تازہ ترین
محرم الحرام کے سلسلے میں شہر میں عائد بندشوں سے عام لوگوں کو دشواریوں کا سامنا
خبراردو:
انتظامیہ کی طرف سے 8محرم الحرام کے سلسلے میں شہر کے 9حساس پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت بندشیں عائد رہیں جس دوران عام لوگوں کے ساتھ ساتھ ملازمین، طلبا اور دیگر کاروباری اداروں سے وابستہ افراد کو کڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر سرینگر کے تجارتی مرکز لعل چوک کی جانب جونہی بدھوار کی صبح کاروباری لوگوں نے اپنا سفر شروع کیا تو انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس دوران لوگوں کو متعدد مقامات پر پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں سے منت سماجت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 8محرم الحرام کے سلسلے میں شیعہ برادری کی طرف سے جلسوں کے پیش نظر انتظامیہ نے شہر کے بتہ مالو، جہانگیر چوک، ریذیڈنسی روڑ، شہید گنج، امیر کدل، گونی کھن، لل دید، مہاراجہ بازار سمیت متعدد تاریخی تجارتی علاقوں کو مکمل طور پر سیل کیا ہوا تھا جس دوران یہاں سڑکوں پر خار دار تاریں نصب کرنے کے ساتھ ساتھ فورسز اہلکاروں کے اضافے دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے بخشی اسٹیڈیم روڑ پر بدھوار صبح سے ہی چاروں اطراف میں گاڑیوں کا جام لگا ہوا تھا جس دوران یہاں کاروباری، ملازمین اور طلبا کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر اگر چہ لوگوں نے گاڑیوں سے نیچے اتر کر یہاں تعینات فورسز اہلکاروں سے منت سماجت کرکے آگے جانے کی اجازت چاہی تاہم فورسز اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس کے نتیجے میں یہاں اضطرابی کی کیفیت پائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح امیر کدل، جہانگیر چوک، بتہ مالو، کرن نگر، بمنہ کراسنگ پر بھی ملازمین، طلبا اور کاروباری افراد درماندہ ہوکر رہ گئے جنہوں نے انتظامیہ کی اس کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت کو بندشیں عائد کرنی ہی تھیں تو انہیں لوگوں کو دتکلیف دینے کے بجائے قبل از وقت تعطیل کا اعلان کردینا چاہیے تھا تاکہ لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ادھر شہر کے کرن نگر علاقے میں اسی قسم کے حالات درپیش تھے جہاں سیکورٹی اہلکار عام لوگوں کے ساتھ ساتھ طبی عملے کو بھی ہسپتال جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ایس ایم ایچ ایس میں تعینات ایک لیڈی ڈاکٹر نے کے این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک گھنٹے سے یہاں تعینات اہلکاروں سے عرض کررہی ہوں کہ مجھے ہسپتال جانے دیا جائے لیکن اتنا وقت ضائع ہونے کے باوجود میں یہاں بے یار و مددگار ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ میرا آج ہسپتال میں او پی ڈی ہے جہاں مریض میرا انتظار کررہے ہیں لیکن سرکار نے سخت بندشیں عائد کرکے ان تمام مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی جو اس وقت ہسپتال میں میرا انتظار کررہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگر چہ میں نے یہاں تعینات اہلکاروں کو اپنا شناختی کارڈ اور دیگر دستاویز بھی پیش کئے تاہم اس کے باوجود بھی ان کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگی۔ ادھر انتظامیہ کی طرف سے عائد بندشوں کے بیچ بدھوار دن بھر شہر کے بیشتر علاقوں میں ٹریفک جام کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئی جس کے نتیجے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے والے لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کو شہر کے بعض علاقوں میں بندشیں عائد کرنی ہی تھیں تاہم باقی علاقوں میں لوگوں کی آوا جاہی کے لیے یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات اٹھانے چاہیے تھے لیکن حکومت کی ناقص پالیسی کی وجہ سے لوگوں کا پورا دن ٹریفک جام کی نذر ہوگیا۔
دنیا
حوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
ریاض، حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے درمیان سعودی عرب کے اتحادی ملک اس کی حمایت کے لیے آگے آ رہے ہیں۔
فرانس نے جمعہ کو تصدیق کی کہ وہ بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ یَنبُع میں واقع بڑے تیل ٹرمینل کی حفاظت کے لیے اپنے فوجی بھیجے گا۔ ادھر سعودی حکام پاکستان اور ترکی کے حکام کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیرس یَنبُع بندرگاہ پر ’’فوجی، رڈار اور دفاعی نظام‘‘ بھیجے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم کسی تنازع میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلکہ اس مقام کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کر رہے ہیں۔‘‘
یَنبُع میں تیل ذخیرہ کرنے اور صاف کرنے کی بڑی تنصیبات موجود ہیں اور یہ مشرقی-مغربی پائپ لائن سے منسلک ہے، جس کے ذریعے روزانہ 70 لاکھ بیرل تک تیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔
حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں، جس سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
