فن و ادب
ششی کپور نے رومانوی ہیرو کے طورپر شناخت بنائی
(4دسمبر برسی کے موقع پر)
ممبئی،مشہور اداکار ششی کپور کا نام ایک ایسے اداکار کے طورپر لیا جائے گا جنہوں نے اپنی رومانوی اداکاری سے تقریباً تین دہائی تک شائقین کی بھرپور تفریح کی۔
18مارچ 1938 کو پیدا ہوئی ششی کپور کا اصل نام بلبیر راج کپور تھا ۔ان کا رجحان بچپن سے ہی فلموں کی جانب تھا د اور وہ اداکار بننا چاہتے تھے۔ان کے والد اور مشہور و مقبول اداکار پرتھوی راج کپور اور بھائی راج کپور اور شمی کپور فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار تھے۔ان کے والد اگر چاہتے تو وہ انہیں لے کر فلم بناسکتے تھے لیکن ان کا خیال تھا کہ ششی جدوجہد کریں اور اپنی محنت سے اداکار بنیں۔
ششی کپور نے اپنے طویل کریئر کی شروعات اپنے بچپن میں کرلی تھی۔چالیس کی دہائی میں انہوں نے کئی فلموں میں چائلڈ ایکٹر کے طورپر کام کیا۔ان میں 1948 میں ریلیز ہوئی فلم آگ اور 1951 میں آوارہ شامل ہیں جن میں انہوں نے راج کپور کے بچپن کا کردار ادا کیا ہے۔
پچاس کی دہائی میں ششی اپنے والد کے تھیئٹر سے وابستہ ہوگئے۔اسی دوران ہندوستان اور شمالی ایشیا کے سفر پر آئے برتانوی ڈرامہ گروپ شیکس پیئر سے وہ وابستہ ہوگئے جہاں ان کی ملاقات گروپ کے کنوینر کی صاحبزادی جینیفر کیڈل سے ہوئی۔وہ ان سے محبت کربیٹھے اور بعد میں انہی سے شادی کرلی۔
ششی کپور نے اداکار کے طورپر باقاعدہ شروعات 1961میں یش چوپڑا کی فلم دھرم پتر سے کی۔اس کے بعد انہیں ومل رائے کی فلم پریم پتر میں بھی کام کرنے کا موقع ملا لیکن بدقسمتی سے دونوں ہی فلمیں ناکام ثابت ہوئیں۔
اس کے بعد ششی کپور نے مہندی لگی میرے ہاتھ ،ہولی ڈے ان بامبے اور بے نظیر جیسی فلموں میں بھی کام کیا لیکن یہ سبھی فلمیں کچھ خاص کمال نہیں دکھا سکیں۔1965میں ششی کپور کے کریئر نے اہم موڑ لیا۔اس سال ان کی فلم جب جب پھول کھلےریلیز ہوئی۔بہترین نغموں ،موسیقی اور اداکاری سے آراستہ اس فلم کی زبردست کامیابی نے ششی کپور کے کریئر کو ایک نئی سمت دی۔
1965میں ہی ششی کپور کے کریئر کی ایک اور بہترین فلم وقت ریلیز ہوئی۔اس فلم میں ان کے سامنے بلراج ساہنی ،راج کمار اور سنیل دت جیتے مشہور اور بہترین اداکاری تھے۔اس کے باوجود اپنی اداکاری سے شائقین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے میں وہ کامیاب رہے۔یہ فلم اس وقت کی بہترین اور سپر ہٹ فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔
ان فلموں کی کامیابی کے بعد ششی کپور کی شبیہ رومانوی ہیرو کی بن گئی اور فلم ساز اور ہدایت کاروں نے بیشتر فلموں میں ان کی اسی شبیہ کو بھنایا۔1965سے 1976کے درمیان کامیابی کے سنہرے دور میں ششی کپور نے جن فلموں میں کام کیاان میں زیادہ تر ہٹ ثابت ہوئیں۔
80کی دہائی میں ششی کپور نے فلم پروڈکشن کے میدان میں بھی قدم رکھا اور جنون فلم بنائی۔اس کے بعد انہوں نے کلیوگ36چیرنگی لین،وجیتا،اتسو وغیرہ فلمیں بھی بنائیں۔حالانکہ یہ فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب نہیں ہوئیں لیکن ان فلموں کو ناقدین نے کافی پسند کیا۔
1991 میں اپنے دوست امیتابھ بچن کو لے کر انہوں نے اپنی کثیرالمقاصد فلم عجوبہ بنائی اور ہدایت کاری بھی کی لیکن بے جان اسکرپٹ کی وجہ سے فلم زیادہ کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔حالانکہ یہ فلم بچوں کو بہت پسند آئی۔
