ہندوستان
گوئل کی صدارت میں مخصوص معدنیات کی سپلائی چین کو وسعت دینے میں تعاون پر ہند-امریکہ معاہدے پر دستخط
نئی دہلی، تجارت اور صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل کے دورہ امریکہ کے دوران دونوں ممالک نے اہم معدنیات کی سپلائی چین میں باہمی تعاون کے لئے اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کئے۔
مسٹر پیوش گوئل نے کل واشنگٹن میں امریکی وزیر تجارت جین ریمنڈ کے ساتھ اس معاہدے کے دستاویزات کا تبادلہ کیا۔
مسٹر گوئل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اس بارے میں معلومات دیتے ہوئے کہا، “اہم معدنیات کی سپلائی چین کو وسعت دینے اور متنوع بنانے کے لیے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان مفاہمت نامے پر دستخط کا اعلان کرکے خوشی ہوئی۔ یہ معاہدہ ہندوستان-امریکہ کمرشل ڈائیلاگ کی چھٹی میٹنگ کی خاص بات تھی۔ میں نے امریکی کامرس سکریٹری ریمنڈو کے ساتھ اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کی، جہاں ہم نے سال بھر اہم ترجیحات پر مستحکم پیشرفت کو یقینی بنانے کے لیے نتائج پر مبنی کارروائیاں کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔”
مسٹر پیوش گوئل نے مزید کہا، “ہم ہند-امریکہ تجارتی اور کاروباری شراکت داری کے بے پناہ مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور موجودہ شعبوں کو مضبوط کرنا جاری رکھیں گے۔”
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے دوران صدر جو بائیڈن کے ساتھ ان کی بات چیت میں حکمت عملی کے تعاون کے منتخب شعبوں میں مخصوص معدنیات کی سپلائی چین کو بڑھانے میں تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
آر بی آئی نے ‘ان فیڈنگ ورلڈ بینک’ کے خلاف عوام کو کیا خبردار، کہا کہ ادارے کے پاس بینکنگ لائسنس نہیں
نئی دہلی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ایک عوامی نوٹس جاری کرکے لوگوں کو ‘ان فیڈنگ ورلڈ بینک’ نامی ادارے کے ساتھ لین دین کرنے سے خبردار کیا ہے۔ آر بی آئی نے کہا ہے کہ اس ادارے کے پاس بینکنگ لائسنس نہیں ہے اور اس میں جمع کی گئی رقم ملک کے ڈپازٹ انشورنس نظام کے تحت محفوظ نہیں ہے۔
آر بی آئی کے شعبۂ نگرانی، کانپور کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق، اس ادارے کی جانب سے لفظ ‘بینک’ کا استعمال بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 7 کی خلاف ورزی ہے۔
نوٹس میں اس ادارے کی ویب سائٹ unfeedingworldbank.com بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے اسے بینکنگ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے، ”مذکورہ ادارے کو نہ تو ریزرو بینک نے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کے تحت کوئی بینکنگ لائسنس جاری کیا ہے اور نہ ہی اسے ریزرو بینک کی جانب سے بینکنگ کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔”
آر بی آئی نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صارفین نے اس ادارے میں کوئی رقم جمع کی ہے تو وہ ڈپازٹ انشورنس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن (ڈی آئی سی جی سی) کے بیمہ تحفظ کی اہل نہیں ہوگی۔ ڈپازٹ انشورنس نظام کے تحت بیمہ شدہ بینکوں میں اہل جمع شدہ رقوم کو مقررہ شرائط کے مطابق ہر جمع کنندہ کے لیے 5 لاکھ روپے تک تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، یہ تحفظ غیر مجاز بینکنگ اداروں پر نافذ نہیں ہوتا۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے ساتھ مالی لین دین کرنے والے افراد ایسا اپنی ذمہ داری اور خطرے پر کریں گے۔ اس کے علاوہ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بینکنگ یا مالی خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والے اداروں کی پیش کشوں پر عمل کرنے سے پہلے احتیاط برتیں اور ضروری جانچ پڑتال کرلیں۔
آر بی آئی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ کوئی ادارہ بینکنگ سرگرمیاں انجام دینے کا مجاز ہے یا نہیں۔ اس کے لیے وہ آر بی آئی کی ویب سائٹ پر موجود بینکوں اور رجسٹرڈ غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں کی سرکاری فہرست دیکھ سکتے ہیں۔
یو این آئی ۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
