ہندوستان
کتابوں کی اشاعت اور فروخت کے امکانات کی تلاش کے ساتھ اقدامات پر بھی توجہ ضروری: پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین
نئی دہلی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں اردو کتابوں کی اشاعت و فروخت کی صورت حال کو بہتر کرنے اور اس حوالے سے نئے امکانات پر غورو خوض کے لیے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا،جس میں ہندوستان بھر سے مرکزی و ریاستی جامعات کے شعبہ ہاے اردو کے صدور نے شرکت کی اور انھوں نے اپنی قیمتی رائیں اور تجاویز پیش کیں۔اس میٹنگ کی صدارت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، شعبہئ اردو کے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کی۔
کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اس میٹنگ کی غرض و غایت بیان کی اور کہا کہ قومی اردوکونسل سے ادب کے علاوہ تاریخ،سماجیات،سائنس،طب وغیرہ پر اب تک1433کتابیں شائع ہوئی ہیں،ان میں عام دلچسپی کے علاوہ بہت سی کتابیں ایسی ہیں جن کی حیثیت حوالہ جاتی اور نصابی کتب کی ہے،جن کی ریسرچ اسکالرز اور اساتذہ کو ضرورت پڑتی رہتی ہے۔آج کی میٹنگ کا مقصد یہ ہے کہ ان کتابوں کو اردو اساتذہ،اسکالرز اور باذوق قارئین تک پہنچانے کے ممکنہ طریقوں پر غور کیا جائے اور ان کی فروخت کے نئے امکانات تلاش کیے جائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ جامعات کے اساتذہ اس حوالے سے ہمارا خصوصی تعاون کریں گے۔ انھوں نے بتایا کہ قومی اردو کونسل کی جانب سے مختلف سطح کے تعلیمی اداروں، تنظیموں اور قارئین کے ساتھ اس طرح کی میٹنگ آئندہ بھی ہوتی رہے گی۔
آج یہاں جاری ایک ریلیز کے مطابق اس میٹنگ کے شرکا و مقررین کا متفقہ خیال تھا کہ جدید ٹکنالوجی کے دور میں بھلے ہی ایک بڑا طبقہ آن لائن فارمیٹ میں کتابوں کے مطالعے کی طرف منتقل ہوا ہے،مگر مطبوعہ کتابوں کی اہمیت اب بھی برقرار ہے اور قومی اردو کونسل سے مختلف موضوعات پر ایسی کتابیں شائع ہوتی ہیں،جو اساتذہ اور اسکالرز دونوں کے لیے نہایت مفید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی کتابوں کی اشاعت تبھی ممکن ہے، جب پہلے سے چھپی ہوئی کتابوں کی نکاسی ہو اور اس میں اردو اساتذہ و طلبہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔شرکا نے کہا کہ اردو کتابوں کی اشاعت اور خریداری کو بڑھانے کے لیے یونیورسٹی کے ریسرچ سکالرز کو ترغیب دی جائے کہ وہ اپنے تعلیمی وظائف کا ایک حصہ کتابوں کے لیے ضرور مختص کریں۔چوں کہ نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ ٹکنالوجی سے مربوط ہے،اس لیے یہ رائے بھی سامنے آئی کہ کتابوں کے ڈیجیٹائزیشن پر توجہ دی جائے اور مطبوعہ کتابوں کے ساتھ ان کی سافٹ کاپی کی فروخت کے لیے بھی ایک میکانزم تیار کیا جائے،اسی طرح قارئین تک پہنچنے کے لیے جدید تکنیکی ذرائع مثلاً سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیا جائے۔
مقررین نے اس پر بھی زور دیا کہ کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ کلاس روم لیکچرز میں طلبہ کومطالعے کی طرف راغب کیا جائے اورنصابی کتابوں کو عصری انداز میں شائع کیا جائے۔شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طلبہ کے ساتھ اساتذہ کے درمیان بھی کتابیں خریدنے کا عام رجحان فروغ پانا چاہیے،تاکہ طلبہ ان سے تحریک لیں۔ میٹنگ میں یہ طے کیا گیا کہ قومی اردو کونسل کی جانب سے تمام جامعات کے شعبہ ہائے اردو کو اس تعلق سے ایک خط بھیجا جائے جس پر شعبوں کے صدر اپنے رفقا اور اسکالرز کے ساتھ تبادلہئ خیال کرکے لائحہ عمل بنائیں گے۔
میٹنگ کے صدر پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ تمام شرکا و مقررین کی تجاویز اور مشورے اہمیت کے حامل تھے، اب ان پر عملی اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کی یہ میٹنگ لوگوں میں کتابوں سے قربت و دلچسپی پیدا کرنے کی تحریک کاآغاز ہے، امید ہے کہ آپ حضرات کے تعاون سے یہ تحریک کامیابی سے بھی ہم کنار ہوگی۔
