ہندوستان
امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی قیادت میں اڈیشہ کے وفد کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے ملاقات
نئی دہلی، وقف ترمیمی بل پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر و سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں اڈیشہ کے وفدنے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی)کے چیرمین جگدمبیکا پال سے ملاقات کرکے وقف بل کے سلسلے میں ایک عرضداشت پیش کی۔
وفد میں قاضی محمد صبغت اللہ داؤد قاسمی قاضی شریعت امارت شرعیہ کٹک، کمال فاروقی ایگزیکٹو ممبر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مفتی محمد ابرار سکریٹری جمیعت علماء کٹک، مفتی سعید انور سالم رکن ہیومن رائٹ کاؤنسل، مفتی محمد ثاقب جماعت اسلامی کٹک، محمد مظہر ارشد قومی صدر انڈین ہیومن رائٹس، ؤحامد ولی فہد رحمانی رکن مشاورتی کمیٹی امارت شرعیہ، مولانا عبدالسبحان قاسمی رکن مشاورتی کمیٹی امارت شرعیہ اور حافظ محمد احتشام عالم رحمانی رکن مشاورتی کمیٹی امارت شرعیہ شریک تھے۔
جاری ایک ریلیز کے مطابق میٹنگ میں جے پی سی کے چیئرمین اور اراکین موجود تھے۔ سب سے پہلے حضرت امیر شریعت نے وفد میں موجود تمام لوگوں کا تعارف کروایا۔ اس کے بعد انہوں نے تفصیل کے ساتھ وقف کی آئینی اور شرعی حیثیت پر روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ یہ بل سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں، عرف اور آئین میں دی گئی مذہبی امور کی آزادی کے خلاف اور دستور کی روح سے متصادم ہے انہوں نے مثال دیتے ہوئے کئی دفعات کا ذکر کیا اور ان کا حوالہ دے کر جے پی سی کو سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ،ساتھ ہی ساتھ ملک کے مسلمان اور امن پسند شہریوں کی بے چینی سے بھی جے پی سی کو باخبر کیا اور صاف لفظوں میں کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 نہایت ہی تکلیف دہ اور پریشان کن ہے اور اس سے ملک میں بڑی بے چینی پیدا ہوگئی ہے لہذا جے پی سے اس بل کو مکمل طور پر مسترد کرنے کی تجویز پیش کرے تاکہ بےچینی ختم ہو اور دستور پر اعتماد باقی رہے۔
جے پی سی کی طرف سے کئی سوالات کئے گئے جن کا وفد کے قائد امیر شریعت اور وفد کے شرکاء نے اطمینان بخش جواب دیا ، اور پھر امیر شریعت نے بھی جے پی سی سے متعدد بنیادی و اصولی سوالات کئے اور متعدد خدشات کا وضاحت کے ساتھ اظہار کیا، جس پر جے پی سی کی طرف سے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی گئی اور خدشات کو سنجیدگی سے لیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی حضرت امیر شریعت نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے مجوزہ ترامیم کے ممکنه منفی اثرات کا جائزہ پیش کیا اور فرمایا کہ اس کے منفی اثرات نہ صرف مسلم برادری بلکہ ملک کی دیگر مذہبی برادریوں کے مذہبی، ثقافتی املاک اور حقوق پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
خاص طور پر آئین کی دفعات 14، 15، 25، 26 اور 300 کی خلاف ورزیوں، عدالتی اصولوں کے نظر انداز کرنے، اور مذہبی خود مختاری کے خاتمے پر بات کی گئی۔ سپریم کورٹ کے مشہور فیصلے جیسے شیرور منه كيس (1954) يونين آف انڈیا بمقابلہ از گاندهی (2010) اور ایل چندرا کمار بمقابلہ یونین آف انڈیا (1997)، نے مذہبی وقفوں کے تحفظ کے حوالے سے مضبوط اصول متعین کیے ہیں، جو ان ترامیم کے باعث خطرے میں ہیں۔
یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ ترامیم آئندہ کے لئے خطرناک نظیر قائم کر سکتی ہے جس کا نقصان دوسری مذہبی برادریوں کو بھی اٹھانا پڑے گا، اور ملک کا سیکولر ڈھانچہ بکھر کر رہ جائے گا۔
ان تشویشات کی بنیاد پر بھی ہم لوگ جے پی سی سے ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ جے پی سی آئین و قانون ، اور کثرت میں وحدت جیسے رواداری کو فروغ دینے والے نقطۂ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے غور کرے اور مجوزہ ترامیم کو مسترد کرنے کی تجویز پیش کرے۔ تاکہ وقف املاک اور مختلف مذاہب کے انڈومنٹس کی خود مختاری محفوظ رہے اور آئینی حقوق کی پامالی نہ ہو۔
واضح رہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آواز پر امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے وقف ترمیمی بل کے خلاف سلسلہ وار مہم چلائی۔ امارت نے سب سے پہلے جے پی سی کو عوامی رائے بھیجنے میں بورڈ کو بھرپور تعاون دیا اور امارت کے بنائے ہوئے نظام کے تحت جے پی سی کو 3کروڑ 65 لاکھ 71 ہزار 9 سو 63 رائے بورڈ کے پلیٹ فارم سے بھیجے گئے۔اس کے بعد مرحلہ وار کئی طریقوں سے مہم چلائی اور چلا رہی ہے مثلا بل کو مسترد کرانے اور وقف کو سمجھانے کیلئے سیاسی جماعتوں سے ملاقات،پٹنہ کے باپو سبھاگار آڈیٹوریم میں عظیم الشان کانفرنس، تحفظ اوقاف کے متعدد ورکشاپ، پنچایتوں تک مہم کو پہونچانے کی تحریک اور ڈی ایم کو میمورنڈم دینے کا سلسلہ وغیرہ ۔
