جموں و کشمیر
ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر ہونے میں کسی بھی رکاوٹ کا حائل نہ ہونے دیں:منوج سنہا
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ مجاہدین آزادی اور شہیدوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا ایک بہترین موقع ہے جنہوں نے اس دن کو ہمارے لیے ممکن بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ نوجوانوں کے خوابوں کو پورا ہونے میں کسی بھی رکاوٹ کو دور کریں۔
موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار اتوار کو یہاں مولانا آزاد اسٹیڈیم میں منعقدہ یوم جمہوریہ کی شاندار تقریب سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے اس موقع پر قومی پرچم لہرایا اور فوج، بی ایس ایف، سی آر پی ایف، ایس ایس بی، جموں و کشمیر پولیس، آرمڈ پولیس، آئی آر پی، فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز، این سی سی کیڈٹس، بھارت اسکاؤٹس اور گرل گائیڈز، فارسٹ پروٹیکشن فورس اور اسکول کے بچوں کی پریڈ سے سلامی لی۔
منوج سنہا نے اپنے خطاب میں کہا: ‘یہ دن ہمیں ہندوستان کے آئین میں درج پائیدار اقدار کی یاد دلاتا ہے یہ فخر، جمہوریت، انصاف، آزادی، مساوات اور بھائی چارے کے لیے ہماری وابستگی کی تصدیق کا دن ہے’۔انہوں نے کہا: ‘آئیے ہم اپنے مجاہدین آزادی اور شہیدوں کی عزت افزائی کرتے ہیں جنہوں نے عظیم قربانیاں پیش کرکے مادر وطن کے تحفظ کو یقینی بنایا’۔ان کا کہنا تھا: ‘میں ہندوستانی فوج، نیم فوجی دستوں اور جموں و کشمیر پولیس کے بہادر سپاہیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جن کی انتھک لگن اور قربانیاں ہماری قوم کے اتحاد، سالمیت اور سلامتی کو یقینی بناتی ہیں’۔۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا: ‘ہمارے فورسز ہماری سرحدوں کی حفاظت کرنے کے علاوہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے امن اور استحکام کے ستون کے طور پر کھڑے ہیں اور ان کی غیر معمولی بہادری اور خدمات ہمیں متحد، محفوظ اور خوشحال ہندوستان کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘ اس اہم موقع پر میں جموں وکشمیر کی ترقی میں تعاون کرنے والے ہر فرد، کسانوں، کاریگروں، اساتذہ، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں، سیکورٹی فورسز، کھلاڑیوں اور سرکاری اہلکاروں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جن کی لگن اور محنت ہماری اجتماعی کامیابی کا سنگ میل ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر ہمیشہ سے تنوع میں اتحاد کی سرزمین رہی ہے اور ہمیں اپنی جامع ثقافت اور بھائی چارے کی صدیوں پرانی روایات پر بے حد فخر ہے۔
مسٹر سنہا نے اپنے خطاب میں کہا: ‘یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارے نوجوانوں کے خوابوں کو تفرقہ انگیز قوتوں کی طرف سے روکا نہ جائے ہمارا سفر لچک اور عزم کا رہا ہے جس کے ہر شعبے میں بے مثال کامیابیاں ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘جموں و کشمیر اپنے بھرپور ورثے، قدرتی خوبصورتی اور متحرک ثقافت کے ساتھ ہمیشہ سے اس سفر کا ایک اہم حصہ رہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کا کامیاب انعقاد مثبت تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور اس کامیابی کا سہرا ان تمام شہریوں کو جاتا ہے جنہوں نے ہماری جمہوری اقدار اور جموں و کشمیر کے مستقبل پر اپنے اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جمہوری مشق میں حصہ لیا۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کے لوگ اب نئی توقعات کے ساتھ حکومت کی طرف دیکھتے ہیں اور ایک ایسے ماحول کی خواہش رکھتے ہیں جو بامعنی روزگار، پائیدار ترقی، سماجی شمولیت، اور مضبوط اقتصادی ترقی کو فروغ دے جو سب کے لیے بہتر معیار زندگی کی راہ ہموار کرے۔
