دنیا
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے، سلامتی کونسل میں ایشیائی ممالک کو زیادہ نمائندگی ملنی چاہیے: اقوامِ متحدہ کے سربراہ
ٹوکیو، اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گہرے ہوتے عالمی معاشی بحران پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بدھ کے روز آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف سمندری آمد و رفت کی آزادی فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج کی دنیا کے آبادیاتی اور جغرافیائی سیاسی حقائق کی عکاسی کے لیے ایشیائی ممالک کو مستقل رکنیت میں زیادہ نمائندگی دی جانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت تنازعات، موسمیاتی بحران اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی وجہ سے شدید عدم استحکام کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے اثرات نے عالمی معاشی صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
گوتریس نے کہا، ’’مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی معاشی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ توانائی، کھاد اور دیگر خام اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘
خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف بحری جہاز رانی کی آزادی فوری طور پر بحال کی جانی چاہیے، جنگ بندی کی تمام خلاف ورزیوں کو ختم کیا جائے اور تنازع کے سیاسی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’’بڑھتا ہوا عدم اعتماد اور جغرافیائی سیاسی دوریاں‘‘ مؤثر عالمی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق بعض ممالک بغیر کسی خوف کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل اور عالمی مالیاتی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی تقسیم عالمی استحکام اور کثیر جہتی اداروں کی مؤثریت کو کمزور کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقیاتی اہداف، جو انسانیت اور دنیا کے بہتر مستقبل کا خاکہ ہیں، ان کے حصول کے لیے مزید مضبوط پیش رفت کی ضرورت ہے۔
گوتریس نے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنے والے کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کی محدود صلاحیت پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ غریب اور ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بوجھ اور مالی وسائل کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کی بہتر نمائندگی اور اقوامِ متحدہ کی ساکھ بڑھانے کے لیے سلامتی کونسل کی مستقل اور غیر مستقل دونوں قسم کی نشستوں میں توسیع ناگزیر ہے۔
انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں میں وسیع اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کو زیادہ مؤثر مالی امداد فراہم کرنے کے لیے کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں کی تنظیمِ نو کا بھی مطالبہ کیا۔
یو این آئی۔ اے ایم
دنیا
شام کے سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنادی گئی
دمشق، دمشق کی ایک عدالت نے منگل کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کو منصوبہ بند قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی ہے عدالت نے شام کے صوبہ درعا میں سیاسی سلامتی کے سابق سربراہ عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی عدالت نے نجیب کو منصوبہ بند قتل اور تشدد کا مجرم قرار دیا غور طلب ہے کہ بشار الاسد 2000 میں اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد شام کے صدر بنے تھے۔ ابتدائی طور پر، انہیں ایک جدید اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن جب 2011 میں ملک بھر میں ان کی حکمرانی کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہوئے، تو انہوں نے انہیں کچلنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کا سہارا لیا۔ اس کے بعد شام ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں الجھ گیا، جس میں لاکھوں شہری مارے گئے اور لاکھوں بے گھر ہو گئے۔ اپنی دو دہائیوں سے زیادہ کی آمرانہ حکومت کے دوران، اسد پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔
شامی باغی افواج کے ہاتھوں دمشق پر قبضے اور دسمبر 2024 میں حکومت کے خاتمے کے بعد، بشار الاسد 8 دسمبر 2024 کو روسی فوج کی مدد سے راتوں رات شام سے فرار ہو گئے، جہاں صدر ولادیمیر پوتن نے انہیں اور ان کے خاندان کو سیاسی پناہ دے دی۔ وہ اس وقت روس کے دارالحکومت ماسکو میں اپنے خاندان کے ساتھ سیاسی پناہ گزین کے طور پر مقیم ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے خود کو ایک ‘ناقابل تسخیر طاقت’ ثابت کیا ہے: عراقچی
تہران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے دنیا کے سامنے خود کو ایک “مضبوط اور ناقابل تسخیر طاقت” کے طور پر ثابت کیا ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
مسٹر عراقچی نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے انہیں کئی بار بتایا ہے کہ ایران نے “معجزہ کر کے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ “کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایران امریکہ کا اس طرح مقابلہ کر سکتا ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو اسرائیل، مغربی ممالک اور کچھ دوسرے ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے اس کا سامنا کیا۔
مسٹر عراقچی نے جنگ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے کیے گئے مطالبات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں سوشل میڈیا پر دو الفاظ لکھے تھے: ’’غیر مشروط ہتھیار ڈالنا‘‘۔ وہ ہم سے یہی چاہتے تھے اور 20 دن بعد وہی دشمن مذاکرات کی التجا کر رہا تھا۔
مسٹر عراقچی کے تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے درمیان مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
بگوٹا، کولمبیا میں تباہ کن زلزلے کے بعد کم از کم 132 افراد ہلاک اور 570 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں. اس سانحے کی شدت کے پیش نظر صدر ابیلارڈو ڈی لا ایسپریلا نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امدادی ٹیمیں منہدم عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا کی جیولوجیکل سروس کے مطابق یہ اس صدی میں ملک میں ریکارڈ کیا گیا سب سے طاقتور زلزلہ تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4 تھی اور اس کا مرکز دارالحکومت بوگوٹا سے تقریباً 240 کلومیٹر دور سانجوس ڈیل پالمر کے قریب تھا۔
حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ملک بھر میں 86 عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں۔
پیریرا، کولمبیا کے بڑے کافی پیدا کرنے والے علاقے میں سب سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں کم از کم 60 ہیں۔
کیلی شہر سے مزید 188 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پانچ بڑے صوبائی دارالحکومتوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور سات ہوائی اڈوں پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ پیریرا میں ایک فضائی کیبل کار میں تقریباً چھ گھنٹے تک پھنسے سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
صدر اسپریلا نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام سرکاری وسائل کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ہے۔ امریکہ نے کولمبیا کو خوراک، پناہ گاہ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے 15.5 ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
قابل غور بات یہ ہے کہ یہ پہاڑی اور اقتصادی لحاظ سے اہم خطہ 1999 میں ایک بڑے زلزلے سے بھی تباہ ہوا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پیر کو آنے والے زلزلے کا مرکز سطح سے تقریباً 107 کلومیٹر نیچے تھا۔ لاپتہ افراد کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
یو این آئی۔ع ا۔
-
دنیا1 day agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
ہندوستان1 day agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا1 day agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا1 day agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا23 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا6 hours agoیمن میں حوثیوں کے المخا اور مارب پر بیلسٹک میزائل حملے
-
دنیا6 hours agoٹرمپ کا ایران سے معاوضے کا مطالبہ، آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا23 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر2 hours agoیومِ آزادی سے قبل جموں و کشمیر پولیس نے سرحدی سامبا میں طویل فاصلے کی گشت اور فرضی انسدادِ دہشت گردی مشق کی
-
دنیا21 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
دنیا6 hours agoایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری
-
دنیا5 hours agoکولمبیا میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 132 ہو گئی، صدر کا قومی ایمرجنسی کا اعلان
