جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی سمیت کئی لیڈروں کو مزار شہدا جانے سے روکا گیا
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور دیگر کئی سیاسی لیڈروں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ہفتے کے روز 13 جولائی کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پائین شہر میں واقع مزار شہدا جانے سے روکنے کے لئے خانہ نظر بند رکھا گیا۔
بتادیں کہ 13جولائی 1931 میں اس وقت کی ڈوگرہ حکومت نے سینٹرل جیل سری نگر کے باہر جمع ہوئے کشمیری عوام پر گولیاں برسائی تھیں جس کے نتیجے میں 22 افراد فوت ہوئے تھے۔
‘یوم شہدا’ کے نام سے موسوم اس دن پر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈر شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے 13 جولائی کو مزار شہدا پر حاضر ہوتے تھے اور اس دن سرکاری تعطیل بھی ہوا کرتی تھی تاہم 5 اگست کو دفعہ 370 کی تنسیخ اور جموں وکشمیر کو دو حصوں میں منقسم کرنے کے بعد سرکاری چھٹی کو بھی منسوخ کیا گیا اور لیڈروں کو بھی مزار پر حاضر ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے انہیں خانہ نظر بند رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا: ‘ہمارے شہیدوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں کے جذبے کو کچلا نہیں جا سکتا ہے’۔
انہوں نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘مجھے مزار شہدا، جوکشمیر کی مزاحمت کے علمبردار اور آمریت، جبر و نا انصافی کے خلاف ایک پائیدار علامت تھے، پر جانے سے روکنے کے لئے میرے گھر کے دروازوں کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ہمارے شہیدوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں کے جذبے کو کچلا نہیں جا سکتا ہے آج اس دن شہید ہونے والے مظاہرین کی یاد میں اس کا مشاہدہ کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے’۔
محبوبہ مفتی نے کہا: ‘5 اگست 2019 کو جموں وکشمیر کے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے، اس کو بے اختیار کر دیا گیا اور ہم سے ہر وہ چیز چھین لی گئی جو ہمارے لئے مقدس تھی اور وہ ہم سے اجتماعی یادوں کی ہر یاد کو چھین لینے کا ارادہ رکھتے ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘لیکن ایسے حملے اپنے حقوق اور وقار کے لئے جنگ جاری رکھنے کے ہمارے عزم کو مستحکم کریں گے’۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہاں بند دروازوں اور لوگوں کو جموں وکشمیر میں ایک منصفانہ اور جمہوری حکومت قائم کرنے کے لئے اپنی جانیں نچھاور کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کا ایک اور دور دیکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان شہیدوں نے جموں وکشمیر میں ایک منصفانہ اور جمہوری حکومت قائم کرنے کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔
عمر عبداللہ نے ‘ایکس’ پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا: ‘ایک اور 13 جولائی، یوم شہدا، بند دروازوں اور لوگوں کو جموں وکشمیر میں ایک منصفانہ اور جمہوری حکومت قائم کرنے کے لئے اپنی جانیں نچھاور کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سے روکنے کا ایک اور دور دیکھا گیا۔انہوں نے کہا: ‘ملک میں ہر جگہ ان لوگوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا جاتا لیکن جموں وکشمیر میں انتظامیہ ان کی قربانیوں کو نظر انداز کرنا چاہتی ہے’۔ان کا دعویٰ ہے: ‘یہ آخری سال ہوگا جب وہ ایسا کر سکیں گے،انشااللہ اگلے سال 13 جولائی کو سنجیدگی اور احترام کے ساتھ منایا جائے گا’۔
جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون نے بھی سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ کا سہارا لے کر انہیں خانہ نظر بند رکھنے کا دعویٰ کیا۔انہوں نے کہا: ‘بغیر کسی وجہ کے، مجھے گھر میں نظر بند رکھا گیا، میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ انتظامیہ کو لوگوں کو مزار شہدا پر جانے سے روکنے سے کیا فائدہ حاصل ہو رہا ہے’۔
ادھر ناصر اسلم وانی اور سلمان ساگر کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے کئی لیڈروں نے بھی خانہ نظر بندی کا دعویٰ کیا۔تاہم لیڈروں کی خانہ نظر بندی کے متعلق پولیس کی طرف سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور سری نگر پارلیمانی نشست کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘بی جے پی کے دور حکومت میں جمہوری ملک سمجھے جانے والے اس ملک کا اخلاقی کمپاس اتنا غلط ہوا ہے کہ وہ ان شہیدوں (13 جولائی) سے بھی خوفزدہ ہے جنہوں نے بے رحم بادشاہت اور آمریت کے خلاف جد وجہد میں اپنی جانیں نچھاور کیں ان شہیدوں نے آزادی اور انسانی وقار کی سر بلندی کے لئے اپنا خون پیش کیا’۔انہوں نے کہا: ‘پولیس اور انتظامیہ جو ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتی تھی اب ان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس قبرستان کی طرف جانے والے راستوں کو بند کریں اور جو وہاں جانا چاہتے ہیں ان کے دروازوں کو مقفل کریں’۔ان کا کہنا تھا: ‘یہ نہ صرف آزادی اور جمہوریت کے نظریے کی بے حرمتی ہے بلکہ ان اقدار کی بہت بڑی او بد صورت تبدیلی بھی ہے جن پر اس ملک کی بنیاد رکھی گئی تھی’۔
دریں اثنا پولیس نے نینشل کانفرنس اور جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے لیڈروں کو بھی مزار شہدا پر جانے سے روک دیا۔ذرائع نے بتایا کہ پارٹی صدر سید الطاف بخاری کی قیادت میں یہاں شیخ باغ میں واقع ان کی رہائش گاہ سے ہفتے کی صبح پارٹی کے لیڈروں نے مزار شہدا کی طرف جانے کی کوشش کی تاہم وہاں تعینات پولیس نے انہیں روک دیا۔
قبل ازیں اپنی پارٹی نے ایک بیان میں کہا: ’13 جولائی کو جموں و کشمیر کی تاریخ میں بہت اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ ہمارے کئی بزرگوں کی قربانیوں کا دن ہے جنہوں نے 1931 میں اس دن اپنی جانیں قربان کرکے جمہوریت کی راہ ہموار کی۔
نیشنل کانفرنس کے لیڈروں نے بھی پارٹی ہیڈ کوارٹر نوائے صبح سے مزار شہدا کی طرف جانے کی کوشش کی لیکن ان کو بھی آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس نے اپنے چیرمین میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو گھر میں نظر بند رکھنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا: ‘حریت کانفرنس کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ مسائل اور تنازعات کو پُر امن طریقے سے حل کیا جائے تاکہ خطے میں دائمی امن و سلامتی یقینی بن سکے’۔
انہوں نے اپنے چیرمین جناب میرواعظ ڈاکٹرمولوی محمد عمر فاروق کو ایک بارپھر انتظامیہ کی جانب سے گھر میں نظر بند کئے جانے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا: ‘جناب میرواعظ کو نظر بند کرکے مزار شہداء نقشبند صاحب میں انکی حاضری اور شہداءکو خراج عقیدت اور فاتحہ خوانی سے روک دیا گیا جبکہ برسوں سے یہ روایت رہی ہے کہ اس دن قیادت اور عوام مزار شہداءپر جاکرشہداءکو نذرانہ عقیدت پیش کرتے تھے لیکن کئی برسوں سے سرکاری سطح پر پابندیاں عائد کئے جانے سے ان تقریبات کے انعقاد کو ناممکن بنا دیا گیا۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
