تازہ ترین
وادی کے شمال و جنوب میں خونین تصاد م آرائیاں،3جنگجو، 2عام شہری، اہلکار سمیت 6افراد جاں بحق
خبراردو:
وادی میں تشدد کی تازہ لہر کے بیچ جمعرات کو شمالی، وسطی اور جنوبی کشمیر میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان الگ الگ خونین تصادم آرائیوں میں 3جنگجوؤں سمیت 2عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ اس دوران ڈورو قاضی گنڈ میں جنگجوؤں کی جوابی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔ ادھر فوجی آپریشن کے بیچ بھڑک اُٹھے عوامی احتجاج کو کچلنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز نے الگ الگ مقامات پر طاقت کا استعمال کیا جس دوران 2درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے 9پیلٹ متاثرین کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جمعرات کی علی الصبح 5بجے سیکورٹی فورسز نے شہر کے مضافاتی علاقے نورباغ قمرواری علاقے کو محاصرہ میں لیتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کاآغاز کیا۔ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد شہر کے نورباغ قمر واری علاقے کو کڑے محاصرے میں لے لیا جس دوران علاقے کی اندرون و بیرون سڑکوں پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بنائی گئی۔پویس نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فورسزز نے جب مشتبہ مکان جو کہ محمد یعقوب ملک کا ہے، کے کی جانب پیش قدمی شروع کی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر فائرنگ جس کے بعد طرفین کے درمیان جھڑپ کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران طرفین کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے دوران مالک مکان کا بیٹا محمد سلیم ملک گولیوں کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نوجوان کی ہلاکت سے متعلق حالات و واقعات کی چھان بین کررہی ہے۔ اس دوران نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے بعد انتظامیہ نے پائین شہر کے مختلف علاقوں میں سخت کرفیو نافذ کردیا۔ انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کی خاطر شہر کے مختلف علاقوں میں سخت بندشیں عائد کی جس دوران یہاں حساس مقامات پر فورسز اہلکاروں کے اضافے دستوں کو تعینات کردیا گیا۔

ا دھر نوجوان کے جلوس جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے لگائے۔ انہوں نے اس موقعے پر مظاہرین نے فورسز کارروائی کے خلاف بھی جم کر نعرے بازی کی۔جلوس جونہی صفاکدل اور عیدگاہ کے مقام پر پہنچا تو یہاں رتعینات فورسز اہلکاروں نے جلوس کو تتر بتر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ نے افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے جمعرات کی صبح سے ہی موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ادھر مقامی لوگوں نے پولیس بیان کو نکارتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں کوئی بھی جھڑپ نہیں ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے تلاشی کے دوران محمد سلیم ملک پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اسے موقعے پر ہی جاں بحق کردیا۔

ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام میں فوج کی 19آر آر نے گاسی گنڈ ڈورو میں ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر ناکہ لگایا جس دوران یہاں جنگجوؤں کی ایک جمعیت کا فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہوا جس کے بعد ہتھیار بند جنگجوؤں نے فوجی اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر فوجی اہلکاروں نے جنگجوؤں کو زیر کرنے کے لیے علاقے کے باہری راستوں پر اضافی دستوں کو تعینات کرتے ہوئے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا ۔ فوج نے اس موقعے پر علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرتے ہوئے گھماسان کی لڑائی شروع کی جس کے نتیجے میں لشکر طیبہ کا مقامی کمانڈر آصف ملک عرف ابو عکاشا ساکن کھاہ گنڈ ویری ناگ جاں بحق ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کمانڈر نے انجینئرنگ مضمون میں گریجویشن حاصل کی تھی اور بعد میں جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں فوج کے 3اہلکار بھی بری طرح زخمی ہوگئے جن کی شناخت ہیپی سنگھ، بھوپندر سنگھ اور کلونت سنگھ کے طور پر کی گئی جنہیں بعد میں علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ہیپی سنگھ نامی فوجی اہلکار یہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے دوران مزید جنگجو فوج کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں معروف عسکری کمانڈر نوید جٹ بھی شامل ہیں۔ معلوام ہوا ہے کہ جھڑپ کے دوران نوید جاٹ بھی زخمی ہوا ہے تاہم فوج اور فورسز نے فرار ہوئے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر قاضی گنڈ اور جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں کا تلاشی آپریشن تیز کردیا ہے۔