انھوں نے اس کامیاب میٹنگ کے انعقاد کے لیے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال، کونسل کے شعبہ خرید و فروخت کے انچارج اجمل سعید اور متعلقہ اسٹاف کو مباکباد بیش کی۔ میٹنگ کے شرکا و اظہار خیال کرنے والوں میں پروفیسر احمد محفوظ(جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)، پروفیسر نجمہ رحمانی(دہلی یونیورسٹی، دہلی)، پروفیسر قمرالہدی فریدی(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ)،پروفیسر عارفہ بشری (کشمیر یونیورسٹی)، پروفیسرشمس الہدی دریابادی(مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد)،پروفیسر شبنم حمید(الہ آباد یونیورسٹی)، پروفیسر شائستہ انجم نوری (پاٹلی پترا یونیورسٹی)،پروفیسر رضوان علی(رانچی یونیورسٹی)،پروفیسر سورج دیوسنگھ(پٹنہ یونیورسٹی)،پروفیسر اسلم جمشید پوری (چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ)،پروفیسر سید فضل اللہ مکرم (سینٹرل یونیورسٹی حیدرآباد)، ڈاکٹر عبداللہ امتیاز (ممبئی یونیورسٹی)، ڈاکٹر جاوید رحمانی(آسام یونیورسٹی، سِلچَر)، ڈاکٹر زرنگار یاسمین(مولانا مظہرالحق عربی فارسی یونیورسٹی، پٹنہ)، ڈاکٹر شاہد رزمی (مونگیر یونیورسٹی، بہار) اور ڈاکٹر خان محمد آصف (گوتم بدھ یونیورسٹی،نوئیڈا) شامل تھے۔ محترمہ شمع کوثر یزدانی(اسسٹنٹ ڈائرکٹر اکیڈمک)کے اظہار تشکر کے ساتھ میٹنگ کا اختتام عمل میں آیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے زیادہ اونچی 20 چوٹیوں پر کامیاب چڑھائی کرنے والی کوہ پیما ٹیم کا جمعہ کے روز یہاں استقبال کیا۔
اس ٹیم نے چامسیر-لنگسیر، گیاما نالا اور چوکسلا علاقوں میں 20 ایسی چوٹیوں پر پہلی بار چڑھائی کی جہاں پہلے کسی نے چڑھائی نہیں کی تھی۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ مہم دیرانگ میں واقع ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ اینڈ ایڈونچر اسپورٹس’ کے 20 کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ ٹیم کی قیادت کرنل رنویر سنگھ جموال نے کی۔
وزیر دفاع نے کوہ پیماؤں کی ہمت اور عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہندوستان کی کوہ پیمائی کی صلاحیت اور ایڈونچر اسپورٹس میں قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کوہ پیماؤں کو نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور کہا کہ ان کامیاب مہمات سے ملک کے نوجوان کوہ پیماؤں کو ایڈونچر کی سرگرمیوں اور دریافتوں کی ترغیب ملے گی۔
مہم کے دوران اس ٹیم نے اونچائی والے علاقوں میں بہتر منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت، صبر اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مقصد اونچائی والے سرحدی علاقوں میں ہمت اور دریافت کرنے کے جذبے کو فروغ دینا نیز آنے والی نسلوں کو کوہ پیمائی کے لیے بیدار کرنا تھا۔
فلیگ ان تقریب میں سکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ’میک اِن انڈیا‘ پہل کے 12 سال مکمل ہونے پر اس کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب پوری دنیا کی ضروریات کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے ملک میں پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے نتیجے میں ہندوستان میں زیادہ پیداوار، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی تمام شعبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اس یقین پر مبنی تھی کہ ’’ہندوستان دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کرسکتا ہے۔‘‘
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے 12 سال مکمل ہونا صرف ایک سنگ میل نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب کوئی ملک اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے اور حکومت مسلسل اصلاحات کے ذریعے اس اعتماد کو مضبوط کرتی ہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرے۔
