تازہ ترین
پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا: سی پی آئی (ایم)
خبراردو:
سی پی آئی (ایم) نے ریاست میں طے شدہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق شیڈول کو جاری کرنے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی سرکار کی ضد اور ہٹ دھرمی سے تعبیر کیا۔ پارٹی نے بتایا کہ ریاستی الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابات سے متعلق شیڈول اُس وقت جاری کیا گیا جب ریاست کی بیشتر سیاسی پارٹیوں نے نازک اور کشیدہ صورتحال کے تناظر میں انتخابات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی سیاسی پارٹیوں کے اس فیصلے کے باوجود انتخابات سے متعلق شیڈول جاری کرنا بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار کی ضد اور ہٹ دھرمی کو واضح کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے مختلف سیاسی و سیکورٹی معاملات کو اُٹھایا تھا جن میں سپریم کورٹ میں زیر بحث آرٹیکل 35Aاور ریاست کی خصوصی شناخت شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی گورنر کی طرف سے یہ بات بالکل غلط تھی کہ انہوں نے دفعہ 35Aکی سماعت کو الیکشن عمل کے ساتھ جوڑتے ہوئے ریاست کے تینوں خطوں میں عوام کے قلب و ذہن میں کنفیوژن پیدا کردیا۔
سی پی آئی (ایم) نے بتایا کہ ریاست کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر واضح کردیا تھا کہ وہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات سے متعلق شیڈول کے اجراء سے قبل دفعہ 35Aپر اپنے مؤقف کو واضح کریں۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کی سیاسی پارٹیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دفعہ 35Aکی پیروی کررہے ایڈوکیٹ تشار مہتا کو کیس سے فی الفور ہٹالیں کیوں کہ انہوں نے گزشتہ پیشی کے دوران کیس سے متعلق کشمیر دشمن مؤقف پیش کیا تھا۔اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں پر زور دیا تھا کہ وہ ریاست میں عوامی حکومت کے انتخاب تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کی پیروی کو مؤخر کریں۔اس کے علاوہ ریاست کی مجموعی سیاسی و سیکورٹی صورتحال بھی انتہائی خراب ہے جس کے نتیجے میں یہاں کی سیاسی جماعتوں نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے پرزور مطالبہ کیا تھا کہ وہ انتخابی عمل کو فی الحال مؤخر کریں۔ سی پی آئی (ایم) کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ اختلاف رائے رکھنے والوں کے ساتھ افہام و تفہیم اور بات چیت کا راستہ اختیار کرکے ایک ساز گار ماحول کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے آج ریاست میں حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں ہے مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی تجاویز کو بھی یکسر طور پر نظر انداز کیا جارہا ہے اور ان کے صلاح و مشورے کو درخور اعتنا سمجھ کر ردی کی ٹوکری کی نذر کیا جانے لگا۔
پارٹی کا کہنا تھا کہ آج ریاست میں ایسی آوازیں بھی اٹھنے لگی ہے اور لوگوں میں اس حوالے سے اضطرابی کیفیت پائی جارہی ہے کہ جب مرکزی سرکار یہاں کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کو کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے تو سیاسی اختلاف رائے رکھنے والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں مرکزی سرکار کو اس بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرنا چاہیے کہ اس طرز عمل سے کن لوگوں کی جیت ثابت ہورہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ موجودہ نازک اور پرتناؤ صورتحال میں مرکزی سرکار کی انتخابی عمل کے تئیں عجلت پسندی اُن کی ضد اور ہٹ دھرمی کو واضح کرتی ہے ۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ لوگوں کو یقین دلانے کے لیے دفعہ 35Aکی دفاع کے حوالے سے سنجیدہ اقداما ت اُٹھاتی تاکہ زمینی سطح پر لوگوں کو یہ محسوس ہوتا کہ واقعی مرکزی سرکار یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہے۔انہوں نے بتایا کہ سی پی آئی (ایم) کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ وہ زمینی سطح پر جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں اپنا مقدور بھر کردار ادا کرے۔انہوں نے بتایا کہ انتخابات میں عوام کی شرکت ایک اہم مسئلہ ہوتا ہے لیکن فی الوقت ریاست میں حالات اتنے گھمبیر ہے کہ لوگوں کی شرکت مشکوک نظر آرہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے مانگ کی تھی کہ زمینی حالات سے آگہی حاصل کرنے اور مل بیٹھ کر آئندہ کا لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے کل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے تاہم ہمارے مطالبے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کیا گیا، لہٰذا پارٹی نے آنے والے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہندوستان
لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے زیادہ اونچی 20 چوٹیوں پر کامیاب چڑھائی کرنے والی کوہ پیما ٹیم کا جمعہ کے روز یہاں استقبال کیا۔
اس ٹیم نے چامسیر-لنگسیر، گیاما نالا اور چوکسلا علاقوں میں 20 ایسی چوٹیوں پر پہلی بار چڑھائی کی جہاں پہلے کسی نے چڑھائی نہیں کی تھی۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ مہم دیرانگ میں واقع ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ اینڈ ایڈونچر اسپورٹس’ کے 20 کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ ٹیم کی قیادت کرنل رنویر سنگھ جموال نے کی۔
وزیر دفاع نے کوہ پیماؤں کی ہمت اور عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہندوستان کی کوہ پیمائی کی صلاحیت اور ایڈونچر اسپورٹس میں قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کوہ پیماؤں کو نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور کہا کہ ان کامیاب مہمات سے ملک کے نوجوان کوہ پیماؤں کو ایڈونچر کی سرگرمیوں اور دریافتوں کی ترغیب ملے گی۔
