جموں و کشمیر
ہنگامہ آرائی کے بیچ جموں و کشمیر اسمبلی نے خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے قرارداد منظور کی
سری نگر بی جے پی کے زبردست ہنگامے اور احتجاج کے بیچ جموں و کشمیر اسمبلی نے بدھ کو خصوصی حیثیت کی بحالی کے لئے قرارداد صوتی ووٹ سے منظور کی۔قرارداد میں حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے منتخب نمائندوں کے ساتھ خصوصی حیثیت کی بحالی اور آئینی طریقہ کار پر کام کرنے کے لیے بات چیت شروع کرے۔
بدھ کی صبح جوں ہی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا تو نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے خصوصی حیثیت کی بحالی کی قرار داد پیش کی جس کی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے حمایت کی۔قرار داد کا مسودہ بڑی چالاکی سے تیار کیا گیا تھا اورا س میں دفعہ 370یا 5اگست 2019کا ذکر نہیں کیا گیا ۔
قرارداد میں کہا گیا کہ یہ قانون ساز اسمبلی خصوصی حیثیت اور آئینی ضمانتوں کی اہمیت کی توثیق کرتی ہے، جو جموں و کشمیر کے لوگوں کی شناخت، ثقافت اور حقوق کا تحفظ اور ان کی یکطرفہ برطرفی پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔اس میں مزید کہا گیا کہ یہ اسمبلی حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے منتخب نمائندوں کے ساتھ خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے۔
قرارداد کے متن میں مزید لکھا گیا ہے کہ “یہ اسمبلی اس بات پر زور دیتی ہے کہ بحالی کے لیے کسی بھی عمل کو قومی اتحاد اور جموں و کشمیر کے لوگوں کی جائز امنگوں کا تحفظ کرنا چاہیے۔”جب یہ قرارداد پیش کی گئی تو بی جے پی ممبران اسمبلی نے کھڑے ہو کر احتجاج کیا۔
بھاجپا ممبران نے ایوان کے وسط میں آکر سپیکر پر جانبدارانہ رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے قرارداد واپس لینے کا مطالبہ کیا۔بی جے پی کی جانب سے سپیکر کے خلاف نعرے بازی کرنے کے ساتھ ہی نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور قرارداد کے حق میں نعرے لگائے۔اس دوران نیشنل کانفرنس اور بی جے پی ممبران کے درمیان تلخ کلامی کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔
پی ڈی پی کے ایم ایل ایز ، پیپلز کانفرنس چیرمین سجاد لون ، عام آدمی پارٹی کے ممبر اسمبلی معراج ملک اور دیگر آزاد اراکین نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف نعرے لگائے۔
ہنگامہ آرائی کے دوران کانگریس کے چھ ممبران اسمبلی نے خاموشی اختیار کی۔سپیکر عبدالرحیم راتھر نے بی جے پی ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ قرار داد پر ووٹنگ کرنے کے لئے بھی تیار ہے لیکن بی جے پی کی جانب سے شور شرابہ اور ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔بی جے پی کی جانب سے احتجاج کے باوجود بھی صوتی ووٹ کے ذریعے اس اہم قرار داد کو منظور کیا گیا۔
قرار داد منظور ہونے کے ساتھ ہی بی جے پی کے سبھی ممبران اسمبلی ایوان کے وسط میں آئے اور جے شری رام کے نعرے لگائے ۔ اس دوران نیشنل کانفرنس اور بی جے پی ممبران کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
بی جے پی ایم ایل ایز کی جانب سے احتجاج جاری رکھنے کے پیش نظر سپیکر نے ایوان کی کارروائی دس منٹ تک ملتوی کی ۔جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو بی جے پی نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھااور نعرے لگائے پاکستانی ایجنڈا قبول نہیں کیا جائے گا۔بی جے پی ایم ایل اے اور قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے اسپیکر پر الزام لگایا کہ ہمیں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ سپیکر نے نیشنل کانفرنس ممبران اسمبلی کے ساتھ دیر شام میٹنگ کے دوران قرارداد کا مسودہ تیار کیا۔
