جموں و کشمیر
پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے حالیہ جموں و کشمیر، لداخ ہائی کورٹ کے فیصلے پر اہم میٹنگ کا انعقاد کیا
سینئر قانون دان ایڈوکیٹ ظفر شاہ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر قانونی وضاحت فراہم کی
کورٹ کا فیصلہ ہزاروں طلباء کے لیے امید کی کرن ہے: صدر جی این وار
سرینگر: پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر نے حالیہ ہائی کورٹ فیصلے پر ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا۔ اس میٹنگ میں متعدد اسکولوں کے نمائندے شریک ہوئے جو کہ کمیونٹی زمینوں، جیسے کہ کہچرائی، شملات اور ریاستی زمینوں پر کام کر رہے ہیں، تاکہ فیصلے سے پیدا ہونے والے فوری مسائل پر بات چیت کی جا سکے اور ہزاروں طلباء کی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
اس کانفرنس میں سینئر قانون دان ایڈوکیٹ ظفر شاہ کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا، جبکہ دیگر معزز مہمانوں میں پی ایس اے جے کے، کے صدر جی این وار، ایڈوکیٹ آصف فیروز، اور چیف آرگنائزر شاہ گلزار بھی موجود تھے۔
اپنی افتتاحی تقریر میں پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے چیف آرگنائزر شاہ گلزار نے کہا، “آج کی میٹنگ ہمارے اسکولوں کے حقوق اور ہمارے طلباء کے مستقبل کے تحفظ کے سفر میں ایک اہم قدم ہے۔ حالیہ ہائی کورٹ کا فیصلہ اہم مضمرات کا حامل ہے، اور آج ہمارا ایجنڈا ایک واضح اور اسٹریٹجک راستہ طے کرنا ہے،” انہوں نے گفتگو کی اہمیت پر زور دیا۔
اس تقریب میں سینئر قانون دان ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ کا بصیرت افروز خطاب تھا، جنہوں نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فیصلے کی جامع وضاحت فراہم کی، خاص طور پر ان اسکولوں پر اس کے اثرات پر روشنی ڈالی جو ریاستی اور کمیونٹی زمینوں پر چل رہے ہیں۔ “ہائی کورٹ کا فیصلہ اسکولوں کو اپنی زمین کی حیثیت کو ریگولرائز کرنے کے لیے ایک منظم طریقہ فراہم کرتا ہے، قانون کی پاسداری کو یقینی بناتا ہے اور جموں و کشمیر میں تعلیمی اداروں کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔ یہ ان اسکولوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے جو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں،” ایڈوکیٹ شاہ نے وضاحت کرتے ہوئے اسکولوں کے لیے دستیاب قانونی راستوں پر روشنی ڈالی۔
ایڈوکیٹ شاہ نے مزید ہائی کورٹ کے فیصلے کی تفصیلات پر بھی روشنی ڈالی: معزز جموں و کشمیر، لداخ ہائی کورٹ، قائم مقام چیف جسٹس تاشی ربستان کی قیادت میں، حال ہی میں ریاستی اور کمیونٹی زمینوں پر چلنے والے نجی اسکولوں کو اہم راحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ اسکول یا تو اپنی زمین حاصل کر سکتے ہیں یا متعلقہ حکام، بشمول پرنسپل سیکرٹری ایجوکیشن حکومت، محکمہ اسکول ایجوکیشن، یو ٹی آف جے اینڈ کے، اور جے اینڈ کے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن، سے اپنی درخواستیں پیش کر سکتے ہیں۔ اس عمل میں متعلقہ قوانین کے تحت زمینوں کا تبادلہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اسکولوں کو اپنی درخواستیں پیش کرنے کے لیے چار ہفتے کی مہلت دی گئی ہے، اور سرکار کو فیصلے کے لیے چار ماہ کا دیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسکولوں کو اس مدت کے دوران اپنے کام کو جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ طلباء کی تعلیم میں کوئی خلل نہ ہو۔
پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے صدر جی این وار نے کانفرنس کی صدارت کی اور قانونی ماہرین، اسکولوں کے نمائندوں، اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے حالیہ فیصلے سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے میں اتحاد اور اسٹریٹجک عمل کی اہمیت پر زور دیا۔ “یہ عدالت کا فیصلہ نہ صرف ایک قانونی فتح ہے بلکہ ہزاروں طلباء اور ان کے خاندانوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ ہماری اجتماعی کوششیں یہ یقینی بنائیں گی کہ تعلیم بلا تعطل جاری رہے اور ہمارے اسکول مشکلات کے باوجود ترقی کریں”۔
ایڈوکیٹ آصف نذیر، جو اس کیس میں بطور قانونی معاون کام کر رہے تھے، نے فعال اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، “یہ فیصلہ صرف عارضی راحت نہیں ہے بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم فوری اور مربوط عمل کریں تاکہ تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے اور اسکولوں اور ان کے طلباء کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔”
اپنی اختتامی تقریر میں پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن جموں و کشمیر کے صدر جی این وار نے تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، ان کے عزم کو سراہا، اور کانفرنس اور وسیع تعلیمی کمیونٹی کے لیے ان کی قیمتی خدمات کے اعتراف میں سینئر قانون دان ایڈوکیٹ ظفر شاہ اور ایڈوکیٹ آصف فیروز کو یادگار تحائف پیش کیے۔
پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے ان اسکولوں کی وکالت کے لیے اپنی لگن کی تصدیق کی، یہ یقینی بناتے ہوئے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہزاروں طلباء کی تعلیم محفوظ ہے۔ کانفرنس نے نہ صرف فیصلے کے قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی بلکہ نجی تعلیمی اداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مستقبل کے اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