ادھر مہلوک جنگجو آصف ملک کو جونہی اپنی آبائی گاؤں ویری ناگ میں سپرد خاک کیا جارہا تھا تو یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اُن کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر جاں بحق جنگجو کی نماز جنازہ کئی بار ادا کی گئی جن میں جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی آصف کا جلوس جنازہ رواں دواں تھا تو اسی دوران چند ہتھیار بند جنگجو نمودار ہوئے جنہوں نے اپنی ساتھی کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے سلامی پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں نے اس موقعے پر ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کئے اور اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔
ویڈیو دیکھیں:
ادھر جنگجو کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی ڈورو، لارکی پورہ، دیالگام، شاہ آباد، کیموہ سمیت متعدد علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر جنوبی اضلاع کے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس دوران یہاں افرا تفری کا ماحول بپا ہوا۔ ادھر وسطی کشمیر کے پانزن بڈگام میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین مڈبھیڑ میں حزب المجاہدین سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق ہوئے جس کے بعد یہاں عوامی احتجاج بھڑک اُٹھا جسے منتشر کرنے کے لیے فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے 9پیلٹ متاثرین کو شہر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا۔کے این ایس نمائندے کے مطابق فوج نے جمعرات کی صبح پانزن نامی بستی کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر تلاشی آپریش شروع کردیا ۔ فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ تلاشی پارٹی جونہی پانزن نامی بستی میں داخل ہوگئی اور گھر گھر تلاشی کا باضابطہ آغاز کیا تو یہاں مسجد میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس کے ساتھ ہی یہاں بھی جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس مسجد کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگجوؤں کو خودسپردگی کرنے کی پیش کش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر مقامی اوقاف کمیٹی سے بھی جنگجوؤں کو سرینڈر کرنے کو کہا گیا تاہم انہوں نے فورسز کے سامنے سرنڈر کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد ہی مسجد میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی تیز کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں حزب المجاہدین سے وابستہ 2جنگجوؤں کوجاں بحقکردیا گیا۔ پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت شیراز احمد بٹ ساکن کرالہ واری چاڈورہ اور عرفان احمد ڈار ساکن کاکہ پورہ پلوامہ کے بطور کی ۔ انہوں نے کہا کہ عرفان نامی جنگجو حزب میں شامل ہونے سے قبل محکمہ پولیس میں بطور ایس پی او کام کرتا تھا جس کے بعد وہ اچانک لاپتہ ہوا اور جنگجوؤں کی صف میں شامل ہوا۔
اس دوران جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہیں پانزن اور ملحقہ علاقوں میں زبردست افرا تفری پھیل گئی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی مظاہرے بھڑک اُٹھے۔ نمائندے کے مطابق پانزن اور ملحقہ علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹکڑیوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی تاہم فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران زخمیوں میں سے 9پیلٹ متاثرین کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔

ادھر جمعرات کو وادی بھر میں خونین تصادم آرائیوں کے مابعد حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سرینگر، بڈگام اور کولگام کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کے این ایس کو بتایا کہ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سرینگر، بڈگام اور کولگام کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھا تاہم جمعرات کی شام کو سرینگر میں انٹرنیٹ خدمات کو بحال کردیا گیا۔ اس دوران محکمہ ریلوے نے بھی مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وادی بھر میں ریل خدمات کو بند کردیاہے۔

اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے وادی بھر میں نہتے عوام کیخلاف اختیار کی گئی جارحانہ اور نسل کشی سے عبارت پالیسیوں، پائین شہر میں ایک نہتے شہری محمد سلیم ملک کو اپنے ہی گھر میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے جاں بحق کئے جانے، نام نہاد انتخابات کو بنیاد بناکر درجنوں حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے اور وادی کے طول و ارض میں قتل و غارت گری، عوام کو زدو کوب کرنے اور تلاشی آپریشن کی آڑ میں فوجی آپریشن کے ذریعہ نوجوانوں کو جاں بحق کرنے کو بھارتی استعماریت کے مذموم حربے قرار دیتے ہوئے ان واقعات کیخلاف جمعتہ المبارک 28 ستمبر کو پوری ریاست جموں وکشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی ہے۔KNS