ڈی ایم کو میمورنڈم دینے کے سلسلہ کے دوران حضرت امیر شریعت کی ہدایت پر اڈیشہ کے شہر کٹک کے قاضی مولانا صبغت اللہ نے جے پی سی کی رکن اور اڈیشہ سے ہی رکن پارلیمان اپراجیتا سارنگی سے ملاقات کر کے انہیں میمورینڈم پیش کیا اور بل کی مخالفت کر کے آئین کی حفاظت میں حصہ دار بننے اور آپسی بھائی چارگی کے فروغ میں کردار ادا کرنے کی گزارش کی۔ انہوں نے میمورینڈم اور گزارش قبول کیا ساتھ ہی کہا کہ وہ جے پی سی کے چیئرمین بلکہ تمام ممبران سے وقت لے کر ان سے امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کی ملاقات کرائیں گی۔ اسی وعدے کے تحت انہوں نے مورخہ 28 اکتوبر کو جے پی سی ممبران سے امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کی کامیاب اور کارآمد ملاقات کروائی۔یہ میٹنگ انتہائی خوشگوار فضاء میں اطمینان بخش طریقے سے اختتام پذیر ہوئی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی کل وارانسی میں گارمنٹ فیکٹری اور بھونیشور میں ریزرو بینک کے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو اتر پردیش اور اڈیشہ کے دورے پر رہیں گے۔
وزیر اعظم وارانسی میں اَروِند لمیٹڈ کی نئی گارمنٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقد ہونے والے ‘ونگز اوور گنگا’ پروگرام میں ایئر فورس ڈے ایریل ڈسپلے-2026 کا مشاہدہ کریں گے۔ اڈیشہ کے بھونیشور میں وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے اور اجتماع سے خطاب کریں گے۔
وارانسی میں قائم کی گئی نئی گارمنٹ فیکٹری کا مقصد ملک کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تیاری کے شعبے کو مضبوط بنانا اور علاقے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے والا یہ ادارہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ عالمی صارفین سے منسلک اس منصوبے کے ذریعے وارانسی میں تیار ہونے والی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں گی۔ یہ منصوبہ خواتین کی قیادت میں ترقی اور اتر پردیش میں صنعتی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
وزیر اعظم دوپہر میں وارانسی کے نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے ایریل ڈسپلے-2026 میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ‘ونگز اوور گنگا’ کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستانی فضائیہ کی 94ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس، ہلکا لڑاکا ہیلی کاپٹر پرچنڈ، سخوئی-30 اور رافیل لڑاکا طیاروں سمیت ٹرانسپورٹ طیارے حصہ لیں گے۔ ہندوستانی بحریہ اور فوج کے طیارے بھی مشترکہ آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔
ایئر شو میں ہندوستانی فضائیہ کی اہم مظاہرہ کرنے والی ٹیمیں، سوریہ کرن ایروبیٹک ٹیم اور سارنگ ہیلی کاپٹر ڈسپلے ٹیم بھی حصہ لیں گی۔ مظاہرے کے دوران پرواز کی مہارت، باہمی تال میل اور آپریشنل کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس کے بعد مسٹر مودی اڈیشہ کے بھونیشور پہنچیں گے۔ شام کو وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نو تعمیر شدہ ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے۔ ان سہولتوں کو بینک کی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کرنے اور بینکاری و مالیاتی شعبے کو محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کمپلیکس میں چار جدید ترین ڈیٹا سینٹر ہوں گے، جہاں ادائیگی اور تصفیے کے نظام سمیت اہم ڈیجیٹل خدمات چلائی جائیں گی۔ اس سہولت کو اپ ٹائم انسٹی ٹیوٹ کے ٹیئر-4 معیار کی سند حاصل ہوئی ہے، جسے ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل مضبوطی کے لیے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی ٹائر-4 سند یافتہ سہولتوں میں شامل ہے۔
بھونیشور میں قائم سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا مقصد سائبر سکیورٹی اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت، تحقیق اور ماہرین کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ادارہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبوں سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ بینک کے مطابق، یہ دونوں سہولتیں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoیوپی، اتراکھنڈ اور پنجاب انتخابات سے پہلے بی ایس پی کے خلاف ‘فرضی سروے’ کی تشہیر، کارکنان ہوشیار رہیں: مایاوتی
