ہندوستان
ہمیں اگلے 50 سال صرف قوم کے لیے وقف کرنے ہوں گے:نریندر مودی
نئی دہلی، جمہوریت کی ماں میں جمہوریت کے سب سے بڑے تہوار کا ایک سنگ میل آج یکم جون کو مکمل ہواکنیا کماری میں تین دن کے روحانی سفر کے بعد میں ابھی دہلی کے لیے ہوائی جہاز میں سوار ہوا ہوں… کاشی اور دیگر کئی سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے بہت سارے تجربات ہیں، بہت سارے احساسات ہیں … میں اپنے اندر لامحدود توانائی کا بہاؤ محسوس کررہا ہوں۔درحقیقت 2024 کے اس الیکشن میں کئی خوش گوار اتفاقات سامنے آئے ۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ امرت کال کے اس پہلے لوک سبھا انتخاب میں، میں نے میرٹھ سے مہم کا آغاز کیا، جو 1857 کی پہلی جنگ آزادی کی جائے تحریک ہے۔ ماں بھارتی کی پریکرما کے دوران اس الیکشن کا میرا آخری عوامی جلسہ پنجاب کے ہوشیار پور میں ہوا۔ سنت روی داس جی کی مقدس سرزمین، ہمارے گروؤں کی زمین پنجاب میں آخری جلسہ منعقد کرنے کا اعزاز بھی بہت خاص ہے۔ اس کے بعد مجھے کنیا کماری میں بھارت ماتا کے قدموں میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان ابتدائی لمحات میں میرے ذہن میں انتخابات کا شور گونج رہا تھا۔ جلسوں اور روڈ شوز میں نظر آنے والے ان گنت چہرے میری آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے۔ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی بے پناہ محبت کی وہ لہر، ان کا آشیرواد … ان کی آنکھوں میں میرے لیے وہ بھروسہ، وہ پیار … میں سب کچھ اپنے اندر سمو رہا تھا۔ میری آنکھیں نم ہو رہی تھیں… میں خالی پن میں جا رہا تھا، دھیان میں داخل ہو رہا تھا۔
انھوں نے مزید کہا کہ چند لمحوں میں سیاسی بحثیں، حملے اور جوابی حملے… الزامات کی آوازیں اور الفاظ، یہ سب خود بخود معدوم ہوتے چلے گئے۔ میرے ذہن میں لاتعلقی کا احساس مزید شدید ہو گیا… میرا دماغ بیرونی دنیا سے بالکل الگ ہوگیا۔اتنی بڑی ذمہ داریوں کے درمیان ایسی سادھنا مشکل ہے، لیکن کنیا کماری کی سرزمین اور سوامی وویکانند کی ترغیب نے اسے آسان بنا دیا۔ میں یہاں ایم پی کے طور پر اپنا انتخاب اپنے کاشی کے ووٹروں کے قدموں میں چھوڑ کر آیا تھا۔
میں خدا کا بھی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے پیدائش سے ہی یہ سنسکار دیے۔ میں یہ بھی سوچ رہا تھا کہ سوامی وویکانند جی نے اس مقام پر سادھنا کرتے ہوئے کیا تجربہ کیا ہوگا! میری سادھنا کا کچھ حصہ اسی طرح کے خیالات کے بہاؤ میں بہہ گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس لاتعلقی کے درمیان، امن اور خاموشی کے درمیان، میرے ذہن میں ہندوستان کے روشن مستقبل کے لیے، ہندوستان کے مقاصد کے لیے خیالات مسلسل اُمنڈ رہے تھے۔ کنیا کماری کے اُگتے ہوئے سورج نے میرے خیالات کو نئی بلندیاں دیں، سمندر کی وسعت نے میرے خیالات کو وسعت دی اور اُفق کے پھیلاؤ نے کائنات کی گہرائیوں میں سمائی ہوئی وحدت نے مجھے ایک ہونے کا مسلسل احساس دیا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ہمالیہ کی گود میں کئی دہائیوں پہلے کیے گئے غور و فکر اور تجربات دوبارہ زندہ ہو رہے ہوں۔
