جموں و کشمیر
گوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
سری نگر، بانڈی پورہ ضلع کی گوریز وادی میں مجوزہ ’’تنتر سائلنس‘‘ ریٹریٹ کے اشتہار پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور کشمیر کے میرواعظ عمر فاروق نے حکام سے معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک مبینہ پوسٹر میں 24 سے 27 ستمبر تک گوریز وادی میں چار روزہ ’’تنتر اِن سائلنس – اے جرنی وِد اِن‘‘ نامی مراقبے کے ریٹریٹ کی تشہیر کی گئی ہے۔ پوسٹر میں سوامی دھیان سمیت کو اس پروگرام کا منتظم بتایا گیا ہے۔ پوسٹر کے مطابق پروگرام میں ساؤنڈ ہیلنگ، مراقبہ، محبت و آگاہی، شعوری زندگی اور باطنی تبدیلی جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ اس میں سفید اور میرون رنگ کے لباس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
محبوبہ مفتی نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ریٹریٹ کے تشہیری مواد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ سوامی دھیان سمیت کی نگرانی میں اسی طرح کا ایک ’’تنتر‘‘ پروگرام گزشتہ سال گوا میں بھی منعقد ہونا تھا، لیکن اس کے تشہیری مواد پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ محبوبہ نے سوامی دھیان سمیت کو ایک خود ساختہ مذہبی پیشوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق شری رجنیش فاؤنڈیشن سے ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہاکہ ’’گوریز روحانیت یا سیاحت کے نام پر تجربات کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور جموں و کشمیر پولیس سے معاملے میں مداخلت کرکے مناسب کارروائی کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے میرواعظ عمر فاروق اور مفتی اعظم سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کے بارے میں عوام میں بیداری پیدا کریں۔
محبوبہ مفتی کی پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ مجوزہ پروگرام کے حوالے سے اٹھائے گئے خدشات ’’فوری توجہ کے مستحق ہیں‘‘۔
انہوں نے الزام لگایا کہ گوا میں اسی طرح کے ایک پروگرام سے متعلق پیدا ہونے والے تنازع کے پیش نظر گوریز میں ایسے پروگرام کی اجازت دیا جانا خاص طور پر تشویش کا باعث ہے۔
میرواعظ نے کہاکہ ’’کشمیر صوفیوں اور بزرگوں کی سرزمین ہے۔ یہاں روحانیت کا تجربہ کیا جاتا ہے، اسے قیمت لگا کر فروخت نہیں کیا جاتا!‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں سیاحت کے فروغ کی قیمت خطے کے ’’مذہبی، ثقافتی اور سماجی مزاج‘‘ کی صورت میں نہیں چکائی جانی چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سمیت حکام سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
التجا مفتی کی قیادت میں سری نگر میں جموں و کشمیر کی ریزرویشن پالیسی کے خلاف احتجاج
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے ہفتہ کو سری نگر میں جموں و کشمیر کی ریزرویشن پالیسی کے خلاف احتجاج کی قیادت کی۔ مظاہرین نے اوپن میرٹ امیدواروں کے لیے مواقع کے سکڑتے حصے پر تشویش کا اظہار کیا۔
التجا مفتی نے موجودہ ریزرویشن نظام کے جاری جائزے میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا اور حکومت پر زور دیا کہ ریزرویشن پالیسی کا جائزہ لینے اور اسے منطقی بنانے کے لیے قائم کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات اور رپورٹ کو مزید تاخیر کے بغیر عوام کے سامنے لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ اور ملازمت کے خواہش مند امیدواروں کو یہ جاننے کا جائز حق حاصل ہے کہ ایسے معاملے پر کیا سفارشات کی گئی ہیں جو براہ راست ان کے تعلیمی اور روزگار کے مواقع کو متاثر کرتا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ رپورٹ عوامی سطح پر شائع کی جائے اور حکومت شفاف اور مشاورتی عمل کے ذریعے اوپن میرٹ امیدواروں کے خدشات کو دور کرے۔
جموں و کشمیر کی نظرثانی شدہ ریزرویشن پالیسی 2024 میں لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کی جانب سے 2002 کے کوٹے کے قواعد میں ترمیم کے بعد ایک اہم متنازع مسئلہ بن گئی ہے۔ اس ترمیم کے تحت پہاڑی برادری کو درج فہرست قبائل (ایس ٹی) زمرے میں 10 فیصد ریزرویشن دیا گیا اور درج فہرست ذاتوں (ایس سی) کی فہرست میں 15 سے زائد ذاتوں کو شامل کیا گیا۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج بھی ہوئے، جن میں 20 دسمبر 2024 کو سری نگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کے باہر کیا گیا مظاہرہ بھی شامل تھا۔
بعد میں حکومت نے ریزرویشن پالیسی کو منطقی بنانے کے لیے کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔
اس کمیٹی کی رپورٹ لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے وزارت داخلہ کو بھیجی گئی، جہاں سے کچھ سوالات کے ساتھ اسے واپس کر دیا گیا۔ حکومت نے کہا کہ ان سوالات کا جواب دینے کے بعد رپورٹ دوبارہ لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دی گئی۔
رواں سال 14 اگست کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ریزرویشن نظام میں معمولی تبدیلیوں سے متعلق ان کی کابینہ کی تجویز پر عمل نہیں کیا گیا تو ’ جین۔زیڈ‘ جیسے احتجاج دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
لداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