ششی کپور کے سنی کریئر میں ان کی جوڑی اداکارہ شرمیلا ٹیگور اور نندا کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔ان سب کے درمیان ششی کپور نے اپنی جوڑی سپر اسٹار امیتابھ بچن کے ساتھ بھی بنائی اور کامیاب رہے۔یہ جوڑی سب سے پہلے فلم دیوار میں ساتھ نظر آئی۔بعد میں اس نے ایمان دھرم،تریشول ،شان ،کبھی کبھی،روٹی کپڑا اور مکان،سوہاگ،سلسلہ،نمک ہلال،کالا پتھر اور اکیلا میں بھی کام کیا اور شائقین کی تفریح کی۔
90کی دہائی میں صحت خراب رہنے کی وجہ سے ششی کپور نے فلموں میں کام کرنا تقریباً بند کردیا۔1998میں ریلیز ہوئی فلم جناح ان کے کریئر کی آخری فلم ہے جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ششی کپور نے تقریباً 200فلموں میں کام کیا ہے۔ششی کپور کو فلم انڈسٹری کے سب سے اعزاز دادا صاحب پھالکے سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ ششی کپور کا انتقال 4 دسمبر 2017 میں ہوا۔
یواین آئی۔این یو۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
نئی دہلی، معروف اداکار، فلم ساز اور تھیٹر فنکار نانا پاٹیکر، جن کی پُرجوش اداکاری، منفرد آواز اور انسانی جذبات سے بھرپور کرداروں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے، جمعرات کی صبح 75 سال کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی سفر کا اختتام ہو گیا۔
نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن صبح 5:20 بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے ہندوستانی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے صرف ایک معروف اداکار کے انتقال پر افسوس نہیں کیا بلکہ ایسے فنکار کے کھو جانے کا دکھ منایا جس کی محض ایک نظر، ایک لمحے کی خاموشی یا مکالمے کی ایک سطر بھی پردے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نانا پاٹیکر کبھی روایتی معنوں میں فلمی ستارہ نہیں رہے۔ وہ ایسے اداکار تھے جو عام لوگوں کی جذباتی دنیا میں اتر جاتے تھے، ان کے غصے، زخموں، بے بسی، مزاحمت، کمزوری اور کبھی کبھی بے باک مزاح کو اپنے کرداروں میں پوری سچائی سے پیش کرتے تھے۔
ان کی اداکاری میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو مرکزی دھارے کی فلموں کے بناوٹی انداز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ ان کی منفرد آواز اور مکالمے ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عام سے عام جملے کو بھی جذبات اور اثر سے بھر دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز بلند کیے بغیر بھی پورے منظر پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور خاموشی کے ذریعے بھی کسی کردار کی پوری جذباتی داستان بیان کر دیتے تھے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے مشکلات سے بھرے بچپن کے بعد اپنی نسل کے سب سے قابل احترام اداکاروں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1978 میں ‘گمن’ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا اور ہندی و مراٹھی فلموں میں مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا۔
ان کی اصل شناخت ایسے کرداروں سے بنی جن میں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کی طاقت اور شخصیت کا اثر درکار تھا۔ 1989 کی فلم ‘پرندہ’ میں بے رحم انا کا خوفناک کردار ادا کرنے پر انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ میں شاندار اداکاری کی، جس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘انگار’، ‘ترنگا’، ‘اگنی ساکشی’ اور ‘خاموشی: دی میوزیکل’ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ۔ایم جے
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
