کھیل
کرسن گھاؤری :وہ گیند باز جس کے باؤنسروں نے پوری دنیا کے بلے بازوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا
نئی دہلی، ہندستان کرکٹ ٹیم میں یوں تو ہمیشہ سے ہی بہترین گیند بازوں نے اپنی شاندار کارکردگی پیش کی ہے۔ ہاں یہ حقیقت ہےکہ اسپن گیند بازوں نے تو اپنی سرزمین کے علاوہ غیر ملکی میدانوں پر بھی بلے بازوں کا ناک میں دم کررکھا تھا۔ ایک وقت ایسا تھا جب ہندستانی ٹیم میں ایک یا دو میڈیم گیند باز ہوا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہندستانی ٹیم میں بھی بدلاؤ آیا اور تیز گیند بازوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ 28 فروری 1952 کو گجرات کے راجکوٹ میں پیدا ہوئے کرسن گھاوری نے ہندستانی ٹیم کی اس کمی کو ایسا پورا کیا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ گھاوری،ہندستانی ٹیم میں ایک ایسے تیز گیند باز کے طور پر ابھرے جی جنہیں ہندستانی ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹ لینے والے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
سابق ہندوستانی فاسٹ بولر کرسن دیوجی بھائی گھاوری نے 70 کی دہائی میں میڈیم فاسٹ باؤلر اور جارحانہ بلے باز کے طور پر اپنی بے مثال کارکردگی سے سب کی توجہ مبذول کرائی۔ان کی بہترین کارکردگی کے بعد میں انہیں ہندوستانی ٹیم میں جگہ مل گئی۔
کرسن گھاوری اور کپِل دیو کی جوڑی اپنے وقت کی سپرہٹ مانی جاتی تھی۔ایک طرف کپِل کی تپی تلی گیند بازی تو دوسری طرف کرسن گھاؤری کی تیز گیند بازی،جنہوں نے اپنے باؤنسروں سے بلے بازوں کاناک میں دم کررکھا تھا۔ہندستان اس زمانے میں تیز گیند بازوں کی سخت ضرورت تھی پھر بھی اس تیز گیند باز کا کیریئر زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکا۔
کرسن گھاوری ایسے وقت میں ہندوستانی ٹیم میں شامل ہوئے جب ملک میں اتنے تیز گیند باز موجودنہیں تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ٹیم انڈیا کے پاس ایراپلی پرسنا، بشن سنگھ بیدی اور بھاگوت چندر شیکھر جیسے عظیم اسپنر تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ ٹیم نے کئی میچز جیتے۔ لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ ان عظیم اسپنرز کی کارکردگی کام نہ آئی۔ اور ایک تیز گیند باز کو اسپن بولنگ کرکے ٹیم کو جیتنے میں مدد کرنی تھی۔
ان کے دور میں اسپنرز کا غلبہ تھا۔ ایسے میں کرسن نے اپنی تیز گیندبازی سے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ اپنی تیز رفتار گیند بازی، باؤنسر اور گیند کو اس طرح ان سوئنگ اور آؤٹ کرانے کے ہنر نے کرسن گھاؤری کو گیند بازی کے شعبے میں ایک الگ شناخت دلائی۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 1975 میں کھیلا۔ کولکتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں، گھاوری کل 2 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
ہندستان یہ میچ 85 رنوں سے جیتنے میں کامیاب رہا۔گھاوری کی اپنے کرکٹ کیرئر میں سب سے کامیاب سیریز سال 1978میں ویسٹ انڈیز کے خلاف رہی جب انہوں نے اپنی بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 27 وکٹیں حاصل کیں۔
ہندستانی ٹیم میں کرسن گھاوری ایک ایسے گیند بازتھے کہ جب بھی ٹیم کسی مشکل میں آتی تواور ٹیم کو اس بحران میں جب بھی ان کی ضرورت پڑی تو ٹیم کے کپتان گھاوری کو محاذ پر لگا دیتے تھے اور گھاوری اس بحران سے ٹیم کو نکال کر جیت کی دہلیز تک لے آتے۔ اسی لئے انہیں کپتان کا رائٹ ہینڈ مین کہا جاتا تھا۔سال 1974 میں ہندوستان کے لیےکرسن نے ڈیبیو کیا تو اسپنرز غالب تھے۔ لیکن انہوں نے ٹیم میں اپنے کردار کو سمجھا اور مدن لال کے ساتھ ایک مفید شراکت داری قائم کی۔ گھاوری گیند بازی کے علاوہ نچلے آرڈر میں بلے میں بھی کارآمد ثابت ہوئے۔ ضرورت پڑنے پر ایک بلے باز کی مانند شاٹ بھی مارتے ورنہ کریز کے دوسرے حصہ پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہتے تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے لئے چار بار پانچ وکٹ لینے کا کارنامہ انجام دیا لیکن بدقسمتی سے ہندوستان ان میچوں میں ایک بار بھی نہیں جیت سکا۔
