جموں و کشمیر
غلام نبی ڈار:ووڈ کارونگ کا پدم شری ایوارڈ یافتہ کشمیری کاریگر
سری نگر، وادی کشمیر کی قدرتی رعنائی و خوبصورتی جہاں ایک طرف دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے وہیں مثالی فن پارے معرض وجود میں لانے کے عوض میں یہاں کے کاریگر بھی سرکاری و غیر سرکاری سطح پر اعلیٰ درجے کے اعزازات حاصل کر رہے ہیں۔
سری نگر کے صفا کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ کاریگر غلام نبی ڈار کو امسال ووڈ کارونگ میں عدیم المثال فن پارے معرض وجود میں لانے کے اعزاز میں حکومت نے پدم شری کے اعلیٰ درجے کے ایوارڈ سے سر فراز کیا ہے۔موصوف کاریگر اخروٹ کی لکڑی پر دلکش و مسحور کن نقش و نگاری کرکے ایسے فن پارے وجود میں لاتا ہے کہ جنہیں دیکھ کر لوگ دنگ رہ جاتے ہیں۔کمسنی میں ہی ووڈ کارونگ کے فن کے وسیع و بسیط سمندر میں غوطہ زن ہونے سے لے کر نادر و نایاب جواہرات کے حصول تک انہیں کئی تلاطم خیز موجوں سے نبر د آزما ہونا پڑا۔
چنانچہ غلام نبی ڈار کہتے ہیں: ‘میں زیادہ سے زیادہ دس برس کا تھا جب میں نے یہ فن سیکھنا شروع کیا لیکن اس کے ماہر کاریگر دستیاب نہیں تھے گرچہ ایک دو کاریگروں کے پاس میں نے زانوئے ادب تہہ کئے لیکن وہ اس دن کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف نہیں تھے’۔انہوں نے کہا: ‘میں ان کے علاوہ بھی کچھ کاریگروں کے پاس گیا لیکن وہ مجھے یہ فن سکھانے میں کنجوس ثابت ہوئے اور مجھے واپس ہی بھیج دیا’۔ان کا کہنا تھا: ‘گھر کے مالی حالات بدتر ہونے کے میں نے فیس نہ ملنے کی وجہ سے تعلیم ادھوری ہی چھوڑ دی تھی اور ووڈ کارونگ سیکھنے کی جستجو میں تھا؛۔
موصوف کاریگر نے کہا کہ ایک کاریگر سے اس فن کے کچھ رموز سیکھنے کے بعد میں نے خود محنت کی۔
انہوں نے کہا: ‘میں اس فن کے ساتھ دیوانہ وار محبت کرتا تھا،میں نے تھوڑا بہت سیکھنے کے بعد خود محنت کی اور اس فن کے سمندر میں پوری طرح سے غرق ہوگیا اور بالآخر میری محنت رنگ لائی اور آج میں بہتر سے بہتر فن پارے وجود میں لاتا ہوں’ان کا کہنا تھا: ‘بڑھاپے کی وجہ سے آج میں صرف ووڈ کارون ہی کرتا ہوں اور اس طرح اپنے شوق اور جوش و جذبے کو آگے بڑھا رہا ہوں’۔غلام نبی ڈار کہتے ہیں: ‘میں نے ڈائننگ ٹیبل، صوفے اور بیڈ وغیرہ بنائے ہیں اور اس کے علاوہ میں مختلف قسموں کی آرائش و زیبائش کی چیزوں کو بھی تیار کرتا ہوں’۔
پدم شری ان کا پہلا ایوارڈ نہیں ہے بلکہ اس قبل بھی کئی اعزازات سے سرفزاز کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘پدم شری میرا پہلا ایوارڈ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی مجھے اعزازات سے نوازا گیا ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘سال 1984 میں مجھے سٹیٹ ایوارڈ جبکہ سال 1995 -96 میں مجھے قومی ایوارڈ سے نوازا گیا مجھے جرمنی میں بین الاقوامی سطح کا بھی ایک ایوارڈ ملنے والا تھا لیکن وہ بعض وجوہات کی بنا پر نہیں مل سکا’۔انہوں نے کہا: ‘حکومت کی طرف سے ایوارڈ ملنے سے ایک کاریگر کی حوصلہ افزائی ضرور ہوتی ہے میں شکر گذار ہوں میری کئی بار حوصلہ افزائی کی گئی’۔موصوف کاریگر کے فرزند عابد نبی نے یو این آئی کو بتایا: ‘گذشتہ دو چار مہینوں سے ہماری ویری فکیشن ہو رہی تھی لہذا ہم سمجھتے تھے کہ کوئی ایوارڈ ملنے والا ہے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ پدم شری جیسا اعلیٰ درجے کا ایوارڈ ملنے والا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘میں بھی یہ کام اپنے والد کے ساتھ کرتا ہوں’۔
غلام نبی ڈار اس فن کو نئی نسل کو منتقل کرنے کے آرزو مند ہیں تاکہ یہ فن زندہ بھی رہ سکے اور بے روزگاروں کے لئے روزگار کا وسیلہ بھی بن سکے۔انہوں نے کہا: ‘ووڈ کاورنگ ایک وسیع فن ہے میں خود ابھی سیکھ ہی رہا ہوں لیکن میں چاہتا ہوں کہ نوجوان میرے پاس آئیں تاکہ میں اس فن کے اسرار و رموز سکھا سکوں جس سے ان کو روز گار بھی ملے گا اور یہ فن زندہ بھی رہے گا’۔انہیں اس بات پر شکوہ ہے کہ نئی نسل اس خوبصورت فن کی طرف متوجہ نہیں ہے اور شاید ہی کوئی نوجوان اس کو سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘میں گذشتہ زائد از 6 دہائیوں سے اس فن کے ساتھ وابستہ ہوں اور اس سے خوش بھی ہوں یہی میری روزی روٹی کا وسیلہ ہے لیکن اس کے مستقبل کے لئے فکر مند ہوں’۔
یو این آئی ایم افضل، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
