دنیا
صدر میکخواں کا حکومت کو ایندھن کا بحران حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا حکم
پیرس، صدر ایمانوئل میکخواں نے حکومت کو ملک میں ایندھن کے بحران کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا حکم دیا ہے۔
فرانسیسی حکومت کی ترجمان موڈ بریگون نے بدھ کے روز یہ معلومات فراہم کیں۔ فرانس کے وزیرِ خزانہ رولینڈ لیسکیور نے گزشتہ 11 ستمبر کو کہا تھا کہ فروری میں ایران سے جڑے تنازع کے آغاز کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا تھا، وہ طویل عرصے تک برقرار رہے گا۔ ملک میں ڈیزل کی قیمت 2.30 یورو فی لیٹر اور گیسولین کی قیمت 2.10 یورو فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بحران سے پہلے کے مقابلے میں اوسطاً تقریباً 30 فیصد زیادہ ہے۔
محترمہ بریگون نے ایک بریفنگ کے دوران کہا، “صدر نے اپنی حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایک طرف ایندھن کی سپلائی کو یقینی بنانے اور دوسری طرف قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مکمل طور پر فعال ہو جائیں۔”
اخبار ‘لے فیگارو’ نے وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو کے معاونین کے حوالے سے خبر دی ہے کہ لیکورنو نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں کو دی جانے والی امدادی مراعات کو 31 دسمبر تک بڑھانے کا حکم دیا ہے۔
حکومت نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ متاثرہ شعبوں کے لیے کل امدادی رقم بڑھا کر 1.2 ارب یورو کر دی گئی ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
ٹرمپ خلیجی ممالک کے لیڈران کے ساتھ ایران پر بات چیت کریں گے
واشنگٹن، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیجِ فارس کے ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ میں اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ایکسیوس نیوز پورٹل نے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
رپورت میں بدھ کے روز کہا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے بعد امریکہ کی حکمتِ عملی کے متبادل پر بات چیت کی توقع ہے۔ معلومات کے مطابق مسٹر ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ مشیر ایک منصوبہ تیار کر رہے ہیں، جسے نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات کے بعد منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے کل کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور جنگ ختم ہو رہی ہے۔
یواین آئی/اسپوتنک۔الف الف
دنیا
واشنگٹن اپنی مشرق وسطیٰ پالیسی کو اسرائیل کے تابع نہیں ہونے دے سکتا:جے ڈی وینس
واشنگٹن، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ واشنگٹن اپنی ’’مشرق وسطیٰ کی پالیسی کو اسرائیل کے تابع‘‘ نہیں ہونے دے سکتا اور اسے امریکی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
منگل کو آل اِن پوڈکاسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وینس نے اسرائیل کو فوجی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس کے تبادلے میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار قرار دیا، تاہم کہا کہ دونوں حکومتیں ہر معاملے پر متفق نہیں ہوتیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے اختلاف کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جب انہیں محسوس ہوتا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
وینس نے نیتن یاہو کے عرفی نام ’’بی بی‘‘ کا استعمال کرتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں گزشتہ 40 برس کے تقریباً ہر صدر کے مقابلے میں انہوں نے اس بات پر اختلاف کرنے کے لیے زیادہ آمادگی ظاہر کی ہے کہ جب انہیں محسوس ہو کہ امریکی عوام کے مفادات اسرائیلی حکومت کے مفادات سے مختلف ہیں تو وہ بی بی نیتن یاہو سے راستہ الگ کر سکتے ہیں۔‘‘
وینس نے کہا کہ ٹرمپ اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار رہے ہیں کہ اسرائیل کے نقطۂ نظر سے نیتن یاہو درست ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود امریکہ کے لیے مختلف طریقہ اختیار کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’اس تعلق سمیت تمام تعلقات کو امریکی مفاد کی بنیاد پر استوار کرنا ہی اس معاملے پر حقیقت پسندانہ گفتگو کا راستہ ہے۔‘‘
انہوں نے واشنگٹن کے نیٹو کے ساتھ تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے یورپی اتحادیوں کے ساتھ اہم شراکت داریاں ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی اس اتحاد کے تابع ہو جائے۔
وینس نے کہا، ’’ہم جب کسی کے ساتھ کام کریں گے تو کریں گے، جب اختلاف ہوگا تو اختلاف کریں گے، اور ہم امریکہ کے مفادات کو آگے بڑھائیں گے۔ یہی ایک حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اختیار کرنے کا واحد طریقہ ہے۔‘‘