کنیا کماری کی یہ جگہ ہمیشہ میرے دل کے بہت قریب رہی ہے۔ کنیا کماری میں وویکانند راک میموریل کی تعمیر جناب ایکناتھ رانڈے جی نے کرائی تھی۔ مجھے ایکناتھ جی کے ساتھ کافی سفر کرنے کا موقع ملا تھا۔ اس یادگار کی تعمیر کے دوران کچھ وقت کنیا کماری میں رہنا اور وہاں آنا جانا فطری طور پر ہوتا تھا۔
کشمیر سے کنیا کماری… یہ ہماری مشترکہ شناختیں ہیں جو ملک کے ہر فرد کے دل میں سمائی ہوئی ہیں۔ یہ وہ شکتی پیٹھ ہے جہاں ماں شکتی نے کنیا کماری کی شکل میں اَوتار لیا تھا۔ اس جنوبی سرے پر ماں شکتی نے ان بھگوان شیو کے لیے تپسیا کی اور انتظار کیا جو ہندوستان کے سب سے شمالی سرے کے ہمالیہ پر براجمان رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ کنیا کماری سنگموں کے سنگم کی سرزمین ہے۔ ہمارے ملک کی مقدس ندیاں الگ الگ سمندروں میں جاکر ملتی ہیں اور یہاں ان سمندروں کا سنگم ہوتا ہے۔ اور یہاں ایک اور عظیم سنگم نظر آتا ہے –
وویکانند راک میموریل کے ساتھ ہی، یہاں پر سنت تھروولوور کا عظیم مجسمہ، گاندھی منڈپم اور کامراجر منی منڈپم ہیں۔ عظیم ہیروز کے خیالات کے یہ دھارے یہاں قومی سوچ کا سنگم بناتے ہیں۔ اس سے قوم کی تعمیر کے لیے عظیم تحریکات کا جنم ہوتا ہے۔ ان لوگوں کو جو ہندوستان کے ایک قوم ہونے اور ملک کے اتحاد پر شک کرتے ہیں، کنیا کماری کی یہ سرزمین اتحاد کا انمٹ پیغام دیتی ہے۔
کنیا کماری میں سنت تھروولوور کا عظیم مجسمہ، سمندر سے ماں بھارتی کے پھیلاؤ کو دیکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس کی بناوٹ ’تھروکورل‘ تمل ادب کے جواہرات سے جڑے تاج کی مانند ہے۔ اس میں زندگی کے ہر پہلو کو بیان کیا گیا ہے، جو ہمیں اپنے اور قوم کے لیے اپنا بہترین دینے کی تحریک دیتا ہے۔ ایسی عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنا میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے۔
سوامی وویکانند جی نے کہا تھا – ہر قوم کے پاس پہنچانے کے لیے ایک پیغام ہے، پورا کرنے کے لیے ایک مشن ہے، پہنچنے کے لیے ایک منزل ہے۔
ہندوستان اس جذبے کے ساتھ ہزاروں سالوں سے ایک بامعنی مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ ہندوستان ہزاروں سالوں سے نظریات کی تحقیق کا مرکز رہا ہے۔ ہم نے جو کچھ کمایا ہے اسے کبھی بھی اپنا ذاتی سرمایہ نہیں سمجھا گیا اور اسے کبھی معاشی یا مادی معیارات پر نہیں تولا۔ یہی وجہ ہے کہ ’اِدہ نہ مم‘ ہندوستان کے کردار کا ایک فطری حصہ بن گیا ہے۔
ہندوستان کی فلاح سے دنیا کی فلاح، ہندوستان کی ترقی سے دنیا کی ترقی، اس کی ایک بڑی مثال ہماری تحریک آزادی بھی ہے۔ ہندوستان 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک غلامی میں تھے۔ ان ممالک کو بھی ہندوستان کی آزادی سے تحریک اور طاقت ملی، انہوں نے آزادی حاصل کی۔ ابھی کورونا کے مشکل دور کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ جب غریب اور ترقی پذیر ممالک کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، لیکن ہندوستان کی کامیاب کوششوں سے بہت سے ممالک کو حوصلہ اور تعاون بھی ملا۔