ایل جی نے کہا کہ وسیع تر سطح پر عوام کی شرکت کو مزید مضبوط اور یقینی بنانے کے لیے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے تاکہ تھری ٹائر گورننس کا ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکے۔انہوں ے کہا کہ اچھی حکمرانی ایک خوشحال اور ہم آہنگ مستقبل کی بنیاد ہے اور یہ خطے میں امن، ترقی اور شمولیت کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘شفافیت، جوابدہی، اور شہریوں پر مبنی پالیسیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے حکومت نے شراکتی فیصلہ سازی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے ذریعے مقامی کمیونٹیز کو بااختیار بنانے کو ترجیح دی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل گورننس، عوامی خدمات کو ہموار کرنا، اور سماجی و اقتصادی پروگراموں کو فروغ دینے جیسے اقدامات کا مقصد ترقیاتی خلا کو ختم کرنا اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرنا ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ جموں و کشمیر نے ای- اُنّت پورٹل پر 1 ہزار 1 سو 66 آن لائن عوامی خدمات دستیاب کرانے میں پیش قدمی کی ہے اور 5 سو 1 ای خدمات کو ریپڈ اسیسمنٹ سسٹم (آر اے ایس) کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 387 خدمات پبلک سروسز گارنٹی ایکٹ (پی ایس جی اے) کے تحت آتی ہیں اور 104 سرکاری خدمات کو دستاویز کی حفاظت اور رسائی کو بہتر بنانے کے لیے ڈجی لاکر کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘جموں وکشمیر کاروبار کرنے میں آسانی کے لیے اصلاحات کے ساتھ سو فیصد تعمیل حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے اور جموں و کشمیر نے عوامی شکایات کے آن لائن ازالے کے لیے جے کے سمادھان پلیٹ فارم بنایا ہے جہاں روزانہ تقریباً 3 سو شکایات پر کارروائی کی جاتی ہے’۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے شروع کیا گیا ایک اور قدم ‘رابطہ’، ایک تاریخی پروگرام ہے جس کا مقصد حکومت اور عوام کے درمیان مضبوط روابط کو فروغ دینا ہے۔
موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت میں 9.5 فیصد کی شرح کا اضافہ ریکارڈ ہوا ہے جو حکومت کے مستقل اقدامات اور اسٹریٹجک پالیسی اقدامات سے چلتی ہے۔انہوں نے کہا: ‘سیاحت کا شعبہ ہماری پوری معیشت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ یہ روزگار پیدا کرنے اور مقامی کاروبار کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جموں و کشمیر میں نومبر 2024 تک ریکارڈ توڑ 2 کروڑ 36 ہزار سیاح آئے اور گلمرگ میں 7 لاکھ 68 ہزار سیاح گونڈولا سے محظوظ ہوئے اور 2024 کے دوران 103 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی’۔
مسٹر سنہا نے سیاحت کے شعبے کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی اہم منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ انہوں نے کہا: ‘پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) موڈ کے تحت، سدھرا گالف کورس کے قریب، دوارا گاؤں میں ایک جدید ترین واٹر پارک تعمیر کیا جا رہا ہے اور بسوہلی کو ایڈونچر ٹورازم ہاٹ سپاٹ کے طور پر بھی تیار کیا جا رہا ہے اور اس کے علاوہ پیرکھو کو مبارک منڈی کمپلیکس سے جوڑنے کے لیے ایک عمودی لفٹ پروجیکٹ نصب کیا جا رہا ہ، جس سے رسائی میں اضافہ ہو گا اور سیاحوں کے لیے اس تاریخی مقام کا دورہ کرنا آسان ہو گا’۔
تقریب اختتام پر مولانا آزاد اسٹیڈیم میں اسکول کے بچوں کی طرف سے ثقافتی پروگرام اور جسمانی ورزش کا انعقاد کیا گیا نیز جموں و کشمیر پولیس کے موٹر سائیکل سواروں کی جرات مندانہ کارروائیاں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنیں۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