جمعرات کو حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے یَنبُع میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات اور ریاض میں ایک ’’حساس مقام‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی فورسز نے کہا کہ انہوں نے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا۔ حکام نے کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کی ’’ہنگامی ملاقات‘‘ کا انتظام کرنے کے لیے اجلاس کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
تینوں ممالک نے حوثیوں کے ان حملوں کی بھی مذمت کی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان میں مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم، اس معاہدے کے تحت ترکی اور پاکستان کی جانب سے ممکنہ اقدام کے بارے میں اب بھی ابہام برقرار ہے، کیونکہ اس معاہدے کو ابھی باضابطہ طور پر فعال نہیں کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے دونوں اتحادی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں بھی سرگرم ہیں۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی عرب کے مفتی اعظم نے فوجیوں سے حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔
ایران کے حامی حوثی ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ تنازع غزہ میں ایران کے حامی حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگوں اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے پہلی بار خواتین کی قیادت میں جموں سے سری نگر تک الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی
جموں، جموں و کشمیر میں پائیدار سیاحت کو فروغ دینے اور ماحول دوست الیکٹرک موبیلیٹی کے امکانات کو اجاگر کرنے کے مقصد سے، جہاں سیاحت معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی فلّو) کے جموں، کشمیر اور لداخ چیپٹر نے جمعہ کو جموں کے ٹی آر سی کمپلیکس سے پہلی مرتبہ خواتین کی قیادت میں الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی کا آغاز کیا۔
ریلی کو ڈائریکٹر صنعت و تجارت، جموں ارون منہاس اور جوائنٹ ڈائریکٹر سیاحت، جموں اعجاز قیصر ملک نے فکی فلّو جے کے ایل کے ارکان اور دیگر متعلقہ افراد کی موجودگی میں ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ریلی میں 10 الیکٹرک کاروں کے ذریعے 22 خواتین نے شرکت کی۔
فکی فلّو جے کے ایل کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ سبز نقل و حمل، ماحولیاتی پائیداری اور سیاحت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر کے لیے زیادہ ذمہ دار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ سیاحتی نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی راستے میں مختلف سیاحتی مقامات پر بھی رکے گی، جس کے ذریعے جموں کی سیاحتی صلاحیت کے تنوع کو اجاگر کرنے اور سیاحوں کو روایتی سیاحتی مقامات سے آگے دیگر مقامات کی سیر کے لیے ترغیب دینے کی کوشش کی جائے گی۔
اس موقع پر فکی فلّو جے کے ایل کی چیئرپرسن ورشا بنسل نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر کو بے مثال قدرتی خوبصورتی حاصل ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ خواتین کی قیادت میں اس الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی کے ذریعے ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پائیدار نقل و حمل اور سیاحت مل کر ایک سرسبز جموں و کشمیر کی جانب آگے بڑھ سکتے ہیں، ساتھ ہی جموں کی شاندار سیاحتی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے۔‘‘
یواین آئی۔ طا
دنیا
کینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
اوٹاوا، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے ملک کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے انتہائی کم مگر سنگین خطرے کا جائزہ لینے اور اس کے لیے تیاری کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ بی بی سی نے جمعہ کو ’دی نیویارک ٹائمز‘ کو دیے گئے ان کے انٹرویو کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس انتہائی سنگین صورتحال کا محتاط جائزہ لیا ہے جس میں امریکہ کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری ذمہ داری ہے کہ انتہائی کم امکان والے لیکن انتہائی سنگین خطرات پر بھی توجہ دیں۔ یہ صرف خطرے کا انتظام ہے۔ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے، لیکن اس کے لیے تیاری نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکی فوج میں 20 لاکھ سے زیادہ فعال اور ریزرو اہلکار ہیں، جبکہ کینیڈا کے پاس دو لاکھ سے بھی کم فوجی ہیں۔ 2024 تک امریکہ کے پاس 65 فوجی آبدوزیں تھیں، جبکہ کینیڈا کے پاس صرف چار تھیں۔
کارنی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کینیڈا کی طویل ساحلی پٹی اور آرکٹک سے قربت کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ متعدد بار کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست قرار دے چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بھی جاری ہے اور گزشتہ ماہ متعدد مصنوعات پر ایک دوسرے کے خلاف محصولات میں اضافہ کیا گیا۔
کارنی نے کہا کہ اس کے باوجود وہ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات بحال کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا7 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
دنیا4 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
