جموں و کشمیر
لائن آف کنٹرول پر مسلسل11ویں رات جنگ بندی کی خلاف ورزی
پاکستانی فوج کی8 فارورڈ سیکٹروں میں بلا اشتعال فائرنگ
چوکس ہندوستانی فوج نے دیافوری اورمتناسب جواب: دفاعی ترجمان
سری نگر:جے کے این ایس : 22اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاض جاری ہیں ،اوران خلاف ورزیوں کے تحت اتوار اور پیرکی درمیانی رات پاکستانی فوجیوں نے حدمتارکہ کےساتھ ساتھ8 فارورڈ سیکٹروں میں بلااشتعال فائرنگ کا سہارا لیا اور ہندوستانی فوجیوں کی طرف سے موثر جوابی کارروائی کی گئی۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے پیر کو بتایاکہ پہلگام دہشت گردانہ حملے میں 26معصوم شہریوں کی ہلاکت کے بعد نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں،اور گزشتہ رات پاکستانی فوجیوںنے11ویں مرتبہ بلااشتعال فائرنگ کی۔جموں میں ایک دفاعی ترجمان نے کہاکہ4 اور 5 مئی کی درمیانی شب، پاکستانی فوج نے اپنی چوکیوں سے لائن آف کنٹرول کیساتھ ساتھ کپواڑہ، بارہمولہ، پونچھ، راجوری، مینڈھر، نوشہرہ، سندربنی اور اکھنور کے بالمقابل علاقوں میں8 فارورڈ سیکٹروں چھوٹے ہتھیاروں سے بلا اشتعال فائرنگ کی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے فوری اور متناسب جواب دیا۔ دفاعی ترجمان نے کہاکہ پاکستانی فوجیوں نے5 سرحدی اضلاع بشمول جموں، راجوری، اور پونچھ میں جموں کے علاقے میں پیر پنجال رینج کے جنوب میں، اور کشمیر وادی کے بارہمولہ اور کپواڑہ اضلاع میں رات کے وقت فائرنگ شروع کی ۔ابتدائی طور پر شمالی کشمیر کے کپواڑہ اور بارہمولہ اضلاع میں کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ کئی پوسٹوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے بلا اشتعال فائرنگ کےساتھ، پاکستان نے تیزی سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو پونچھ سیکٹر اور اس کے بعد جموں خطے کے اکھنور سیکٹر تک پھیلا دیا۔ دفاعی ترجمان نے کہاکہ اس کے بعد راجوری ضلع کے سندر بنی اور نوشہرہ سیکٹروں میں کنٹرول لائن کےساتھ کئی چوکیوں پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ اس کے بعد، فائرنگ کا دائرہ جموں ضلع میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ پرگوال سیکٹر تک پھیل گیا۔پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اس حقیقت کے باوجود ہوئی کہ29 اپریل کو جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی بلا اشتعال فائرنگ کے درمیان ہندوستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMOs) نے ہاٹ لائن پر بات کی۔یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان کے کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزنے اپنے پاکستانی ہم منصب کو بلا اشتعال فائرنگ کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ہندوستان اور پاکستان نے فروری 2021 میں جموں و کشمیر میں سرحدوں پر جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔فروری 2021 کے بعد سے صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جب ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم اوز نے ڈی فیکٹو سرحد پر امن کو یقینی بنانے کے لیے 2003 کے جنگ بندی معاہدے کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔ہندوستان کی پاکستان کےساتھ کل 3323 کلومیٹر کی سرحد ہے، جسے3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: بین الاقوامی سرحد ، تقریباً 2400 کلومیٹر گجرات سے اکھنور، جموں میں دریائے چناب کے شمالی کنارے تک؛ لائن آف کنٹرول 740 کلومیٹر لمبی، جموں کے کچھ حصوں سے لیہہ کے کچھ حصوں تک چلتی ہے۔ اور ایکچوئل گراو ¿نڈ پوزیشن لائن (AGPL)، 110کلومیٹر لمبی، سیاچن کے علاقے کو NJ9842 سے شمال میں اندرا کول تک تقسیم کرتی ہے۔دریں اثناءجنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوںکے پیش نظرسرحدی علاقوںکے لوگ انفرادی اور کیمونٹی بنکروںکی صفائی اور مرمت کیساتھ ساتھ کسی حد تک تیارفصلیں کاٹنے میں مصروف ہیں ۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
