تازہ ترین
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے آرٹیکل 35A میں کسی بھی چھیڑ چھاڑ کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا کیا اعلان
خبر اردو :
مشترکہ مزاحمتی قیادت نے آرٹیکل 35Aکے حوالے سے احتجاجی پروگرام کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ریاست جموں کشمیر کے مستقل اور پشتینی باشندگی سے متعلق قانون کی شنوائی سپریم کورٹ نے27اگست تک موخر کردی ہے جب شری امرناتھ یاترا مکمل ہوجاتی ہے لہٰذا اس قانون میں کسی چھیڑ چھاڑ کے خلاف احتجاجی پروگرام جاری رہے گا اور مشترکہ قیادت اس پر صلاح مشورہ کریگی۔
سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے چونکہ ریاست جموں کشمیر کے مستقل اور پشتینی باشندگی سے متعلق قانون کی شنوائی ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اگست کے آخری ہفتے تک صرف موخر کردی ہے جب شری امرناتھ یاترا مکمل ہوجاتی ہے لہذا اس قانون میں کسی چھیڑ چھاڑ کے خلاف احتجاجی پروگرام جاری رہیگا جیسا کہ مشترکہ قیادت اس پر صلاح مشورہ کریگی۔ مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ مذکورہ کیس کی شنوائی صرف چند ہفتوں کیلئے موخر کرنے سے عدالت کے اداروں کا عندیہ ملتا ہے جس میں آر ایس ایس کی پشت پناہی والی ان درخواستوں کو سماعت کیلئے منظور کیا ہے اور یہ آر ایس ایس کا کشمیر سے متعلق جانا پہچانا ایجنڈا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سماج کے تمام طبقوں بشمول تاجر برادری ، وکلا، ممبران سیول سوسائٹی، ٹرانسپوٹرس وغیرہ کیساتھ مشاورت کے بعد ایک متحدہ حکمت عملی واضح کرکے اس پر عمل کیا جائیگا۔ مشترکہ قیادت نے جموں کشمیر کے مختلف خطوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے جملہ عوام کے اس قانون کے بچاؤ کے خاطر مکمل اتحاد ، یکجہتی اور بلند حوصلے کے اظہار کی سراہنا کی ہے کیونکہ یہ قانون ہم سب کے بحیثیت قوم کے بقاء کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ یہ قانون ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کیساتھ برائے راست وابستہ ہے کیونکہ ریاست کے عوام استعمالِ حق خود ارادیت ابھی باقی ہے اور اقوام متحدہ نے ریاست کے عوام کو بحثیت قوم کے اپنا مستقبل طے کرنے کیلئے اس حق کی گارنٹی دی ہے۔مستقل باشندگی کے قانون کو ختم کرنے کی شرارت آمیز کوشش کے پیچھے ریاست جموں کشمیر میں غیر ریاستی باشندوں کو بسا کرکے یہاں کے آبدی کے تناسب بگاڑنے کا مقصد کار فرما ہے تاکہ اس تنازعہ کی ہیت و حیثیت کو تبدیل کیا جاسکے۔ مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے عوام نے ایک زبان ہو کر نئی دہلی کو یہ واضح پیغام بھیجا ہے کہ وہ ان کیخلاف رچائی جارہی ان سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ یہاں پائی جانے والی موجودہ صورتحال جس میں ریاست کے عوام کا وجود ہی خطر ہ سے دوچار ہے پر اظہار خیال کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ گذشتہ70 برسوں خاص کر گذشتہ 30 برسوں سے جموں کشمیر کے عوام ان پر اُس وقت کی ہند نواز کشمیری قیادت کی طرف سے ٹھونسے گئے ہندوستان کیساتھ مشروط الحاق کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور اس کے بعد مختلف مواقعہ پر کشمیر کی تمام ہند نواز جماعتوں نے مشروط الحاق کو نئی دہلی کی منشاء کے مطابق بنانے میں بحثیت اعلیٰ کار ان کا ساتھ دیا اور محض اقتدار کیلئے الحاق کی شرتوں کو کوکھلا کرنے کے جرم میں شامل رہیں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارا وجود ہی خطرے میں پڑح گیا ہے اور ہم سب کو اس کے بچاؤ کے لئے سڑکوں پر آکر کسی بھی قربانی کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ قیادت اور عوام یہ جاننا چاہتے ہے کہ کیا ہندونواز جماعتوں کا یہی Vision تھا کہ کشمیری عوام آج اس صورتحال کا سامنا کررہے ہیں ؟ ان تمام جماعتوں نے جو سودا بازی کی اس کی عوام کو بھاری قیمت چکانا پڑی اور پڑھ رہی ہے۔ ان کی اقتدار کی لالچ اور ان کی نا اہلیت کی وجہ سے ہم آج ایک ایسی صورتحال کے روبہ رو ہے جس میں مجبوراً ریاست کے باشندوں کو سڑکوں پر نکل جان کی بازی لگا کر اپنے وجود کا تحفظ کرنا پڑرہا ہے ۔مشترکہ قیادت نے کہا ہے کہ گذشتہ 70 برس سے جاری جارحیت کے خلاف غیور کشمیری عوام نے جس طرح مزاحمت کی اس بار بھی موجودہ جارحیت کی بھرپور مذاحمت کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام اور قیادت اپنے شناخت اورکسی حتمی حل تک اس ریاست کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھر پور مزاحمت کرینگے اور اس کیلئے اپنی جان دینے اور عوامی سطح پر ایک بھر پور سیاسی تحریک چلانے کیلئے تیار ہے۔
انہوں نے کہ عوام اور خاص کر نوجوانوں کی طرف سے تحریک کیلئے دی گئی قربانیاں اتنی بیش بہا ہے کہ کوئی ان کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔KNS
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