دنیا
کیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
تہران، ایران نے پیر کو بتایا کہ کیسپین سمندر کی قانونی حیثیت سے جڑے معاہدے کو منظوری دینے پر آخری فیصلہ ایران کی پارلیمنٹ کرے گی۔
ایران کے غیر ملکی امور کی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کے ساتھ ہی ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ یہ قدم حالیہ علاقائی پیش رفت یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ سے متاثر ہے۔ دارالحکومت تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کے فیصلے پوری طرح آزادانہ اور اس کے اپنے قومی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست 2018 میں کیسپین سمندر کے پانچ ساحلی ممالک (ایران، روس، آذربائیجان، قزاقستان اور ترکمانستان) کے دستخط شدہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے پہلے کئی سال تک وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں جائزے کے تحت رکھا گیا تھا۔
مسٹر بقائی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ اس معاہدے کو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا وقت حالیہ جنگ یا کسی بیرونی دباؤ سے جڑا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات سے جڑے فیصلے آزادانہ طور پر لیتا ہے اور بین الاقوامی معاہدوں پر ایران کا موقف پوری طرح سے اس کے اپنے مفادات پر مبنی ہوتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پانچوں دستخط کنندہ ممالک کی توثیق کے بغیر یہ معاہدہ نافذ نہیں ہو سکتا، اسی لیے دیگر چار ممالک چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ جلد از جلد نافذ ہو۔ مسٹر بقائی نے واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے پر اپنا کام پورا کر لیا ہے، لیکن ایران کے آئین کے تحت اس پر آخری فیصلہ لینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
کابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ ان کی وزراء کونسل میں توسیع ’’کسی وقت‘‘ ہوگی، تاہم انہوں نے 15 اگست سے قبل کابینہ میں توسیع کے کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا۔
مجوزہ کابینہ میں توسیع سے متعلق صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’یہ کام جاری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں توسیع 15 اگست سے پہلے نہیں ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان وزراء کے ساتھ ناانصافی ہوگی جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر تقریر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ’’وہ اپنی تقریر کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی تقریر کرنے دیں۔‘
عمر عبداللہ نے کابینہ میں ردوبدل کے بارے میں بار بار پوچھے جانے پر حیرت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ’’کیا آپ کبھی دہلی میں وزیر اعظم صاحب سے یہ سوال کرتے ہیں؟ وہاں کئی مہینوں سے کابینہ میں ردوبدل، ردوبدل، ردوبدل کی بات ہو رہی ہے، لیکن وہاں کوئی یہ سوال نہیں پوچھتا۔ یہاں آپ اتنے فکرمند ہیں۔ یہ کسی وقت ہو جائے گا، فکر نہ کریں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ میں جاری تعطل ختم ہونے کے امکانات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل، جن میں طلبہ کے احتجاج اور پولیس کارروائی سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، کا جواب دینا چاہیے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’اگر مرکزی وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات یا مسائل کا جواب دینے والے ہیں تو یہ اچھی بات ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی اسمبلی کا مقصد یہی ہے۔ اپوزیشن کا کام مسائل اٹھانا ہے اور حکومت کا کام ان مسائل کا جواب دینا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی وزیر داخلہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج اور حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کا جواب دیتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ ’’اگر معزز وزیر داخلہ سوالات کا جواب دیتے ہیں اور پارلیمنٹ دوبارہ کام شروع کر دیتی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ چلے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے پارلیمنٹ چلانے پر ہونے والے بھاری اخراجات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ جب ایوان میں خاطر خواہ کام نہ ہو اور کارروائی متاثر ہو تو لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’پارلیمنٹ چلانے میں بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہاں کوئی کام نہیں ہوتا تو لوگوں کو یہ پسند نہیں آتا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اجلاس کے باقی دنوں کے پرامن اور معمول کے مطابق گزرنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’مجھے امید ہے کہ پارلیمنٹ کے باقی دن اچھے گزریں گے۔‘‘