آج ہندوستان کا گورننس ماڈل دنیا کے کئی ممالک کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ صرف 10 سالوں میں 25 کروڑ لوگوں کو غریبی سے نکالنا بے مثال ہے۔ پرو- پیپل گڈ گورننس، اسپیریشنل ڈسٹرکٹ، اسپیریشنل بلاک جیسے نئے تجربات آج دنیا میں زیر بحث ہیں۔ غریبوں کو بااختیار بنانے سے لے کر آخری میل ڈیلیوری تک، معاشرے کے آخری صف میں کھڑے فرد کو ترجیح دینے کی ہماری کوششوں نے دنیا کو تحریک دی ہے۔ ہندوستان کی ڈیجیٹل انڈیا مہم آج پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح ہم غریبوں کو بااختیار بنانے، شفافیت لانے اور انہیں ان کے حقوق دلانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتے ہیں۔ بھارت میں سستا ڈیٹا آج اطلاعات و خدمات تک غریبوں کی رسائی کو یقینی بناکر سماجی برابری کا وسیلہ بن رہا ہے۔ پوری دنیا ٹیکنالوجی کی اس جمہوریت کاری کو تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے اور بڑی عالمی تنظیمیں بہت سے ممالک کو ہمارے ماڈل سے سیکھنے کا مشورہ دے رہی ہیں۔
آج ہندوستان کی ترقی اور ہندوستان کا عروج صرف ہندوستان کے لیے ہی بڑا موقع نہیں ہے۔ بلکہ یہ دنیا کے تمام ہم سفر ممالک کے لیے بھی ایک تاریخی موقع ہے۔ جی- 20 کی کامیابی کے بعد دنیا بھارت کے اس کردار کو زیادہ کھل کر قبول کر رہی ہے۔ آج ہندوستان کو گلوبل ساؤتھ کی ایک مضبوط اور اہم آواز کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی پہل ہی افریقی یونین جی- 20 گروپ کا حصہ بنا۔ یہ سبھی افریقی ممالک کے مستقبل کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ نئے ہندوستان کی یہ شکل ہمیں فخر اور شان سے بھر دیتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ 140 کروڑ ہم وطنوں کو ان کے فرائض کا بھی احساس کراتی ہے۔ اب ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ہمیں بڑی ذمہ داریوں اور بڑے اہداف کی طرف قدم بڑھانا ہو گا۔ ہمیں نئے خواب دیکھنے ہیں۔ اپنے خوابوں کو اپنی زندگی بنانا ہے، اور ان خوابوں کو جینا شروع کرنا ہے۔
ہمیں ہندوستان کی ترقی کو عالمی تناظر میں دیکھنا ہوگا، اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ہندوستان کے باطن میں پوشیدہ صلاحیت کو سمجھیں۔ ہمیں ہندوستان کی طاقتوں کو قبول بھی کرنا ہوگا، انہیں مضبوط بھی کرنا ہوگا اور دنیا کے مفاد میں ان کا بھرپور استعمال بھی کرنا ہوگا۔ آج کے عالمی حالات میں، ایک نوجوان قوم کے طور پر ہندوستان کی صلاحیت ہمارے لیے ایک ایسا خوشگوار اتفاق اور موقع ہے جہاں سے ہمیں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج 21ویں صدی کی دنیا بڑی امیدوں کے ساتھ ہندوستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اور عالمی منظر نامے میں آگے بڑھنے کے لیے ہمیں بہت سی تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ ہمیں اصلاحات کے حوالے سے اپنی روایتی سوچ کو بھی بدلنا ہوگا۔ ہندوستان اصلاحات کو صرف اقتصادی تبدیلیوں تک محدود نہیں رکھ سکتا ہے۔ ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اصلاح کی طرف بڑھنا ہوگا۔ ہماری اصلاحات بھی 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے عزائم کے مطابق ہونی چاہئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اصلاحات کبھی بھی کسی ملک کے لیے یک رُخی عمل نہیں ہوسکتیں۔ اسی لیے، میں نے ملک کے لیے ریفارم، پرفارم اور ٹرانسفارم کا وژن سامنے رکھا۔ اصلاحات کی ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد پر ہماری بیوروکریسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور پھر جب عوام اس سے جڑ جاتے ہیں تو ہم تبدیلی ہوتی ہوئی دیکھتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ہندوستان بنانے کے لیے ہمیں عمدگی کو اپنی بنیادی قدر بنانا ہوگا۔ ہمیں اسپیڈ، اسکیل، اسکوپ اور اسٹینڈرڈز، چاروں سمتوں میں تیزی سے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں مینوفیکچرنگ کے ساتھ ساتھ کوالٹی پر بھی زور دینا ہوگا، ہمیں زیرو ڈیفیکٹ- زیرو ایفیکٹ کے اصول کو اپنانا ہوگا۔
ہمیں ہر لمحہ اس بات پر فخر ہونا چاہئے کہ خدا نے ہمیں ہندوستان کی سرزمین میں جنم دیا ہے۔ خدا نے ہمیں ہندوستان کی خدمت کرنے اور اس کے بلندی کے سفر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں قدیم اقدار کو جدید شکل میں اپناتے ہوئے اپنے ورثے کو جدید انداز میں نئی شکل دینا ہے۔ہمیں بحیثیت قوم بھی اپنی فرسودہ سوچ اور عقائد پر نظر ثانی بھی کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے معاشرے کو پیشہ وارانہ مایوسیوں کے دباؤ سے آزاد کرنا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ منفی ذہنیت سے آزادی، کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے پہلی جڑی بوٹی ہے۔ کامیابی مثبت ذہنیت کی گود میں ہی پنپتی ہے۔ہندوستان کی لامحدود اور لافانی طاقت پر میرا ایمان، عقیدت اور یقین بھی دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ میں نے پچھلے 10 سالوں میں ہندوستان کی اس صلاحیت کو زیادہ بڑھتے دیکھا ہے اور زیادہ محسوس کیا ہے۔جس طرح ہم نے 20ویں صدی کی چوتھی- پانچویں دہائی کو اپنی آزادی کے لیے استعمال کیا، اسی طرح ہمیں 21ویں صدی کے ان 25 سالوں میں ایک ترقی یافتہ ہندوستان کی بنیاد رکھنی ہے۔ جنگ آزادی کے دوران وطن عزیز کے لیے قربانیاں دینے کا وقت تھا۔ آج قربانی کا وقت نہیں بلکہ مسلسل تعاون کا وقت ہے۔
سوامی وویکانند نے 1897 میں کہا تھا کہ ہمیں اگلے 50 سال صرف قوم کے لیے وقف کرنے ہوں گے۔ ان کی اس اپیل کے ٹھیک 50 سال بعد، ہندوستان 1947 میں آزاد ہوگیا۔
آج ہمارے پاس ایسا سنہری موقع ہے۔ آیئے آئندہ 25 سال صرف قوم کے لیے وقف کریں۔ ہماری یہ کوششیں آنے والی نسلوں اور آنے والی صدیوں کے لیے نئے ہندوستان کی مضبوط بنیاد کے طور پر لازوال رہیں گی۔ میں ملک کی توانائی کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ ہدف اب دور نہیں ہے۔ آئیے، تیز قدموں سے چلیں … مل کر چلیں اور ہندوستان کو ترقی یافتہ بنائیں۔
یو این آئی-ا یف ا ے-م ا
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