دریں اثنا، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان تعلقات بدستور مضبوط ہیں۔
بدھ کو شائع ہونے والے ’وائی نیٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہکابی نے کہا کہ دونوں ممالک ’’انتہائی قریبی تعاون‘‘ کر رہے ہیں اور اشارہ دیا کہ ان کا تعاون عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں کمی کے حوالے سے ہکابی نے اس کی وجہ وہ چیز قرار دی جسے انہوں نے ’’غلط معلومات‘‘ کہا۔
انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ ایران کے ساتھ امریکہ کا تصادم صرف اسرائیل کے تحفظ کے لیے نہیں ہے۔
ہکابی نے کہا، ’’جب ہم ایران کے خلاف شراکت داری کر رہے ہیں تو ہم اسرائیل کا دفاع نہیں کر رہے، ہم امریکہ کا دفاع کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے ایران کی جانب سے طویل عرصے سے جاری ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعروں کا حوالہ دیا۔انہوں نے مزید کہا، ’’اسرائیل شاید ابتدائی پیش خیمہ ہے، لیکن اصل ہدف ہم ہیں۔‘‘
ہکابی نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیلا اور کہا کہ صدر نے یہ فیصلہ آزادانہ طور پر کیا۔
انہوں نے کہا، ’’انہوں نے یہ فیصلہ اپنی مرضی سے کیا۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر اسرائیل کو کسی وجودی خطرے سے بچانے کے لیے امریکہ کو ایران یا کسی دوسری طاقت کے ساتھ جنگ میں جانا پڑے تو کیا امریکہ ایسا کرے گا، تو ہکابی نے کہا، ’’اگر یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہوا تو صدر کارروائی کریں گے۔ لیکن یہی وہ کام ہے جو ان سے مطلوب ہے۔‘‘
انہوں نے مغربی کنارے میں انتہا پسند آباد کاروں کے تشدد پر بھی بات کی، جس کی وہ پہلے بھی مذمت کر چکے ہیں۔ ہکابی نے زور دیا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسے واقعات کے ذمہ دار افراد پوری آباد کار برادری کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے کبھی بھی ان تمام کارروائیوں کو آباد کاروں سے منسوب نہیں کیا۔ درحقیقت، میں کہتا ہوں کہ یہ آباد کار نہیں بلکہ ’اَن سیٹلرز‘ ہیں۔‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ہم نے جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ڈراون کو گرایا:ایران
تہران، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم کے اوپر ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون مارگرایا ہے۔
سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی فضائی دفاعی نظاموں نے منگل کی شب جزیرے کے اوپر اس ڈراون کا تعین کرتے ہوئے اسے گرا دیا۔
انہوں نے دعوی کیا ہے کہ یہ جنگ کے دوران گرایا جانے والا اسی قسم کا 52 واں ڈراون تھا ۔
امریکی فوج نے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے منگل کو بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے ہرمز اور آس پاس کے علاقوں میں تین امریکی ایم کیو-1 ڈراون مارگرائے ہیں۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن میں حکومتی عمارات، فوجی مقامات، مِسائل کے بنیادی ڈھانچے اور فضائی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اسرائیل اور خطے بھر میں امریکی اڈوں کے خلاف میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔
تب سے یہ تنازعہ خطے میں پھیل چکا ہے اور دشمنی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر5 days agoسرحد پار دہشت گردی کی سازش کے معاملے میں این آئی اے نے کشمیر کے کئی مقامات پر تازہ تلاشی لی
-
جموں و کشمیر5 days agoاین آئی اے نے حافظ سعید کے خلاف دوسرا غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیا
-
دنیا6 days agoسعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست امریکہ نے مسترد کردی
-
کھیل1 week agoایشیائی جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ: ہندوستان نے جنوبی کوریا کو 7-3 سے شکست دی
-
دنیا5 days agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
تجزیہ1 week agoکیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
-
جموں و کشمیر7 days agoعمر عبداللہ نے پاجامہ والے بیان کے تنازع پر تنویر صادق کا دفاع کیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: ایس آئی اے کی ٹیم نے پونچھ، اودھم پور کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے
-
ہندوستان5 days agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
دنیا7 days agoروسی حملوں میں یوکرین میں 7 افراد ہلاک، کیف کا آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملہ
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں میونسپل کارپوریشن نے مصنوعی ذہانت پر مبنی واٹر پمپ مانیٹرنگ سسٹم شروع کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ میں سیاحت کا نیا ریکارڈ: آٹھ ماہ میں چار لاکھ سے زائد سیاح پہنچے
