جموں و کشمیر
وزیر اعظم نریندر مودی کا تمام وعدوں کو پورا کرنے و دیگر کئی اہم امور پر تفصیلی خطاب
سری نگر وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے کئے گئے تمام وعدوں کو موزون وقت پر پورا کرنے، جموں وکشمیر میں تعمیر وترقی کا جال بچھانے اور دوسرے اہم معاملات پر کھل کر بات کی۔انہوں نے کہا: ‘ہر چیز کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے اور صحیح چیزیں صحیح وقت پر ہوں گی’۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کی جھلکیاں :
لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا عزم دہرایا :
نریندر مودی نے کہا: ‘آپ کو یقین کرنا ہوگا کہ یہ مودی ہے جو اپنے تمام وعدوں کو پورا کرتا ہے’۔انہوں 7ے کہا: ‘ہر چیز کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے اور صحیح چیزیں صحیح وقت پر ہوں گی’۔ان کا کہنا تھا: ‘جموں وکشمیر ملک کا تاج ہے اور میں اس تاج کو خوبصورت اور خوشحال دیکھنا چاہتا ہوں’۔
نریندر مودی نے کہا: ‘جموں و کشمیر میں امن کا ماحول چھایا ہوا ہے جس کے شعبہ سیاحت پرمثبت اثرات کو دیکھا جا رہا ہے اور آج کشمیر ترقی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کو بہت جلد ٹرین کے ذریعے ملک کے ساتھ جوڑا جائے گا اور اس حوالے سے یہاں لوگوں میں کافی جوش و خروش ہے۔
سونہ مرگ ٹنل کے بارے میں :
مسٹر مودی نے کہا کہ وہ سونہ مرگ ایک سیوک کی حیثیت سے آئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘ اس ٹنل سے جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگوں کی سختیاں دور ہوں گی۔نریندمودی نے اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا: ‘میں بی جے پی کے ایک کارکن کی حیثیت سے کشمیر آیا کرتا تھا اور گھنٹوں کئی کلو میٹر پیدل طے کرتا تھا’۔انہوں نے کہا: ‘دو روز قبل ہمارے وزیر اعلیٰ نے اپنے ایکس ہینڈل پر کچھ تصویریں شیئر کیں جنہیں دیکھ کر میں آپ لوگوں کے درمیان آنے کے لئے بے صبری سے انتطار کر رہا تھا’۔ان کا کہنا تھا: ‘جب میں بی جے پی کا کارکن تھا تو میں یہاں اکثر و بیشتر آیا کرتا تھا، میں نے یہاں خواہ وہ سونہ مرگ ہے، گلمرگ ہے، بارہمولہ ہے یا گاندربل ہے، کافی وقت گذارا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘ہم یہاں کئی کلو میٹر پیدل طے کرتے تھے ان دنوں بھی بھاری برف باری ہوتی تھی لیکن یہاں کے لوگوں کا جوش ہمیں کبھی سردی محسوس نہیں ہونے دیتا تھا’۔
لال چوک اور پولو وویو کے بارے میں :
پی ایم مودی نے کہاکہ لالچوک میں رات بھر بازاروں کی رونقیں بحال رہتی ہے اور لوگ یہاں پر آئیس کریم کھانے آتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پولیو وویو ایک نئے سیاحتی مرکز کے طورپر ابھر کر سامنے آرہا ہے اور یہاں آرٹسٹ اپنے ہنر دکھا کر سیاحوں کے دل موہ لیتے ہیں۔ان کے مطابق کشمیر کے لوگ اب فلمیں دیکھنے کے لئے سینما جاتے ہیں اور آرام سے خریداری کرتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہاکہ حالات بدلنے والے اتنے سارے کام کوئی سرکار اکیلے نہیں کرسکتی بلکہ اس کے لئے عوام الناس کا تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر کےلوگوں نے جمہوریت کو مضبوط کیا جس سے ان کا مستقبل بھی روشن ہوا ہے۔
پی ایم مودی نے کہاکہ کشمیر بھارت کا تاج ہے اور میری دلی خواہش ہے کہ اس تاج میں مزید نکھار آجائے ۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کے لوگوں نے اپنے سپنوں کو بدلنے کی خاطر کافی محنت کی اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مودی آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے گا۔انہوں نے کہاکہ جو کوئی بھی لوگوں کے سپنوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرئے گا تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا۔
کشمیر کو ریلوے سے جوڑنے کے بارے میں :