جب انگلینڈ کی ٹیم سال 1976 میں ہندوستان کے دورے پر آئی تو بشن سنگھ بیدی کو انجری کے باعث ایک میچ سے باہر جانا پڑا۔ ایسے میں نائب کپتان سنیل گواسکر نے ذمہ داری لی۔اس کے بعد گواسکر نے گھاؤری کو گیند تھما دی اور انہیں اسپن گیند کرنے کو کہا۔ گھاؤری نے اسپن گیند بازی کی اور تقریباً سات آٹھ اوور کرائے ۔اسپن میں بھی انہوں نے اپنی مہارت دکھائی اور شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ گھاوری ایک ایسے وقت میں ہندوستانی ٹیم میں شامل ہوئے جب اسپنرگیند بازوں کا بول بالا تھا۔ اور تیز گیند باز بہت کم ہی سے ٹیم کا حصہ ہوا کرتے تھے۔
اپنی پہلی سیریز میں، انہوں نے ممبئی میں تیسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 140 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ وہ واحد ہندوستانی گیند باز تھے جو اس میچ میں کامیاب رہے۔ تاہم، انہیں ٹیم انڈیا میں خود کو مستحکم کرنے میں تقریباً دو برس لگ گئے۔ سال 1976 کے بعد ان کو ٹیم میں شمولیت ملی۔ اس سال انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز میں 27 وکٹیں حاصل کیں۔ اس سیریز میں انہوں نے بنگلور میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں 51 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
سال 1978 کے دورہ آسٹریلیا کے دوران کرسن نے سڈنی کی ایک مشکل پچ پر 64 رن بنائے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان ایک اننگز اور 2 رنوں سے یہ جیت گیا تھا۔ 1979 میں ممبئی ٹیسٹ میں انہوں نے ایک بار پھر آسٹریلیا کو شکست دینے میں موثر کردار ادا کیا۔ یہاں وہ 9ویں نمبر پر بلے بازی کرنے آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سید کرمانی کے ساتھ 8ویں وکٹ کے لیے 127 رن کی ریکارڈ شراکت قائم کی۔ جس کی وجہ سے ہندستان نے آٹھ وکٹوں پر 458 رنز بنانے کے بعد اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا۔
کرمانی نے ناقابل شکست 101 رنز بنائے جبکہ گھاوری نے 86 رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا سکور تھا۔ ہندستان نے یہ میچ ایک اننگز اور 100 رنوں سے جیت لیا تھا۔
سال 1981 میں آسٹریلیا کے دورے پر انہوں نے پھرایک بار بہترین گیند بازی کا نمونہ پیش کیا اور تین ٹیسٹ میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔ بیرون ملک ٹیسٹ میں یہ ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ میلبورن میں انہوں نے 107 رن دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ گھاوری نے 1975 اور 1979 کے ورلڈ کپ کھیلے۔ لیکن ان میچوں میں انہیں زیادہ کامیابی نہیں مل پائی۔ وہ آخری بار 1981 میں ہندوستان کے لیے کھیلے تھے۔
کرسن گھاوری نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1974 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کیا۔ انہوں نے ایڈن گارڈن اسٹیڈیم میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں دو وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے پہلی اور دوسری اننگز میں ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ گھاوری نے دوسری اننگز میں بھی بلے بازی میں اہم کردار ادا کیا۔ آٹھویں نمبر پر کھیلتے ہوئے انہوں نے 27 رنز بنائے۔ ہندستان نے اس میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم 85 رنز سے بڑی جیت درج کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس میچ میں ٹیم انڈیا کی قیادت نواب پٹودی کر رہے تھے۔
ایک میچ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے بہت یادگار ہوتا ہے۔ لیکن صرف منتخب کھلاڑی ہیں جن کی پوری سیریز یادگار بن جاتی ہے۔ گھاوری کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم 1978-79 میں ہندوستان کے دورے پر آئی تھی۔ گھاوری نے کیریبین ٹیم کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا ۔ انہوں نے 6 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 27 وکٹیں حاصل کیں جو کہ اس وقت ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم کے خلاف ایک بڑی بات تھی۔ کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی بلے باز گھاوڑی کے باؤنسر سے بہت ڈرتے تھے۔
