پاکستان
بی ایل اے نے 182 افراد کو یرغمال بنایا، حملے میں 11 فوجی مارے گئے۔ بی ایل اے کا دعوی
اسلام آباد، صوبہ بلوچستان کی آزادی کا مطالبہ کرنے والی علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے منگل کو پاکستان ریلوے کی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملہ کرکے 182 افراد کو یرغمال بنا لیا، اس حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے۔
بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق جعفر ایکسپریس پر اس کے جنگجوؤں کا مکمل کنٹرول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یرغمالیوں میں پاک فوج، پولیس، آئی ایس آئی اور اے ٹی ایف کے ایکٹیو ڈیوٹی اہلکار شامل ہیں جو سب چھٹی پر سفر کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ عام مسافروں بالخصوص خواتین، بچوں، بوڑھوں اور بلوچ شہریوں کو رہا کر کے محفوظ راستوں سے ان کی منزلوں کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔
بی ایل اے نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوجی مداخلت جاری رہی تو تمام مغویوں کو ہلاک کر دیا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ آپریشن کی قیادت بی ایل اے کے مجید بریگیڈ، ایس ٹی او ایس، الفتح سکواڈ اور زراب یونٹ کر رہے ہیں اور کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
بی ایل اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج وہاں بی ایل اے کے یونٹوں کے خلاف ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کے ذریعے فضائی حملے کر رہی ہے۔ اگر اس کے عوام پر فضائی حملے فوری طور پر بند نہ کیے گئے تو پاکستان کو ٹرین میں یرغمال بنائے گئے لوگوں سے محروم ہونا پڑے گا اور اس کا ذمہ دار پاکستان ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ بی ایل اے کے جنگجو پاکستان کے خلاف تزویراتی مہم چلاتے رہے ہیں اور اسی کے تحت ان کے یونٹوں نے صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے خیبرپختونخوا کے پشاور سٹیشن جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے ٹرین کو پٹری سے اتار کر اس کا کنٹرول سنبھال لیا۔ حملے کے دوران 11 پاکستانی فوجی مارے گئے، جب کہ 182 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔
دریں اثنا اے آر وائی نیوز کے مطابق بلوچستان میں بولان پاس کے علاقے ڈھاڈر کے مقام پر دہشتگردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا جس میں معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں نے ٹرین کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، علاقہ انتہائی دشوار گزار ہونے کے باوجود سکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یرغمال بنائے گئے معصوم مسافروں میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے، دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے بھی رابطے میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا، معصوموں کو نشانہ بنانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا اسلام، پاکستان اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
قبل ازیں خبر سامنے آئی تھی کہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر مچھ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ٹرین ڈرائیور زخمی جبکہ ٹرین کو روک لیا گیا تھا۔
ریلوے حکام نے بتایا تھا کہ مسلح افراد نے مچھ کے علاقے پیرو کنری کے قریب جعفر ایکسپریس پر فائرنگ کی جس کی زد میں آ کر ٹرین کا ڈرائیور زخمی ہو گیا۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی ریلیف ٹرین اور ایمبولینسیں جائے وقوع روانہ کر دی گئی اور سبی کے اسپتالوں میں ایمرجنسی لگا دی گئی۔
انہوں نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے بھی علاقے کو گھیر لیا ہے، واقعے کی نوعیت اور ممکنہ دہشتگردی کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس میں 9 بوگیاں اور 500 مسافر سوار ہیں، وزیر ریلوے حنیف عباسی نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی، کنٹرولر ریلوے محمد کاشف کے مطابق مسافروں اور عملے سے رابطے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق دشوار گزار علاقے کے باعث جائے وقوع تک رسائی میں مشکلات ہیں، بلوچستان حکومت نے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی ہے اور تمام ادارے متحرک ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
