جموں و کشمیر
کشمیر میں جاری برف وباراں سے بارشوں کی 80 فیصد کمی صرف 65 فیصد رہ گئی
سری نگر، وادی کشمیر میں جاری برف و باراں سے گرچہ بارشوں کی کمی مکمل طور پر پوری نہیں ہوئی ہے تاہم اس میں کافی حد تک بہتری واقع ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں موجودہ موسمی صورتحال سے بارشوں کی 80 فیصد کمی اب صرف 65 فیصد رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر میں رواں سیزن کے دوران یعنی یکم جنوری سے 27 فروری تک بارش کی 63 فیصد کمی جبکہ صوبہ جموں میں 67 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ توسیعی رینج پیش گوئی(ای آر ایف) کے مطابق 27 فروری سے 6 مارچ تک معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں جبکہ 6 مارچ سے 13 مارچ تک معمول کے قریب بارشیں ہونے کا امکان ہے۔
محکمے کے مطابق گذشتہ ہفتے یعنی 21 فروری سے 27 فروری تک وادی کے دس اضلاع میں اوسطاً 37.73 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کے مطابق 29.76 ملی میٹر ریکارڈ ہونی چاہئے تھی اس طرح بارش معمول سے26.78 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
سری نگر میں 21 سے 27 فروری تک 25.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 24.7 ملی میٹر بارش سے3 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔اس دوران جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں 32.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی24.9 ملی میٹر بارش سے 29 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں اس ایک ہفتے کے دوران32 .5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 42.2 ملی میٹر کی بارش سے 30 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
ضلع پلوامہ میں 27.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی13.5 ملی میٹر کی بارش سے 101 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے اسی طرح ضلع شوپیاں میں 17.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی25.2 ملی میٹر سے 31 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
وسطی ضلع ضلع بڈگام میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران 11.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 27. 9 ملی میٹر کی بارش سے 57 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع گاندربل میں 44.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 26.7 ملی میٹر کی بارش سے68 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں 21 سے 27 فروری کے دوران 66.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی42.2 ملی میٹر کی بارش سے58 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
ضلع بارہمولہ میں اس دوران61 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی33.1 ملی میٹر کی بارش سے 84 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع بانڈی پورہ میں 58.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی33.9 ملی میٹر کی بارش سے72 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
وادی کشمیر کے رواں سیزن کے دوران یعنی یکم جنوری سے 27 فروری تک اوسطاً 66.35 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی180,69 کی بارش سے 63.27 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
سری نگر میں یکم جنوری سے 27 فروری تک 51.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 180.69 ملی میٹر کی بارش سے 72 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اس مدت کے دوران56.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی171.2 ملی میٹر کی بارش سے67 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع کولگام میں 60.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 304.4 کی بارش سے 80 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
ضلع پلوامہ میں اس دوران45.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی105.5 کی بارش سے 51 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع شوپیاں میں 31.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی125.4 کی بارش سے75 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں یکم جنوری سے 27 فروری تک 28.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہلے جو معمول کی146.2 ملی میٹر بارش سے 80 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع گاندربل میں 89 فیصد بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی181.1 ملی میٹر بارش سے 51 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں اس مدت کے دوران110.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی214.1 ملی میٹر بارش سے 48 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
ضلع بارہمولہ میں اس دوران104.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی 204.6 ملی میٹر بارش سے 49 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ضلع بانڈی پورہ میں 85.2 ملی میٹرا بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی170.1 ملی میٹر بارش سے 50 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صوبہ جموں کے دس اضلاع میں 21 سے 27 فروری تک اوسطاً 40.88 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی38 .32 کی بارش سے 6.68 فیصد زیادہ ریکارڈ ہوئی ہے۔
جموں صوبے میں یکم جنوری سے 27 فروری تک اوسطاً 71.94 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جو معمول کی217. 53 ملی میٹر کی بارش سے 66.92 فیصد کم ریکارڈ ہوئی ہے۔
دریں اثنا وادی میں جاری برف و باراں سے لوگوں خاص طور پر کسانوں کے دل باغ باغ ہوئے ہیں۔
خشک موسم صورتحال سے جہاں وادی میں کئی چشمے سوکھ گئے ہیں وہیں اس دوران کئی علاقوں کے جنگلوں میں آتشزدگی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں سال رواں کے پہلے ڈیڑھ ماہ کے دوران بارش کی 79 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی تھی جبکہ اس دوران جموں میں بارش کی 84 فیصد کمی درج ہوئی تھی۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoگروپ ‘سی’ کے ریلوے ملازمین اب ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے تحت غیر کیڈر عہدوں پر نہیں لے سکیں گے ڈپوٹیشن
