تازہ ترین
وادی کے شمال و جنوب میں خونین تصاد م آرائیاں،3جنگجو، 2عام شہری، اہلکار سمیت 6افراد جاں بحق
خبراردو:
وادی میں تشدد کی تازہ لہر کے بیچ جمعرات کو شمالی، وسطی اور جنوبی کشمیر میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان الگ الگ خونین تصادم آرائیوں میں 3جنگجوؤں سمیت 2عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ اس دوران ڈورو قاضی گنڈ میں جنگجوؤں کی جوابی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔ ادھر فوجی آپریشن کے بیچ بھڑک اُٹھے عوامی احتجاج کو کچلنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز نے الگ الگ مقامات پر طاقت کا استعمال کیا جس دوران 2درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے 9پیلٹ متاثرین کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جمعرات کی علی الصبح 5بجے سیکورٹی فورسز نے شہر کے مضافاتی علاقے نورباغ قمرواری علاقے کو محاصرہ میں لیتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کاآغاز کیا۔ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد شہر کے نورباغ قمر واری علاقے کو کڑے محاصرے میں لے لیا جس دوران علاقے کی اندرون و بیرون سڑکوں پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بنائی گئی۔پویس نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فورسزز نے جب مشتبہ مکان جو کہ محمد یعقوب ملک کا ہے، کے کی جانب پیش قدمی شروع کی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر فائرنگ جس کے بعد طرفین کے درمیان جھڑپ کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران طرفین کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے دوران مالک مکان کا بیٹا محمد سلیم ملک گولیوں کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نوجوان کی ہلاکت سے متعلق حالات و واقعات کی چھان بین کررہی ہے۔ اس دوران نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے بعد انتظامیہ نے پائین شہر کے مختلف علاقوں میں سخت کرفیو نافذ کردیا۔ انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کی خاطر شہر کے مختلف علاقوں میں سخت بندشیں عائد کی جس دوران یہاں حساس مقامات پر فورسز اہلکاروں کے اضافے دستوں کو تعینات کردیا گیا۔

ا دھر نوجوان کے جلوس جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے لگائے۔ انہوں نے اس موقعے پر مظاہرین نے فورسز کارروائی کے خلاف بھی جم کر نعرے بازی کی۔جلوس جونہی صفاکدل اور عیدگاہ کے مقام پر پہنچا تو یہاں رتعینات فورسز اہلکاروں نے جلوس کو تتر بتر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ نے افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے جمعرات کی صبح سے ہی موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ادھر مقامی لوگوں نے پولیس بیان کو نکارتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں کوئی بھی جھڑپ نہیں ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے تلاشی کے دوران محمد سلیم ملک پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اسے موقعے پر ہی جاں بحق کردیا۔

ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام میں فوج کی 19آر آر نے گاسی گنڈ ڈورو میں ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر ناکہ لگایا جس دوران یہاں جنگجوؤں کی ایک جمعیت کا فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہوا جس کے بعد ہتھیار بند جنگجوؤں نے فوجی اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر فوجی اہلکاروں نے جنگجوؤں کو زیر کرنے کے لیے علاقے کے باہری راستوں پر اضافی دستوں کو تعینات کرتے ہوئے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا ۔ فوج نے اس موقعے پر علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرتے ہوئے گھماسان کی لڑائی شروع کی جس کے نتیجے میں لشکر طیبہ کا مقامی کمانڈر آصف ملک عرف ابو عکاشا ساکن کھاہ گنڈ ویری ناگ جاں بحق ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کمانڈر نے انجینئرنگ مضمون میں گریجویشن حاصل کی تھی اور بعد میں جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں فوج کے 3اہلکار بھی بری طرح زخمی ہوگئے جن کی شناخت ہیپی سنگھ، بھوپندر سنگھ اور کلونت سنگھ کے طور پر کی گئی جنہیں بعد میں علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ہیپی سنگھ نامی فوجی اہلکار یہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے دوران مزید جنگجو فوج کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں معروف عسکری کمانڈر نوید جٹ بھی شامل ہیں۔ معلوام ہوا ہے کہ جھڑپ کے دوران نوید جاٹ بھی زخمی ہوا ہے تاہم فوج اور فورسز نے فرار ہوئے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر قاضی گنڈ اور جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں کا تلاشی آپریشن تیز کردیا ہے۔ادھر مہلوک جنگجو آصف ملک کو جونہی اپنی آبائی گاؤں ویری ناگ میں سپرد خاک کیا جارہا تھا تو یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اُن کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر جاں بحق جنگجو کی نماز جنازہ کئی بار ادا کی گئی جن میں جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی آصف کا جلوس جنازہ رواں دواں تھا تو اسی دوران چند ہتھیار بند جنگجو نمودار ہوئے جنہوں نے اپنی ساتھی کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے سلامی پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں نے اس موقعے پر ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کئے اور اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔
ویڈیو دیکھیں:
ادھر جنگجو کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی ڈورو، لارکی پورہ، دیالگام، شاہ آباد، کیموہ سمیت متعدد علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر جنوبی اضلاع کے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس دوران یہاں افرا تفری کا ماحول بپا ہوا۔ ادھر وسطی کشمیر کے پانزن بڈگام میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین مڈبھیڑ میں حزب المجاہدین سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق ہوئے جس کے بعد یہاں عوامی احتجاج بھڑک اُٹھا جسے منتشر کرنے کے لیے فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے 9پیلٹ متاثرین کو شہر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا۔کے این ایس نمائندے کے مطابق فوج نے جمعرات کی صبح پانزن نامی بستی کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر تلاشی آپریش شروع کردیا ۔ فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ تلاشی پارٹی جونہی پانزن نامی بستی میں داخل ہوگئی اور گھر گھر تلاشی کا باضابطہ آغاز کیا تو یہاں مسجد میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس کے ساتھ ہی یہاں بھی جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس مسجد کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگجوؤں کو خودسپردگی کرنے کی پیش کش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر مقامی اوقاف کمیٹی سے بھی جنگجوؤں کو سرینڈر کرنے کو کہا گیا تاہم انہوں نے فورسز کے سامنے سرنڈر کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد ہی مسجد میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی تیز کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں حزب المجاہدین سے وابستہ 2جنگجوؤں کوجاں بحقکردیا گیا۔ پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت شیراز احمد بٹ ساکن کرالہ واری چاڈورہ اور عرفان احمد ڈار ساکن کاکہ پورہ پلوامہ کے بطور کی ۔ انہوں نے کہا کہ عرفان نامی جنگجو حزب میں شامل ہونے سے قبل محکمہ پولیس میں بطور ایس پی او کام کرتا تھا جس کے بعد وہ اچانک لاپتہ ہوا اور جنگجوؤں کی صف میں شامل ہوا۔
اس دوران جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہیں پانزن اور ملحقہ علاقوں میں زبردست افرا تفری پھیل گئی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی مظاہرے بھڑک اُٹھے۔ نمائندے کے مطابق پانزن اور ملحقہ علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹکڑیوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی تاہم فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران زخمیوں میں سے 9پیلٹ متاثرین کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔

ادھر جمعرات کو وادی بھر میں خونین تصادم آرائیوں کے مابعد حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سرینگر، بڈگام اور کولگام کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کے این ایس کو بتایا کہ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سرینگر، بڈگام اور کولگام کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھا تاہم جمعرات کی شام کو سرینگر میں انٹرنیٹ خدمات کو بحال کردیا گیا۔ اس دوران محکمہ ریلوے نے بھی مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وادی بھر میں ریل خدمات کو بند کردیاہے۔

اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے وادی بھر میں نہتے عوام کیخلاف اختیار کی گئی جارحانہ اور نسل کشی سے عبارت پالیسیوں، پائین شہر میں ایک نہتے شہری محمد سلیم ملک کو اپنے ہی گھر میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے جاں بحق کئے جانے، نام نہاد انتخابات کو بنیاد بناکر درجنوں حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے اور وادی کے طول و ارض میں قتل و غارت گری، عوام کو زدو کوب کرنے اور تلاشی آپریشن کی آڑ میں فوجی آپریشن کے ذریعہ نوجوانوں کو جاں بحق کرنے کو بھارتی استعماریت کے مذموم حربے قرار دیتے ہوئے ان واقعات کیخلاف جمعتہ المبارک 28 ستمبر کو پوری ریاست جموں وکشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی ہے۔KNS
دنیا
حوثیوں کے حملے بڑھنے پر سعودی عرب کے اتحادی مدد کے لیے آگے آئے
ریاض، حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے کے درمیان سعودی عرب کے اتحادی ملک اس کی حمایت کے لیے آگے آ رہے ہیں۔
فرانس نے جمعہ کو تصدیق کی کہ وہ بحیرۂ احمر کی اہم بندرگاہ یَنبُع میں واقع بڑے تیل ٹرمینل کی حفاظت کے لیے اپنے فوجی بھیجے گا۔ ادھر سعودی حکام پاکستان اور ترکی کے حکام کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ اقدامات پر تبادلۂ خیال کر رہے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیرس یَنبُع بندرگاہ پر ’’فوجی، رڈار اور دفاعی نظام‘‘ بھیجے گا۔انہوں نے کہا، ’’ہم کسی تنازع میں شامل ہونے کے لیے نہیں بلکہ اس مقام کے تحفظ کے لیے یہ اقدام کر رہے ہیں۔‘‘
یَنبُع میں تیل ذخیرہ کرنے اور صاف کرنے کی بڑی تنصیبات موجود ہیں اور یہ مشرقی-مغربی پائپ لائن سے منسلک ہے، جس کے ذریعے روزانہ 70 لاکھ بیرل تک تیل منتقل کیا جا سکتا ہے۔
حوثی، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، سعودی عرب پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملے کرتے رہے ہیں، جس سے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ ملک سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔
