تازہ ترین
واجپائی کا تاریخی لاہور بس سفر اور کشمیر پالیسی
رضوان سلطان:
تاریخ 16 اگست وقت پانچ بجکر پانچ منٹ دلی کے آل انڈیا انسی ٹیوٹ آف میڈیکل سا ئینسز کے ہسپتال میں ہندوستانی سیاست کے قدآور نیتاؤو ں میں شمار کئے جانے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے آخری سانس لی ۔اٹل بہاری واجپائی93برس کے تھے ۔
واجپا ئی مدھیہ پردیش کے معمولی خاندان میں 24 دسمبر 1924کو پیدا ہوئے ۔آر ایس ایس سے وہ سیاست میں آئے ۔لوک سبھا کے ممبر وہ پہلی بار1957 میں بنے ۔1977میں وہ وزیر خارجہ دو سال کیلئے رہے ۔ اسکے بعد1980 میں انہوں نےbhartya janta party کی بنیاد ڈالی ، بھاجپا کو بنانے سے پہلے وہ بھارتہ جن سنگھ پارٹی کے بانی ممبر بھی رہے ۔
1992 میں وہ بھارت ک محض 13 دن کیلئے بھارت کے د سویں وزیر اعظم بنے ۔دوسری بار وہ 1998 میں وہ 13 ماہ کے میں پی ایم بنے ۔اسکے بعد تیسری بار1999سے2004 تک وہ وزیر اعظم رہ کر پہلی بار ا پنی پانچ سالہ مدت پور ی کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اسکے علاوہ وہ 10بارلوک سبھا اور دو بار راجیہ سبھا کے ممبر بھی رہے ہیں ۔2015 میں انہیں بھارت رتنسے بھی نوازا گیا ۔ واجپائی کو شاعری کابھی شوقتھا ، 2004 میں بھاجپا کی ہار کے بعد ان کی سیاسی زندگی کا سفر اختتام پذیر ہو گاے ، 2005میں انہوں نے انتخابی سیاست سے ریٹائر ہونے کا اعلان کر دیا ۔ وہیں ان کی زندگی کی خاص بات یہ رہی تھی کہ غیر شادی شدہ تھے ۔
واجپائی کو کشمیر کے سیاسی لیڈران نے بھی شاندار طریقے سے خراج عقیدت پیش کیا ,ریاستی گورنر این این ووہرا نے کہا کہ ان کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر سے جڑے معاملات کے حل کیلئے واجپائی کی کوششوں کو یاد کیا .عمر عبداﷲ نے ان کی وفات کو ذاتی نقصان قرار دیا ، پی ڈپی پی نے کہا واجپائی کی رحلت سے جموں کشمیر نے ایک سچے دوست کو کھو دیا ہے ۔حریت کانفرنس کے چیر مین میر واعظ عمر فاروق نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ انسانیت کے ناطے مسلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتے تھے ۔
واجپائی تین الفاظ کشمیریت ، جمہوریت اور انسانیت کے موجد تھے جو کشمیر کے معاملات ان تین الفاظ کے د ائرے میں حل کرنے کے خواہاں تھے ۔انہوں نے لوک سبھا میں کہا تھا کہ کشمیر کے مسائل حل ہو جائیں گے اگر ہم تین اصول پر عمل کریں انسانیت ،جمہوریت اور کشمیریت ۔ 2004میں ان کے لوک سبھا میں ہار کو کشمیر اور جنوبی ایشا کی ہارکہا گیا .
2003میں انہوں نے علیحدگی پسند لیڈران کو بات چیت کی پیش کش بھی کی تھی ۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بات چیت سے ہی مسلہ حل کیا جا سکتا ہے ۔
پارٹی کے سخت نظریات کے بر عکس واجپائی نرم طبعیت کے تھے2002 میں15 اگست کے دن انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر میں کچھ غلطیاں کی گئی ہیں، جہیں ٹھیک کیا جائے گا ۔
جس کے بعد اسی سال 2002کشمیر میں پہلی بار شفاف انتخابات بھی ہوئے ۔
2003 میں واجپائی نے کشمیر کا دورہ کا دورہ کرتے ہوئے علیحدگی پسند لیڈران سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا ، جو 2004 عام انتخابات میں ہار کے بعد ہی رک گیا ۔
واجپائی نے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں تھے ، 1999میں واجپائی کے دور میں پاکستان اور بھارت کے مابین صدائے سرحد کے نام سے بس سروس شروع کی گئی ، تب وہ خود وفد کے ہمراہ بس میں سوار ہو کر لاہور گئے۔واجپائی کے دور میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا اور دونوں ملک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے ، لیکن پھر واجپائی نے ہی فائر بندی کا معاہدہ کیا جس سے دس سال تک سرحدوں پر خاموشی رہی ۔انہی کے دور میں بھارت نے جوہری دھماکہ بھی کیا ۔جواہر لال نہرو نے پیشن گوئی کی تھی واجپائی ایک دن بھارت کے وزیر اعظم بنے گے ۔
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
