریشنز کے دوران55غیر ملکیوں سمیت 76 دہشت گردوں کو ملی ٹینٹ مخالف آپریشنز کے دوران مار گرایا ۔
انہوں نے کہاکہ 291ملی ٹینٹ معاونین کی گرفتاری عمل میں لاگئی جن میں سے 201کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی گئی۔ ان کے مطابق جموں وکشمیر میں اس وقت 31مقامی دہشت گرد سر گرم ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سال 2022میں 113دہشت گرد مارے گئے تاہم اس سال ہم نے اتنی جانیں ضائع ہونے سے بچائی ۔
ملی ٹینٹ ریکروٹمنٹ کے بارے میں پولیس سربراہ نے کہاکہ اس میں بھی کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2022میں 130افراد دہشت گرد صفوں میں شامل ہوئے تاہم اس سال صرف 22افراد نے ہی بندوق اٹھایا اور اس طرح سے اس میں 80فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر پولیس اور دوسری سیکورٹی ایجنسیاں بھرتی عمل کو روکنے کی خاطر زمینی سطح پر کام کر رہی ہیں ۔ان کے مطابق ہم امید کرتے ہیں سال 2024میں کوئی بھی شخص ملی ٹینٹ تنظیموں میں شامل نہ ہو اور اس کے لئے ہم کوششیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر پولیس انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے وعدے پر کاربند ہے جان چاہئے پولیس اہلکار کی ہو یا دہشت گرد کی ہم نہیں چاہتے کہ قیمتی جان ضائع ہو۔
عام شہریوں کی ہلاکت کے بارے میں پولیس سربراہ آر آر سوئن نے کہاکہ گزشتہ سال دہشت گردوں کے ہاتھوں 31عام شہری مارے گئے امسال صرف 14کی جانیں ضائع ہوئیں۔
آر آر سوئن کے مطابق گزشتہ سال تین دنوں میں ملی ٹینسی کا واقع رونما ہوتا تھا لیکن امسال دس دنوں میں تخریبی واقع رونما ہوا۔
ہڑتالوں کے بارے میں اعدادوشمار ظاہر کرتے ہوئے پولیس چیف نے کہاکہ سال 2021-22میں لگاتار بند رہا لیکن امسال لوگوں نے ہڑتالی کالوں کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہاکہ ہڑتال کی کالیں سرحد کے اس پار سے دی جاتی ہیں اور اس حوالے سے سوشل میڈیا کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پولیسنگ کے ساتھ ساتھ عوام الناس نے بھی حالات کو معمول پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
پولیس سربراہ نے کہا :”عام لوگوں نے ہڑتالی سیاست کو مسترد کیا ہے اور امن کو پوری طرح سے گلے لگایا۔“
آر آر سوئن نے کہا کہ امسال امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے دوران کسی بھی عام شہری کی جان ضائع نہیں ہوئی ۔
پتھراو کے بارے میں پولیس سربراہ نے کہاکہ اس میں 50سے 60فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سالوں کے دوران منصوبہ بند سازش کے تحت پتھراو ہوتا ہے لیکن امسال منصوبہ بندی کے تحت پتھراو کا کوئی واقع پیش نہیں آیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دہشت گردوں سے نمٹنے اور لا اینڈ آرڈر صورتحال کو برقرار رکھنے کے دوران سیکورٹی فورسز کی جانیں ضائع ہونے کے واقعات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال 14پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ امسال ڈی ایس پی ، ایس ایچ او ، کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل سمیت چار اہلکار از جان ہوئے ۔
انہوں نے کہاکہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعات میں بھی 71فیصد کمی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر ایک کی جان قیمتی ہوتی ہیں چاہئے ادھر کی ہو یا اُدھر کی ، ہم چاہتے ہیں کہ کسی کی بھی جان ضائع نہ ہو ۔
انہوں نے کہا :”امسال 89دہشت گرد ماڈیولز کا پردہ فاش کیا گیا ، 81کمین گاہوں کو تباہ کیا گیا۔‘‘
ان کے مطابق سال 2022میں 99جائیدادوں کو قرق کیا گیا جن کی مالیت 170کروڑ روپیہ ہے جبکہ 68بینک کھاتوں کو منجمد کیا گیا ۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امسال 8ہزار جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس کی شناخت کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں وکشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے۔ امسال نیشنل کانفرنس آن لیگل سروس کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے سینئر ججوں نے شرکت کی۔
آر آر سوئن نے کہاکہ امسال کشمیر میں جی ٹونٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔
سال امر ناتھ یاترا کے بارے میں پولیس چیف نے کہاکہ سال 2023میں ساڑھے چار لاکھ یاتریوں نے پوتر شیو لنگم کے درشن کئے۔
انہوں نے کہاکہ 34سال بعد ہم نے آٹھ محرم کے جلوس کو نکالنے کی اجازت دی جس میں چالیس ہزار عزاداروں نے شرکت کی اور یہ سات گھنٹے تک جاری رہا۔
ان کے مطابق بھارت جوڑا یاترا کا انعقاد بھی عمل میں لایا گیا اور جموں وکشمیر پولیس کے ساتھ ساتھ دوسری دیگر سلامتی اداروں نے سیکورٹی فراہم کی۔
انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کی مجموعی سیکورٹی صورتحال کافی بہتر ہوئی ہے اور یہ سب کے سامنے عیاں ہے ، آج عام لوگ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ حالات پوری طرح سے معمول پر آئے ہیں اور وہ برملا اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ملک دشمن عناصر کے بارے میں پولیس سربراہ نے کہاکہ ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانا اب ناگزیر بن گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے ایکو سسٹم کو تباہ کرنے کی خاطر جموں وکشمیر پولیس زمینی سطح پر کام کر رہی ہیں اورا س کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoیوپی، اتراکھنڈ اور پنجاب انتخابات سے پہلے بی ایس پی کے خلاف ‘فرضی سروے’ کی تشہیر، کارکنان ہوشیار رہیں: مایاوتی