جمعرات کو حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے یَنبُع میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات اور ریاض میں ایک ’’حساس مقام‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی فورسز نے کہا کہ انہوں نے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا۔ حکام نے کسی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے جمعرات کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے فوجی سربراہان کی ’’ہنگامی ملاقات‘‘ کا انتظام کرنے کے لیے اجلاس کیا۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
تینوں ممالک نے حوثیوں کے ان حملوں کی بھی مذمت کی جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان میں مکہ اور دیگر شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم، اس معاہدے کے تحت ترکی اور پاکستان کی جانب سے ممکنہ اقدام کے بارے میں اب بھی ابہام برقرار ہے، کیونکہ اس معاہدے کو ابھی باضابطہ طور پر فعال نہیں کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے دونوں اتحادی مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں بھی سرگرم ہیں۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی عرب کے مفتی اعظم نے فوجیوں سے حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے تیار رہنے کی اپیل کی ہے۔
ایران کے حامی حوثی ایک دہائی سے زائد عرصے سے سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ تنازع غزہ میں ایران کے حامی حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی جنگوں اور امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے پہلی بار خواتین کی قیادت میں جموں سے سری نگر تک الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی
جموں، جموں و کشمیر میں پائیدار سیاحت کو فروغ دینے اور ماحول دوست الیکٹرک موبیلیٹی کے امکانات کو اجاگر کرنے کے مقصد سے، جہاں سیاحت معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (فکی فلّو) کے جموں، کشمیر اور لداخ چیپٹر نے جمعہ کو جموں کے ٹی آر سی کمپلیکس سے پہلی مرتبہ خواتین کی قیادت میں الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی کا آغاز کیا۔
ریلی کو ڈائریکٹر صنعت و تجارت، جموں ارون منہاس اور جوائنٹ ڈائریکٹر سیاحت، جموں اعجاز قیصر ملک نے فکی فلّو جے کے ایل کے ارکان اور دیگر متعلقہ افراد کی موجودگی میں ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ ریلی میں 10 الیکٹرک کاروں کے ذریعے 22 خواتین نے شرکت کی۔
فکی فلّو جے کے ایل کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ سبز نقل و حمل، ماحولیاتی پائیداری اور سیاحت ایک دوسرے کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر کے لیے زیادہ ذمہ دار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ سیاحتی نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔
الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی راستے میں مختلف سیاحتی مقامات پر بھی رکے گی، جس کے ذریعے جموں کی سیاحتی صلاحیت کے تنوع کو اجاگر کرنے اور سیاحوں کو روایتی سیاحتی مقامات سے آگے دیگر مقامات کی سیر کے لیے ترغیب دینے کی کوشش کی جائے گی۔
اس موقع پر فکی فلّو جے کے ایل کی چیئرپرسن ورشا بنسل نے کہاکہ ’’جموں و کشمیر کو بے مثال قدرتی خوبصورتی حاصل ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ خواتین کی قیادت میں اس الیکٹرک گاڑیوں کی ریلی کے ذریعے ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ پائیدار نقل و حمل اور سیاحت مل کر ایک سرسبز جموں و کشمیر کی جانب آگے بڑھ سکتے ہیں، ساتھ ہی جموں کی شاندار سیاحتی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے۔‘‘
یواین آئی۔ طا
دنیا
کینیڈین وزیراعظم کارنی کا امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے پر غور
اوٹاوا، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے ملک کے خلاف امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے انتہائی کم مگر سنگین خطرے کا جائزہ لینے اور اس کے لیے تیاری کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ بی بی سی نے جمعہ کو ’دی نیویارک ٹائمز‘ کو دیے گئے ان کے انٹرویو کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت نے اس انتہائی سنگین صورتحال کا محتاط جائزہ لیا ہے جس میں امریکہ کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہماری ذمہ داری ہے کہ انتہائی کم امکان والے لیکن انتہائی سنگین خطرات پر بھی توجہ دیں۔ یہ صرف خطرے کا انتظام ہے۔ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے، لیکن اس کے لیے تیاری نہ کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ کے دوران دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکی فوج میں 20 لاکھ سے زیادہ فعال اور ریزرو اہلکار ہیں، جبکہ کینیڈا کے پاس دو لاکھ سے بھی کم فوجی ہیں۔ 2024 تک امریکہ کے پاس 65 فوجی آبدوزیں تھیں، جبکہ کینیڈا کے پاس صرف چار تھیں۔
کارنی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کینیڈا کی طویل ساحلی پٹی اور آرکٹک سے قربت کے پیش نظر دفاعی اخراجات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ متعدد بار کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست قرار دے چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی جنگ بھی جاری ہے اور گزشتہ ماہ متعدد مصنوعات پر ایک دوسرے کے خلاف محصولات میں اضافہ کیا گیا۔
کارنی نے کہا کہ اس کے باوجود وہ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات بحال کرنے کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا7 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
دنیا4 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