گوئل نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ 94.53 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوئی، جبکہ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک مجموعی ایف ڈی آئی 843 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں جدید صنعتی شہر قائم کیے جارہے ہیں اور کاروبار میں آسانی کے لیے قوانین کو بھی آسان بنایا جارہا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) نے سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو مزید رفتار دی ہے۔ 31 مارچ 2026 تک پی ایل آئی پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں 2.40 لاکھ کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری، 23.8 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار یا فروخت اور 15.2 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوئی ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر 14.6 لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس و ٹیلی کام، دواسازی، طبی آلات، آٹوموبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی ہارڈویئر اور اسپیشلٹی اسٹیل سمیت کئی شعبوں کو پی ایل آئی اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے اب تک 470 کروڑ سے زیادہ آرڈر دیے جاچکے ہیں۔
گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کی اصل کامیابی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہے جو اس نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ فاونڈر، صنعت کاروں، مینوفیکچررز، اختراع کاروں، برآمد کنندگان اور عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ’’ہندوستان بنا سکتا ہے، ہندوستان اختراع کرسکتا ہے اور ہندوستان دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کا سفر ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کے بڑے ہدف کے ساتھ جاری ہے، جو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے وژن کو بھی مضبوط کرے گا۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
پی ایم مودی نے دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کیا، انتودیہ اورشمولیت پرمبنی ترقی کے ان کے وژن کو یاد کیا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز بھارتیہ جن سنگھ کے نظریہ ساز پنڈت دین دیال اپادھیائے کے یومِ پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، ایک صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیز انسانیت کے علم بردار اور انتودیہ کے حامی کے طور پر ان کے تعاون کو یاد کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، مسٹر مودی نے کہا کہ پنڈت اپادھیائے کے خیالات شمولیت پر مبنی ترقی، سماجی انصاف اور تعمیرِ ملت کی ہندوستان کی کوششوں کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا، “میں پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کو ان کی جینتی پر ادب کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔”
پنڈت اپادھیائے کو ایک “صاحب بصیرت مفکر، حب الوطن نیزانسانیت کے علم بردا اور انتودیہ کے رہنما” کے طور پر بیان کرتے ہوئے، مسٹر مودی نے کہا کہ ان کے “عوام کو ترقی کے مرکز میں رکھنے اورقطار کے آخری شخص کو اوپر اٹھانے کے لازوال نظریات” ملک کے ترقیاتی سفر میں آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
انہوں نے کہا، “یہ نظریات جامع پیش رفت، سماجی انصاف اور قوم کی تعمیر کی طرف ہمارے اجتماعی سفر کو مسلسل تحریک دیتے رہتے ہیں۔”
25 ستمبر 1916 کو پیدا ہوئے پنڈت اپادھیائے، بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی پیشرو، بھارتیہ جن سنگھ کی اہم نظریاتی شخصیات میں سے ایک تھے۔ انہوں نے جن سنگھ کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں اور اس کے نظریاتی فریم ورک کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے انسانیت کے فلسفے نے متوازن سماجی، اقتصادی اور ثقافتی ترقی کے وسیع تر فریم ورک کے اندر فرد اور معاشرے کو رکھنے کی کوشش کی۔ انتودیہ کا تصور، جسے موٹے طور پر سماجی اور اقتصادی نظام کے سب سے نیچے والے شخص کی ترقی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، بعد میں بی جے پی کی سیاسی اور پالیسی سے جڑی گفتگو میں ایک بار بار آنے والا موضوع بن گیا۔
پنڈت اپادھیائے کے یوم پیدائش پر مسٹر مودی کے خراج عقیدت نے آخری شخص کی فلاح و بہبود پر مسلسل زور دینے کو اجاگر کیا اور ان کی نظریاتی میراث کو جامع ترقی اور سماجی انصاف کے وسیع تر اہداف سے جوڑ دیا۔
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
دنیا4 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