گھاوری نے ہندوستان کے لیے 39 ٹیسٹ میچوں میں 913 رنز بنائے، جس میں ان کا بہترین اسکور 86 رہا۔ ان رنوں میں ان کی دو بہترین نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔19 ون ڈے میچوں میں انہوں نے114 رن بنائے ۔ 39ٹیسٹ میں انہوں نے 109 وکٹیں حاصل کیں۔جبکہ ایک روزہ 19 میچوں میں انہوں نے 15 وکٹیں لیں۔ ٹیم انڈیا میں ان کا کردار یوٹیلیٹی پلیئر کا تھا۔ یوٹیلیٹی پلیئر کا مطلب ہے وہ کھلاڑی جو ضرورت کے مطابق کہیں بھی کھیل سکتا ہو۔ کبھی انہیں تیز باؤنسرز گیند کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا تو کبھی اسپن بولنگ کرنے کے لیے انہیں آزمایا جاتا تھا۔گھاوری نے اپنا ٹسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف 27 دسمبر 1974 میں اور آخری ٹسٹ میچ 6 مارچ کو کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔
کرسن گھاوری ٹیسٹ میچوں میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے ہندوستانی تیز گیند باز ہیں۔ ان سے پہلے کوئی بھی تیز گیند باز یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا تھا۔ تاہم اس بڑے کارنامے کو حاصل کرنے کے بعد ان کا کیریئر جلد ہی پٹڑی سے اتر گیا۔ کرکٹ سے سبکدوشی کے بعد انہوں نے کوچنگ کا رخ کیا۔ وہ سوراشٹرا کے کوچ بھی بنے۔
یو این آئی، ایم جے
کھیل
پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
نشین، (جاپان) ابھیشیک شرما (61)، تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) اور شیوم دوبے (27 رن/2 وکٹ) کی شاندار کارکردگی کی بدولت ہندوستان نے ہفتہ کو ایشیائی کھیل 2026 کی کرکٹ مقابلے کے فائنل میں روایتی حریف پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کر لیا۔
212 رن کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان کی ٹیم کے لیے کپتان صاحبزادہ فرحان اور ماجد صاداقت کی افتتاحی جوڑی نے پہلی وکٹ کے لیے 33 رن جوڑے۔ چوتھے اوور میں واشنگٹن سندر نے صاحبزادہ فرحان (10) کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو پہلی کامیابی دلائی۔ اگلے ہی اوور میں اکشر پٹیل نے عثمان خان (3) کو آؤٹ کردیا۔ پاکستان کی تیسری وکٹ ساتویں اوور میں ماجد صاداقت (23) کے طور پر گری۔ اس کے بعد حسن نواز اور صائم ایوب کی جوڑی نے پاکستان کی اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 87 رن جوڑ کر پاکستان کی میچ میں واپسی کرائی۔ 15ویں اوور میں شیوم دوبے نے صائم ایوب (29) کو آؤٹ کرکے اس شراکت داری کا خاتمہ کیا۔ 18ویں اوور میں واشنگٹن سندر نے عبدالصمد (9) کو آؤٹ کرکے پاکستان کو پانچواں جھٹکا دیا۔ اس دوران حسن نواز نے ایک سرا سنبھالے رکھتے ہوئے تیزی سے رن بنائے۔
شیوم دوبے نے انہیں میچ کی آخری گیند پر وکٹ کیپر سنجو سیمسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ انہوں نے 51 گیندوں میں 5 چوکے اور 7 چھکوں کی مدد سے 96 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی ٹیم مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 192 رن ہی بنا سکی اور مقابلہ 19 رن سے ہار گئی۔ہندوستان کی جانب سے شیوم دوبے، واشنگٹن سندر اور اکشر پٹیل نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے پہلے آج یہاں ابھیشیک شرما (61) اور تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) کی جارحانہ نصف سنچری اننگز کی بدولت ہندوستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 212 رن کا ہدف دیا تھا۔ ہندوستانی کپتان شریئس ایئر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلے بازی کے لیے اتری ہندوستانی ٹیم کو تیسرے اوور کی پہلی گیند پر وائبھو سوریہ ونشی (15) کے طور پر پہلا جھٹکا لگا۔ اگلے ہی اوور میں سنجو سیمسن (2) رن بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد کپتان شریئس ایئر نے ابھیشیک شرما کے ساتھ اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 42 رن کی شراکت داری ہوئی۔ آٹھویں اوور میں عرفات منہاس نے ابھیشیک شرما کو اسٹمپ آؤٹ کرکے اس شراکت داری کو توڑا۔ ابھیشیک نے 28 گیندوں میں 3 چوکے اور 7 چھکے لگاتے ہوئے 61 رن کی اننگز کھیلی۔