سری نگر، لداخ میں دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں پر تعمیر کیے گئے پانچ جدید پتھریلے چیک ڈیمز نے موسم گرما کے عروج کے دوران 200 کیوسک سے زیادہ پانی کے بہاؤ کو کامیابی سے برداشت کیا۔ تاہم لیہ کے قریب اپشی میں ایک ڈیم میں معمولی شگاف پڑنے کی اطلاع ملی ہے۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ لداخ میں پانی اور زرعی پائیداری کے لیے دیرپا حل کے طور پر تصور کیے گئے ان جدید پتھریلے چیک ڈیمز کے نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں۔ ان چیک ڈیمز کی تعمیر 27 مئی سے شروع ہوئی تھی، اس وقت دریا میں پانی کا بہاؤ تقریباً 20 کیوسک تھا اور تعمیراتی کام چار ماہ میں مکمل کیا گیا۔
یہ ڈھانچے دریا کے کنارے سے مقامی طور پر حاصل کیے گئے بڑے پتھروں سے تعمیر کیے گئے ہیں اور ان میں سیمنٹ، کنکریٹ یا اسٹیل کا استعمال نہیں کیا گیا۔ اس طریقہ کار کا مقصد بلند پہاڑی علاقے میں پانی کی دستیابی مضبوط بنانے اور زراعت کو سہارا دینے کے لیے کم لاگت اور ماحول دوست طریقہ فراہم کرنا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ ’’موسم گرما کے عروج کے دوران پانی کا بہاؤ 200 کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اب سردیوں کے آغاز کے ساتھ پانی کا بہاؤ نمایاں طور پر کم ہو کر تقریباً 30 کیوسک رہ گیا ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں انجینئروں کی ایک معائنہ ٹیم کو ان ڈھانچوں کی مضبوطی اور استحکام کا جائزہ لینے اور پانی کے شدید دباؤ سے ہونے والے ممکنہ نقصان کا معائنہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ ’’پانچ پتھریلے چیک ڈیمز میں سے صرف پہلے ڈیم، جو لیہ کے قریب اپشی میں واقع ہے، میں معمولی شگاف کی اطلاع ملی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انجینئرز اس متاثرہ حصے کی مرمت کر رہے ہیں۔
معائنے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈیمز کے اوپری جانب عمدہ معیار کی دھلی ہوئی ریت جمع ہوئی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق اس ریت کے جمع ہونے سے چیک ڈیمز کے استحکام میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ان پائلٹ منصوبوں کو ’’انتہائی قیمتی تجربہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل کے منصوبوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری تکنیکی مہارت فراہم کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات لداخ کی جامع ترقی، آبی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
نو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
سری نگر، نو قائم شدہ جموں و کشمیر سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (جے کے فور سی) مرکز کے زیر انتظام خطے میں سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا، جس میں بنیادی توجہ مالی دھوکہ دہی کے معاملات اور متاثرین کو بروقت مدد فراہم کرنے پر ہوگی۔
نو قائم شدہ جے کے فور سی مرکز کے زیر انتظام خطے میں سائبر جرائم سے متعلق رابطہ کاری کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر کام کرے گا۔ اسے جموں و کشمیر میں سائبر جرائم کی روک تھام، ان کا پتہ لگانے اور تحقیقات کے لیے مختلف کوششوں کے درمیان تال میل قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مرکز کی سربراہی شیخ جنید محمود کر رہے ہیں، جو اس کے پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہیں۔
جموں و کشمیر سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد یاسین کچلو نے کہا کہ یہ مرکز خصوصی طور پر سائبر جرائم سے متعلق شکایات سے نمٹنے اور جموں و کشمیر میں ایسے جرائم کی روک تھام، نشاندہی اور تحقیقات کے لیے جاری کوششوں میں تال میل قائم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے کے فور سی کو انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (آئی فور سی) کی طرز پر تشکیل دیا گیا ہے، جو قومی سطح کی نوڈل ایجنسی ہے اور پورے ملک میں سائبر جرائم سے متعلق کوششوں میں تال میل قائم کرتی ہے۔ نیا مرکز قومی سائبر کرائم نظام کے ساتھ قریبی تال میل میں کام کرے گا۔
کچلو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جے کے فور سی میں سائبر آپریشنز ونگ، سائبر انویسٹی گیشن ونگ اور آن لائن کرائم اگینسٹ ویمن اینڈ چلڈرن (او سی ڈبلیو سی) ونگ سمیت کئی خصوصی شعبے قائم کیے گئے ہیں۔ سائبر آپریشنز ونگ 1930 ہیلپ لائن چلائے گا، جس کے ذریعے شہری سائبر جرائم سے متعلق شکایات درج کراسکتے ہیں اور یہ شکایات متعلقہ پولیس اسٹیشن کو بھیج دی جائیں گی۔
جاری۔یواین آئی ظا
-
جموں و کشمیر1 week agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر7 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا1 week agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
دنیا7 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
ہندوستان7 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
جموں و کشمیر1 week agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
دنیا1 week agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
دنیا7 days agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے پاس چین کے خلاف اے آئی تحفظات ہیں: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر7 days agoکشمیر میں لشکر سے جڑی سرحد پار دہشت گردانہ سازش کے معاملے میں این آئی اے نے 10 مقامات پر چھاپے مارے