مہم کے دوران اس ٹیم نے اونچائی والے علاقوں میں بہتر منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت، صبر اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مقصد اونچائی والے سرحدی علاقوں میں ہمت اور دریافت کرنے کے جذبے کو فروغ دینا نیز آنے والی نسلوں کو کوہ پیمائی کے لیے بیدار کرنا تھا۔
فلیگ ان تقریب میں سکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ’میک اِن انڈیا‘ پہل کے 12 سال مکمل ہونے پر اس کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب پوری دنیا کی ضروریات کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے ملک میں پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے نتیجے میں ہندوستان میں زیادہ پیداوار، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی تمام شعبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اس یقین پر مبنی تھی کہ ’’ہندوستان دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کرسکتا ہے۔‘‘
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے 12 سال مکمل ہونا صرف ایک سنگ میل نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب کوئی ملک اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے اور حکومت مسلسل اصلاحات کے ذریعے اس اعتماد کو مضبوط کرتی ہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرے۔
گوئل نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ 94.53 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوئی، جبکہ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک مجموعی ایف ڈی آئی 843 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں جدید صنعتی شہر قائم کیے جارہے ہیں اور کاروبار میں آسانی کے لیے قوانین کو بھی آسان بنایا جارہا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) نے سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو مزید رفتار دی ہے۔ 31 مارچ 2026 تک پی ایل آئی پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں 2.40 لاکھ کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری، 23.8 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار یا فروخت اور 15.2 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوئی ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر 14.6 لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس و ٹیلی کام، دواسازی، طبی آلات، آٹوموبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی ہارڈویئر اور اسپیشلٹی اسٹیل سمیت کئی شعبوں کو پی ایل آئی اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے اب تک 470 کروڑ سے زیادہ آرڈر دیے جاچکے ہیں۔
گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کی اصل کامیابی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہے جو اس نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ فاونڈر، صنعت کاروں، مینوفیکچررز، اختراع کاروں، برآمد کنندگان اور عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ’’ہندوستان بنا سکتا ہے، ہندوستان اختراع کرسکتا ہے اور ہندوستان دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کا سفر ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کے بڑے ہدف کے ساتھ جاری ہے، جو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے وژن کو بھی مضبوط کرے گا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
بی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
سری نگر، جموں و کشمیر کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس میں سابق اسمبلی کی 2000 کی خود مختاری کی قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے 2000 میں خود مختاری کی قرارداد منظور ہونے کے وقت اسے مسترد کردیا تھا، پھر موجودہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد میں اسی قرارداد کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے؟
انہوں نے جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر صحافیوں سے کہاکہ ’’یہ مکمل طور پر متنازع اور ناقابل قبول قرارداد ہے، جسے بی جے پی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرارداد پیش کی۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں، جن میں 2000 کی جموں و کشمیر خود مختاری کی قرارداد بھی شامل ہے، کے حوالے نے ایوان میں ہنگامہ برپا کردیا۔ بی جے پی ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جس کے بعد ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
قائد حزب اختلاف نے کانگریس کی قیادت، بشمول راہل گاندھی اور جموں و کشمیر کانگریس کی قیادت سے ’’آرٹیکل 370 اور خود مختاری کے حوالوں‘‘ پر پارٹی کا موقف واضح کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
شرما نے سوال کیاکہ ’’کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ کیا وہ آرٹیکل 370 اور خود مختاری کی قرارداد کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ؟‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بناتے ہوئے شرما نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے خود مختاری کی قرارداد کو مسترد کیا تھا، اس وقت عمر عبداللہ کا اس حکومت سے کیا تعلق تھا۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’جب بی جے پی نے اس قرارداد کو مسترد کرکے پھاڑ دیا تھا، تو کیا اس وقت عمر عبداللہ این ڈی اے میں وزیر نہیں تھے؟ کیا وہ این ڈی اے کے ساتھی کے طور پر برقرار نہیں رہے؟‘‘
شرما نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ حکومت حکمرانی کی ان ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جذباتی مسائل کو اٹھا رہی ہے اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے عمل کو طول دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسے خود مختاری یا آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور جب تک ہمیں جواب نہیں ملتا، ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا4 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