مسٹر مودی نے کہا: ‘ اب کشمیر کو ریلوے سے جوڑا جا رہا ہے عوام ترقیاتی کاموں سے خوش ہیں سکول اور کالج بن رہے ہیں یہ نیا جموں و کشمیر ہے پوری قوم ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں مصروف ہے یہ تب ممکن ہے جب معاشرے کے کسی بھی طبقے کو ترقی کی دوڑ میں نظر انداز نہ کیا جا سکے’۔انہوں نے کہا:: ‘گذشتہ دس برسوں کے دوران ہم نے جموں وکشمیر میں امن اور ترقی کے ماحول کے فائدے دیکھے ہیں اور سال گذشتہ کے دوران 2 کروڑ سے زیادہ سیاحوں نے جموں وکشمیر کی سیر کی’۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر تعمیر و ترقی کا ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں جموں کشمیر میں ریل اور روڈ رابطے کے کئی پروجیکٹوں کا مکمل کیا جائے گا۔
زیر تعمیر زوجیلا ٹنل کے بارے میں :
زوجیلا ٹنل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اور بڑے پروجیکٹ کی تکیمل قریب ہےاور اب کشمیر ریل میں بھی شامل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا: ‘مرکز میں ہماری حکومت آنے کے بعد سونہ مرگ ٹنل پر سال 2015 میں کام شروع کیا گیا تھا اور میں خوش ہوں کہ ہماری ہی حکومت میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا’۔کشمیر میں جاری سرد ترین موسم ‘چلہ کلان’ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘یہ موسم سونہ مرگ جیسے سیاحتی مقامات کے لیے نئے مواقع لے کر آتا ہے کیونکہ اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے ملک بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں’۔
سیاحت اور تعمیر وترقی کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہاکہ کشمیر میں امن اور ترقی کا جو ماحول بنا ہے اس کا فائدہ سیاحتی شعبے کو ملا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سال 2024میں زائد از دو کروڑ سیاح وارد جموں وکشمیر ہوئے۔ سونہ مرگ میں گزشتہ دس برسوں میں چھ گنا سیاحوں نے قدرتی نظاروں سے لطف اٹھایا اور اس کا فائدہ یہاں کے لوگوں کو پہنچا ہے۔انہوں نے کہاکہ شعبہ سیاحت میں ترقی کی وجہ سے ہوٹل والوں، ہوم سٹے والوں، ڈھابہ والوں ، ٹیکسی والوں غرض سبھی کو فائدہ پہنچا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ گزشتہ دس برسوں کے دوران جموں وکشمیر میں تعمیر وترقی کے بہت سارے پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پر امن ماحول سے ہی تعمیر وترقی ممکن ہے لہذا میں کشمیر کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے سرکار کو ہر سطح پر بھر پور تعاون فراہم کیا ۔
اکیسویں صدی کے کشمیر کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ اکیسویں صدی کا جموں وکشمیر آج تعمیر وترقی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے ، مشکل دنوں کو چھوڑ کر ہمارا کشمیر پھر سے زمین پر جنت ہونے کی پہچان کی طرف واپس بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ دس سالوں کے دوران مرکزی سرکار نے جموں وکشمیر کو امن کا گہوارا بنایا ہے اور آج سری نگر کے بازروں میں رات بھر رونقیں بحال رہتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امن و امان کی واپسی میں جموں وکشمیر کے نوجوانوں، بزرگوں، دوشیزاوں اور خواتین نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
کشمیرکی خوبصورتی کے بارے میں:
وزیر اعظم نریندر مودی نے سونہ مرگ میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہاکہ کشمیر بھارت کا تاج ہے اور اس تاج کو مزید خوبصورت بنانے میں یہاں کے لوگ اپنا تعاون پیش کر رہے ہیںانہوں نے کہاکہ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ کشمیر کے لوگوں نے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی خاطر سرکار کے ساتھ تعاون فراہم کیا۔
پی ایم مودی نے کہا :’میں کشمیر کے لوگوں کو بھروسہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان کے سبھی خواب پورے ہونگے اور یہ مودی کا وعدہ ہے :‘
کشمیر کی مہمان نوازی کے بارے میں:
وزیر اعظم نے کہاکہ وادی کی سیر وتفریح پر آنے والے سیاح یہاں کی مہمان نوازی سے کافی خوش نظر آرہے ہیں۔یہاں وادی میں اس وقت چلہ کلان ہوتا ہے چالیس روزہ اس موسم کا لوگ ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں اور اس کا ایک اور پہلو ہے کہ یہ موسم سونہ مرگ سیاحتی مقام کے لئے نئے مواقعے بھی لاتا ہے۔ ملک بھر سے سیلانی یہاں پہنچ رہے ہیں۔ کشمیر کی وادیوں میں آکر وہ لوگ آپ کی مہمان نوازی کا بھر پور آنند لیتے ہیں۔
مرکزی اسکیموں کے بارے میں :
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ مرکزی اسکیم کے تحت غریبوں کو مفت رہائشی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور آنے والے وقت میں مزید تین کروڑ نئے گھر تعمیر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آج بھارت میں کروڑوں لوگوں کو مفت علاج ومعالجہ کی سہولیات میسر ہیں اور اس کا فائدہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو بھی پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں نئے آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز ، نئے ایمز ، نئے میڈیکل کالجز ، نرسنگ کالجز اور پالی ٹینک بن رہے ہیں۔ان کے مطابق جموں وکشمیر مین بھی گزشتہ دس سالوں میں ایک سے بڑھ ایک ایجوکیشن انسٹی چیوٹ بنائے گئے جس کا فائدہ یہاں کے نوجوانوں کو مل رہا ہے۔
کشمیر میں کھیل کود کو فروغ دینے کے بارے میں :
پی ایم مودی نے سونہ مرگ میں عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران کہاکہ سری نگر میں گزشتہ سال انٹرنیشنل میراتھن کا اہتمام ہوا ۔ مجھے پوری طرح یاد ہے کہ اس میراتھن میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی حصہ لیا تھا۔انہوں نے کہاکہ جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے ساتھ دہلی میں ملاقات ہوئی تو انہیں میراتھن میں حصہ لینے پر مبارکباد پیش کی ۔
وزیر اعظم نے کہاکہ حال ہی میں چالیس برسوں کے بعد سری نگر میں انٹرنیشنل کرکٹ لیگ کا اہتمام ہوا ۔ نیز جھیل ڈل کے اردگرد کار رسینگ کے نظارے دیکھ کر سیاح بھی جھوم اٹھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گلمرگ تو ایک طرف سے ونٹر گیمز کا دارلخلافہ بنتا جارہا ہے، گلمرگ میں لگاتار چار کھیلو انڈیا ٹورنمنٹ کا انعقاد ہوا اور امسال بھی گلمرگ میں ہی کھیلو انڈیا کے میچز ہونگے۔
مودی نے کہا :’گزشتہ دو سال کے دوران ڈھائی ہزار کھلاڑی جموں وکشمیر آئے اور یہاں زائد از نویں کھیلو انڈیا سینٹر بنائے گئے ہیں جہاں پر چار ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جارہی ہیں۔
تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے بارے میں :
پی ایم مودی نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ یہاں پر زیادہ سے زیادہ انڈسٹری قائم کی جائے تاکہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔انہوں نے کہاکہ 13ہزار کروڑ روپیہ کی سرمایہ کاری سرکار کو موصول ہوئی ہے اور اسے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار مل پائے گا۔ان کے مطابق موجودہ مرکزی سرکار کی یہ کوشش رہی ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کو روزگار فراہم ہو اور اس کے لئے زمینی سطح پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
جموں وکشمیر بینک کے بارے میں :
وزیر اعظم مودی نے کہاکہ جموں وکشمیر بینک بھی اب بہتر کام کررہا ہے اور اس کا بزنس ایک لاکھ ساٹھ ہزار کروڑ سے بڑھ کر دو لاکھ تیس ہزار کروڑروپیہ تک پہنچ گیا ہے یعنی بینک اب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر بینک کی جانب سے نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی خاطر لون بھی فراہم کئے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جموں وکشمیر بینک کی ترقی سے یہاں کے نوجوانوں، کسانوں، باغبانوں ، دکانداروں اورکاروباریوں کو فائدہ پہنچے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