13ویں اوور میں ایشان کشن (20) رن اور اگلے اوور میں شریئس ایئر (21) رن بناکر آؤٹ ہوئے۔ شیوم دوبے نے 15 گیندوں میں 2 چوکے اور 2 چھکوں کی مدد سے 27 رن بنائے۔ ہندوستان نے مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 211 رن کا چیلنجنگ اسکور کھڑا کیا۔ تلک ورما نے 22 گیندوں میں 3 چوکے اور 4 چھکے لگاتے ہوئے ناٹ آؤٹ 51 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔ صائم ایوب اور ابرار احمد نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
سری نگر، موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن جموں و کشمیر نے سری نگر میں ایرانی کپ کے دوسرے دن زبردست حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مشکل حالات سے نکل کر ’ریسٹ آف انڈیا‘ کے خلاف پہلی اننگز میں 41 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
صبح 37 رنز پر چار وکٹ اور لنچ کے بعد 166 رنز پر آٹھ وکٹ کے مشکل مرحلے سے گزرنے والی موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن ٹیم کو تجربہ کار پارس ڈوگرا (75 رنز) اور نمبر 10 پر کھیلنے والے لون ناصر مظفر (58 گیندوں پر جارحانہ 64 رنز) نے سنبھالا اور ٹیم کو 278 رنز تک پہنچا دیا۔
’ریسٹ آف انڈیا‘ کی ٹیم پہلے دن 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کی برتری حاصل کرنے کی امیدوں کو اس وقت ابتدائی دھچکا لگا جب مکیش چودھری نے اوور نائٹ بلے باز شبھم کھجوریہ اور کامران اقبال کو پہلے ہی پانچ اووروں میں آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد ڈوگرا اور عبدالصمد نے 97 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا اور لنچ تک جموں و کشمیر کا اسکور 134 رنز پر چار وکٹ تک پہنچا دیا۔ صمد (57 رنز) اس جوڑی میں زیادہ جارحانہ رہے اور وقفے سے عین قبل انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 12ویں نصف سنچری مکمل کی۔
تاہم لنچ کے بعد ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے واپسی کرتے ہوئے صمد کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد کنہیا ودھاون، عابد مشتاق اور ساحل لوٹرا بھی 11 اوور کے دوران آؤٹ ہوگئے۔ 166 رنز پر آٹھ وکٹ گرنے کے بعد بھی جموں و کشمیر 71 رنز پیچھے تھی۔
اس کے بعد ڈوگرا اور مظفر نے نویں وکٹ کے لیے 64 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کا رخ بدل دیا۔
ڈوگرا 75 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی چودھری نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی، لیکن مظفر نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور آخری وکٹ کے لیے سنیل کمار کے ساتھ 48 رنز جوڑ کر جموں و کشمیر کو برتری دلا دی۔ مظفر بالآخر 64 رنز پر آؤٹ ہوئے اور جموں و کشمیر کی پوری ٹیم 278 رنز پر سمٹ گئی۔ چودھری نے 78 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے، جبکہ آکاش دیپ نے 43 رنز دے کر تین وکٹ لیے۔
جواب میں ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے اسٹمپس تک ایک وکٹ پر 24 رنز بنا لیے تھے اور وہ اب بھی 17 رنز پیچھے تھی۔ سودیپ گھرامی اور سَنَت سانگوان ناٹ آؤٹ تھے، جبکہ سست اوور ریٹ کے باعث 15 اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔
مختصر اسکور:
ریسٹ آف انڈیا: 237 اور 1/24 (سنیل کمار 1/9)، جموں و کشمیر: 278 (پارس ڈوگرا 75، لون ناصر مظفر 64، عبدالصمد 57؛ مکیش چودھری 5/78، آکاش دیپ 3/43) — 17 رنز پیچھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان
کراچی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم رضوان سے متعلق جاری معاملے پر بات کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونس خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے اور اس معاملے میں محتاط انداز میں گفتگو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ہم کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کیس سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔”
یونس خان نے کہا کہ محمد رضوان سے متعلق معاملہ ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آیا ہے، اس لیے کیس کا نتیجہ سامنے آنے تک اس پر گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے معاملات تقریباً چار ماہ تک جاری رہے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
