ہندوستان
راج ناتھ نے ’دیش کا ولبھ‘ اور میوزیم آف ویلور قوم کے نام وقف کی
نئی دہلی، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے جمعرات کو اروناچل پردیش کے توانگ میں واقع بھارت رتن سردار ولبھ بھائی پٹیل کا ’دیش کا ولبھ‘ مجسمہ اور میجر رالینگناو ’بوب‘ کھتھنگ ’میوزیم آف ویلور‘ قوم کے نام وقت کی وزیر دفاع نے تیز پور، آسام میں 4 کور ہیڈ کوارٹر سے اس کا افتتاح کیا انہوں نے توانگ کا دورہ کرنا تھا، لیکن خراب موسم کی وجہ سے نہیں جا سکے۔ نقاب کشائی روشنیوں کے تہوار ‘دیپاوالی’ کے ساتھ ساتھ ’راشٹریہ ایکتا دیوس‘ کے ساتھ ہوئی جو ہر سال 31 اکتوبر کو پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یوم پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
وزیر دفاع نے ایل اے سی کے ساتھ بعض علاقوں میں زمینی صورتحال کو بحال کرنے کے لئے ہندوستان اور چین کی طرف سے حاصل کئے گئے وسیع اتفاق رائے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے خطاب کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا ‘‘ہندوستان اور چین ایل اے سی کے ساتھ کچھ علاقوں میں اختلافات کو حل کرنے کے لیے سفارتی اور فوجی دونوں سطحوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔ بات چیت کے نتیجے میں مساوی اور باہمی سلامتی کی بنیاد پر ایک وسیع اتفاق رائے پیدا ہوا۔ اتفاق رائے میں روایتی علاقوں میں گشت اور جانوروں کےچرنے کے حقوق شامل ہیں۔ اس اتفاق رائے کی بنیاد پر علیحدگی کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ معاملے کو منحرف ہونے سے آگے لے جایا جائے۔ لیکن اس کے لیے ہمیں تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا’’۔
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے سردار پٹیل کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا، جنہیں ہندوستان کا مردآہن بھی کہا جاتا ہے، آزادی کے بعد 560 سے زیادہ شاہی ریاستوں کو متحد کرنے میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو ان کے ناقابل تسخیر عزم اور متحد ہندوستان کے عزم کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘یہ مجسمہ ‘دیش کا ولبھ’ لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے گا جو انہیں اتحاد کی طاقت اور غیر متزلزل جذبے کی یاد دلائے گا جو کہ ہماری طرح متنوع قوم کی تعمیر کے لیے درکار ہے۔’’
وزیر دفاع نے میجر بوب کھتھنگ کو بھی خراج عقیدت پیش کیا، جو ایک غیر معمولی شخصیت ہیں جنہوں نے شمال مشرقی خطہ اور قومی سلامتی کے لیے انمول شراکت کی۔ ‘‘میجر کھتھنگ نے نہ صرف توانگ کے ہندوستان میں پرامن انضمام کی قیادت کی بلکہ ضروری فوجی اور سیکورٹی فریم ورک بھی قائم کیا، جس میں سشستر سیما بل، ناگالینڈ آرمڈ پولیس، اور ناگا رجمنٹ شامل ہیں۔ ‘میوزیم آف ویلور’ اب ان کی بہادری اور دور اندیشی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کھڑا ہے، جو آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہےگا۔
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے اتحاد اور ہم آہنگی کی اہمیت اور ملک کی شناخت میں شمال مشرق کے منفرد کردار پر زور دیا۔ انہوں نے پورے خطے کی اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو یقینی بنانے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کو دہرایا۔ ‘‘قوم کی ہمہ گیر ترقی تب ہی ممکن ہے جب شمال مشرق خوشحال ہو۔ ہم ایک ایسا شمال مشرق بنائیں گے جو نہ صرف قدرتی اور ثقافتی طور پر بلکہ اقتصادی طور پر بھی مضبوط اور خوشحال ہو۔’’
وزیر دفاع نے خطے کی ترقی میں بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او) کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آسام اور توانگ کو جوڑنے والی سیلا ٹنل کا خصوصی تذکرہ کیا، جو ایک ایسا پروجیکٹ ہے جو شمال مشرقی علاقوں میں رابطے کو بڑھاتا ہے۔ ‘‘آنے والے وقتوں میں، اروناچل فرنٹیئر ہائی وے پروجیکٹ پورے شمال مشرقی علاقے، خاص طور پر سرحدی علاقوں کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ 2,000 کلومیٹر طویل شاہراہ خطے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کے لیے ایک اہم تزویراتی اور اقتصادی اثاثہ ثابت ہو گی۔
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے این سی سی کے اقدامات اور مقامی اقتصادی مدد سے لے کر آفات سے نمٹنے کی اہم کوششوں تک خطے میں مسلح افواج کی شمولیت کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا ‘‘مسلح افواج نہ صرف سیکورٹی فراہم کرتی ہیں بلکہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ تعاون کرکے اس خطے میں ترقی کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ اس سے شمال مشرق میں ترقی، امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے ہندوستان کے عزم کو مزید تقویت ملتی ہے،‘‘ ۔
اروناچل پردیش کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل کے ٹی پارنائک (ریٹائرڈ)، اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو؛ پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو؛ منی پور کے وزیر اعلی این بیرن سنگھ؛ اروناچل پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ چونا مین اور میجر باب کھتھنگ کے اہل خانہ افتتاحی مقام پر موجود تھے۔ آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی؛ جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف، ایسٹرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل آر سی تیواری؛ جی او سی 4 کور لیفٹیننٹ جنرل گمبھیر سنگھ اور دیگر سینئر سول اور فوجی حکام نے وزیر دفاع کے ساتھ عملی طور پر اس تقریب میں شرکت کی۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
