جموں و کشمیر
سب کو تسلیم کرنا چاہئے کہ جموں وکشمیر ابھی یونین ٹریٹری ہی ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے کہ جموں وکشمیر ابھی یونین ٹریٹری ہی ہےانہوں نے کہا کہ جب جموں وکشمیر دوبارہ ریاست بن جائے گی تو ہم اس کی بھی یوم تاسیس منائیں گےموصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوکیشن سینٹر میں یونین ٹریٹری فائونڈیشن ڈے کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب کے حاشیئے پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
نیشنل کانفرنس کے اس تقریب میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا: ’ہر کوئی نہیں آسکتا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ جموں وکشمیر ابھی یونین ٹریٹری ہی ہے یہ حقیقت ہم سب کو ماننی چاہئے‘۔
انہوں نے کہا: ’وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے وعدہ کیا ہے کہ پہلے اسمبلی حلقوں کی سر نو حد بندی پھر الیکشن اور اس کے بعد مناسب وقت پر ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا‘۔
ان کا کہنا تھا: ’وزیر اعظم جب یوگا ڈے پر یہاں آئے تھے تو اس وقت بھی انہوں نے کہا تھا کہ چنائو کے بعد جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کو مناسب وقت پر بحال کیا جائے گا‘۔
منوج سنہا نے کہا کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ پانچ برسوں سے یونین ٹریٹری فائونڈیشن ڈے منایا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر جب دوبارہ ریاست بنے گی تو اس وقت ہم اس کا بھی یوم تاسیس منائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر عظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں وکشمیر میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران امن و آشتی اور ترقی کا دور رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کا تہوار الیکشن پچھلے دنوں اختتام پذیر ہوئے جن میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
انہوں نے کہا: ’مجھے امید ہے کہ منتخب حکومت لوگوں کی امیدوں کے مطابق کام کرے گی‘۔
پنچایتی انتخابات کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: ’پنچایتی راج اداروں اور لوکل باڈیز نے جموں وکشمیر کی ترقی میں بڑا رول ادا کیا، ان انتخابات کے انعقاد کے لئے بھی تیاریاں ہو رہی ہیں‘۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ’میری تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ جتنا امن قائم رہے گا اتنی ترقی ہوگی، کسی کو بھی امن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے‘۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
بی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
سری نگر، جموں و کشمیر کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس میں سابق اسمبلی کی 2000 کی خود مختاری کی قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے 2000 میں خود مختاری کی قرارداد منظور ہونے کے وقت اسے مسترد کردیا تھا، پھر موجودہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد میں اسی قرارداد کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے؟
انہوں نے جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر صحافیوں سے کہاکہ ’’یہ مکمل طور پر متنازع اور ناقابل قبول قرارداد ہے، جسے بی جے پی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرارداد پیش کی۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں، جن میں 2000 کی جموں و کشمیر خود مختاری کی قرارداد بھی شامل ہے، کے حوالے نے ایوان میں ہنگامہ برپا کردیا۔ بی جے پی ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جس کے بعد ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
قائد حزب اختلاف نے کانگریس کی قیادت، بشمول راہل گاندھی اور جموں و کشمیر کانگریس کی قیادت سے ’’آرٹیکل 370 اور خود مختاری کے حوالوں‘‘ پر پارٹی کا موقف واضح کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
شرما نے سوال کیاکہ ’’کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ کیا وہ آرٹیکل 370 اور خود مختاری کی قرارداد کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ؟‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بناتے ہوئے شرما نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے خود مختاری کی قرارداد کو مسترد کیا تھا، اس وقت عمر عبداللہ کا اس حکومت سے کیا تعلق تھا۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’جب بی جے پی نے اس قرارداد کو مسترد کرکے پھاڑ دیا تھا، تو کیا اس وقت عمر عبداللہ این ڈی اے میں وزیر نہیں تھے؟ کیا وہ این ڈی اے کے ساتھی کے طور پر برقرار نہیں رہے؟‘‘
شرما نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ حکومت حکمرانی کی ان ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جذباتی مسائل کو اٹھا رہی ہے اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے عمل کو طول دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسے خود مختاری یا آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور جب تک ہمیں جواب نہیں ملتا، ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے پہلی بار خواتین کی قیادت میں جموں سے سری نگر تک الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی
جموں، جموں و کشمیر میں پائیدار سیاحت کو فروغ دینے اور ماحول دوست الیکٹرک موبیلیٹی کے امکانات کو اجاگر کرنے کے مقصد سے، جہاں سیاحت معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی فلّو) کے جموں، کشمیر اور لداخ چیپٹر نے جمعہ کو جموں کے ٹی آر سی کمپلیکس سے پہلی مرتبہ خواتین کی قیادت میں الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی کا آغاز کیا۔
ریلی کو ڈائریکٹر صنعت و تجارت، جموں ارون منہاس اور جوائنٹ ڈائریکٹر سیاحت، جموں اعجاز قیصر ملک نے فکی فلّو جے کے ایل کے ارکان اور دیگر متعلقہ افراد کی موجودگی میں ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ریلی میں 10 الیکٹرک کاروں کے ذریعے 22 خواتین نے شرکت کی۔
فکی فلّو جے کے ایل کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ سبز نقل و حمل، ماحولیاتی پائیداری اور سیاحت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر کے لیے زیادہ ذمہ دار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ سیاحتی نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی راستے میں مختلف سیاحتی مقامات پر بھی رکے گی، جس کے ذریعے جموں کی سیاحتی صلاحیت کے تنوع کو اجاگر کرنے اور سیاحوں کو روایتی سیاحتی مقامات سے آگے دیگر مقامات کی سیر کے لیے ترغیب دینے کی کوشش کی جائے گی۔
اس موقع پر فکی فلّو جے کے ایل کی چیئرپرسن ورشا بنسل نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر کو بے مثال قدرتی خوبصورتی حاصل ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ خواتین کی قیادت میں اس الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی کے ذریعے ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پائیدار نقل و حمل اور سیاحت مل کر ایک سرسبز جموں و کشمیر کی جانب آگے بڑھ سکتے ہیں، ساتھ ہی جموں کی شاندار سیاحتی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے۔‘‘
یواین آئی۔ طا
جموں و کشمیر
لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے مسلسل چوکس رہنے پر زور دیا
سری نگر، شمالی فوجی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے وادیٔ کشمیر میں یونٹوں اور فارمیشنز کے دورے کے دوران ابھرتے ہوئے خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے مسلسل چوکس رہنے اور پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
شمالی کمان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما نے وادیٔ کشمیر میں یونٹوں اور فارمیشنز کا دورہ کرکے انسدادِ دہشت گردی کے نظام میں آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔
بیان کے مطابق، فوجیوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے ان کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور فرائض سے وابستگی کی تعریف کی اور ابھرتے ہوئے خطرات کے پیش نظر مسلسل چوکسی اور پیشگی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
یواین آئی۔ ط ا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