یواین آئی۔ظ ا
جموں و کشمیر
7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے پیر کو خصوصی جج، انسدادِ بدعنوانی، بارہمولہ کی عدالت میں 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ ان میں نو سرکاری ملازمین اور ایک نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔ یہ معاملہ سرکاری اسٹور کے سامان میں مبینہ خرد برد، جعل سازی، عہدے کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ سازش سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ کپواڑہ کے لستیال-کالاروس علاقے میں اسٹیل پل کی تعمیر سے متعلق ہے۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سابقہ ویجی لینس آرگنائزیشن کشمیر نے ایک اوپن ویریفکیشن کی تھی۔ اس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈی، آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ کے افسران کی ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے سی بی کے مطابق پل کی تعمیر کا کام ستمبر 2010 میں ٹھیکیدار غلام محی الدین لون کو الاٹ کیا گیا تھا اور اسے تین ماہ کے اندر مکمل کیا جانا تھا۔ تاہم، ٹھیکیدار نے مبینہ طور پر کافی تاخیر سے کام شروع کیا، کام کا صرف ایک حصہ مکمل کیا اور بعد میں منصوبہ ادھورا چھوڑ دیا۔
تحقیقات کے دوران تقریباً 5.63 لاکھ روپے مالیت کا سرکاری اسٹور کا سامان، جس میں سیمنٹ اور اسٹیل شامل تھے، حساب میں موجود نہیں پایا گیا یا اس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اے سی بی نے بتایا کہ اس سامان کا کوئی مناسب حساب پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ٹھیکیدار کی 73 ہزار روپے کی سی ڈی آر رقم مبینہ طور پر محکمہ کی جعلی دستاویز کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر جاری اور وصول کی گئی۔ اس کے علاوہ 81,400 روپے کی بل ڈپازٹ رقم بھی مبینہ طور پر اس وقت جاری کی گئی جب حکومت کے واجبات ابھی باقی تھے۔
اے سی بی کے مطابق انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے افسران کی جانب سے سرکاری سامان کی حفاظت، معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانے میں کوتاہیوں کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو مجموعی طور پر 7,12,150 روپے کا نقصان ہوا۔
ملزمان میں سابق اور موجودہ ایگزیکٹو انجینئرز، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئرز، جونیئر انجینئرز، اکاؤنٹس افسران اور نجی ٹھیکیدار شامل ہیں۔
تحقیقات مکمل ہونے اور زیرِ ملازمت سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل ہونے کے بعد اے سی بی نے تحقیقات کے دوران جمع کیے گئے زبانی، دستاویزی، سائنسی اور دیگر شواہد کی بنیاد پر 10 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔
چارج شیٹ میں شامل ملزمان میں عبدالمجید ملک، اس وقت کے ہیلپر/اسسٹنٹ کیشیئر؛ غلام رسول لون، اس وقت کے کیشیئرسینئر اسسٹنٹ محمد سلطان شیخ (ریٹائرڈ) اور انجینئر اجیت سنگھ چوپڑا (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے ایگزیکٹو انجینئر، انجینئر نذیر احمد شاہ (ریٹائرڈ) اور انجینئر عبدالرشید ڈار (ریٹائرڈ)، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر؛ انجینئر منظور احمد سومجی، اس وقت کے جونیئر انجینئر، غلام قادر بٹ (ریٹائرڈ) اور عبدالحمید ڈار، دونوں اس وقت کے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ پی ڈبلیو ڈی (آر اینڈ بی) ڈویژن کپواڑہ؛ اور نجی ٹھیکیدار/مفاد حاصل کرنے والے غلام محی الدین لون شامل ہیں۔
تمام 10 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت کی ہدایت کے مطابق ضمانتی اور ضامن بانڈ پیش کرنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا15 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا10 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا17 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
ہندوستان15 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا9 hours agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا9 hours agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر8 hours ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
دنیا7 hours agoکیسپین سمندر معاہدے کا مستقبل ایران کی پارلیمنٹ طے کرے گی: اسماعیل بقائی
-
جموں و کشمیر8 hours agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