سپیکر نے بی جے پی ممبران اسمبلی پر زور دیا کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں ایوان میں اس پر بحث کرنے کے لئے تیار ہے تاہم احتجاج جاری رہنے کے بیچ سپیکر نے کہاکہ بہت ہوگیا آپ کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ہنگامہ آرائی کے درمیان سپیکر نے کارروائی مزید ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا۔ جب ایوان کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو بی جے پی نے احتجاج جاری رکھااور سپیکر کے خلاف نعرے بازی کی ۔
سپیکر نے اس کے جواب میں کہاکہ اگر بی جے پی ممبران کو مجھ پر اعتماد نہیں تو تحریک عدم اعتماد لائیں اور ایوان کی کارروائی جمعرات تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔پانچ اگست 2019کو جموں وکشمیر میں دفعہ 370کو منسوخ کرکے دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔خصوصی حیثیت کی بحالی کی خاطر جموں وکشمیر کی سیاسی پارٹیوں نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں عرضیاں دائر کیں تاہم عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال دسمبر میں ان عرضیوں کو مسترد کرکے پارلیمنٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
اسمبلی میں دفعہ 370کی بحالی کی قرار داد پاس ہونے کے بعد جموں وکشمیر میں سیاسی طوفان آگیا ہے ۔ بھاجپا کو چھوڑ کر سبھی سیاسی پارٹیوں نے نیشنل کانفرنس کے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔
جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ دفعہ370 کی بحالی کے متعلق قرار داد منظور کرکے اسمبلی نے اپنا کام کر دیا۔اس قرار داد کی منظوری کے بارے میں پوچھے جانے پر عمر عبداللہ نے میڈیا کو بتایا: ’اسمبلی نے اپنا کام کر دیا میں اس پر اتنا ہی کہوں گا‘۔
بی جے پی لیڈروں نے اسمبلی میں دفعہ 370 کی بحالی کے متعلق قرار داد کے خلاف زبردست احتجاج درج کیا اور اس کو ملک دشمن ایجنڈا قرار دیا۔انہوں نے کہا: ’یہ ملک دشمن ایجنڈا ہے، ہم اس قرار داد کو مسترد کرتے ہیں‘۔ سنیل شرما نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے دفعہ 370کی بحالی کی خاطر جو قرارداد پیش کی وہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے۔انہوں نے کہاکہ دفعہ 370ایک تاریخ ہے اور اگر فاروق عبداللہ کی ہزار پیٹیاں بھی جنم لیں تب بھی یہ قانون بحال نہیں ہوگا۔انہوں نے الزام لگایا کہ دفعہ 370کو بحال کرکے نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر میں امن و امان کو درہم برہم کرنا چاہتی ہے۔
کانگریس صدر طاریق حمید قرہ نے کہاکہ جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ کی بحالی کا فیصلہ خوش آئند اقدام ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کانگریس کا یہ اصولی موقف ہے کہ جموں وکشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دیا جائے اور زمینوں اور نوکریوں کے حقوق یہاں کے لوگوں کو ہی دئے جائیں۔
پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہاکہ دفعہ 370اور 35اے کی بحالی کی خاطر پی ڈی پی نیشنل کانفرنس کی قرارداد میں ترامیم لانے پر غور کر رہی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ آرٹیکل 370کی بحالی کے حوالے سے نیشنل کانفرنس کی جانب سے پیش کی گئی قرارد کمزور ہے۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی وہ قرار داد لائے گئی جس میں باضابط طورپر دفعہ 370اور 35اے کی بحالی کا ذکر ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی نے الیکشن سے قبل جموں وکشمیر کے لوگوں سے وعدہ کیا ہے کہ پارٹی خصوصی اختیارات کی بحالی کی خاطر کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرئے گی۔پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد غنی لون نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہاکہ آج جموں وکشمیر کے لوگوں نے پانچ اگست کے فیصلے کو مسترد کیا ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoگروپ ‘سی’ کے ریلوے ملازمین اب ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر نہیں لے سکیں گے ڈپوٹیشن
