ہندوستان
ایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر نیز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا ہے کہ پیلٹ گن کے چھرے لگنے سے متاثرہ ساحل کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے میں انہیں قومی دارالحکومت دہلی میں آٹھ گھنٹے لگ گئے ہیں تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں کی صورتحال کیا ہوگی، لیکن انہیں خوشی ہے کہ یہ انصاف کی سمت میں ان کی کامیابی کا پہلا قدم ہے۔
راہل نے پیلٹ گن سے متاثرہ نوجوان ساحل کو انصاف دلانے کے لیے صبح سے یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں دھرنا مظاہرے کے بعد ایف آئی آر درج ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ طلبہ کو انصاف دلانے کی سمت میں ان کی کامیابی کا یہ پہلا قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ ساحل کے جسم میں ایک مہینے سے چھرے ہیں، جن میں تین اس کی آنکھ میں ہیں اور اسے دکھائی نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین-چار چھرے اس کے دل کے پاس بھی ہیں۔
سابق کانگریس صدر نے کہا، “ہم صبح تقریباً 11.30 بجے پولیس دفتر پہنچے تھے اور شام تقریباً 7.45 بجے ایف آئی آر درج کی گئی۔ ہم نے یہاں کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ ہم نے صرف ایک ہندوستانی شہری، اس کی ماں اور اس کے والد کے لیے انصاف مانگا ہے اور اس کے لیے آٹھ گھنٹے لگ گئے۔ یہ نئی دہلی کے بیچوں بیچ واقع پولیس اسٹیشن ہے، جہاں انصاف ملنے میں اتنا وقت لگا۔ سوال ہے کہ گاؤں یا چھوٹے شہر کے کسی تھانے میں عام لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا؟” انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا، “ایف آئی آر درج کرنے کی حتمی اجازت ہوم سکریٹری اور وزیر داخلہ امت شاہ سے ملنے کے بعد ملی، تو آپ سمجھ جائیے ایف آئی آر روک کون رہا تھا۔ یہ بیچارے جو پولیس والے ہیں، یہ چاہتے تھے ایف آئی آر درج کرنا، لیکن اوپر سے انصاف پر بریک لگی ہوئی ہے۔” راہل نے ایف آئی آر درج ہونے کو انصاف کی لڑائی کی شروعات بتایا اور کہا کہ یہ طلبہ کو انصاف دلانے میں کامیابی کا ان کا پہلا قدم ہے۔
پیلٹ گن سے زخمی ساحل نے کہا، “راہل کے ساتھ ہونے کے باوجود میری شکایت درج کرانے میں آٹھ گھنٹے لگ گئے۔ ہم 14 اگست سے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔ میرے جسم میں تقریباً 200 چھرے ہیں۔ شاید یہ ایف آئی آر لی بھی نہیں جاتی، اگر قائد حزب اختلاف میرا ساتھ نہیں دیتے اور میں 14 اگست سے ایف آئی آر کے لیے گھوم رہا ہوں۔”
ساحل نے کہا کہ راہل گاندھی کے ساتھ آنے کے بعد اسے یقین ہوا کہ شکایت درج ہوگی۔ اس نے ملک کے طلبہ سے کہا کہ انہیں یقین رکھنا چاہیے اور ان کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکتا۔ اس نے کہا کہ جدوجہد کی جیت ہوئی ہے اور یہ انصاف کی طرف ایک اور قدم ہے۔ ساحل نے ایمس کے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے دوران انہوں نے اس کا حوصلہ بڑھایا۔ اس نے ہندستان کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ جب وہ ہسپتال میں تھا، تب لوگوں نے اس کے لیے دعا کی۔
راہل اس سے پہلے صبح یہاں پارلیمنٹ اسٹریٹ واقع تھانے پہنچے، جہاں انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پولیس نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ ڈی سی پی کے دفتر پہنچے اور وہاں بھی ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لے کر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ ساحل نے بتایا کہ 14 اگست کو اپنے وکلاء کے ساتھ دہلی پولیس کو تحریری شکایت دی تھی، لیکن پولیس نے شکایت کے جانچ افسر کا نمبر اور رسید نہیں دی۔ اس کے بعد 17 اگست کو ای میل اور فون کے ذریعے بھی شکایت پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
راہل نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ وہ ساحل لوچب کے ساتھ اس کے خلاف ہوئی پولیس بربریت کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے پارلیمنٹ اسٹریٹ کے ڈی سی پی دفتر پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو جنتر منتر پر پرامن مظاہرہ کر رہے ساحل پر پیلٹ گن سے حملہ کیا گیا، جس سے اس کی ایک آنکھ کی بینائی خطرے میں ہے۔ انہوں نے پرامن مظاہرے کے خلاف ایسی بربریت کو سنگین جرم بتایا۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے معافی مانگی۔ انہوں نے امت شاہ سے سوال کیا کہ وہ انصاف سے اتنا کیوں گھبرا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساحل انصاف کے لیے ایف آئی آر درج کرانا چاہتا ہے، لیکن اسے بھی نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا، “ایف آئی آر ہوگی۔ عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔ ساحل اور اس کے جیسے ہر متاثرہ طالب علم کو انصاف دلا کر رہیں گے۔” دھرنے کی جگہ پر راہل کے ساتھ ساحل، اس کے والد دیپک اور والدہ جیوتی کے علاوہ کانگریس رہنما محترمہ پرینکا گاندھی واڈرا، کماری سیلجہ، ادھیر رنجن چودھری، سلمان خورشید، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش اور ہریش راوت سمیت کئی اہم رہنما موجود رہے۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا، ” طلبہ پر پیلٹ گن کا استعمال ہوا ہے اس کے ان کے پاس ثبوت ہیں۔” انہوں نے ساحل کے جسم پر لگے چھرے میڈیا اہلکاروں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے تین چھرے اس نوجوان کی آنکھ میں ہیں۔ لیڈی ہارڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر کی رپورٹ میں بھی اس کے جسم میں چھرے ہونے کی بات صاف طور پر لکھی ہے۔ ان چھروں کی وجہ سے ساحل کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے اور اس کے دل کے پاس بھی چھرے ہیں، جنہیں چھوا نہیں جا سکتا۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پیلٹ گن کا استعمال نہیں کیا، “تو سوال ایک ہی ہے کہ آپ نے نہیں چلائے تو کسی اور نے چھرے چلا دیے ہوں گے اور اگر کسی اور نے بھی چھرے چلائے ہیں تو بھی جرم ہوا ہے۔”
راہل نے کہا کہ ان کا مطالبہ صرف ایف آئی آر درج کرنے کا ہے۔ ان کے ساتھ متاثرہ نوجوان ساحل کی والدہ جیوتی اور والد دیپک بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ اوپر سے حکم آیا ہے کہ ایف آئی آر درج نہیں کرنی ہے، لیکن جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوتی، وہ یہاں سے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں ہزاروں لوگوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ خواتین کے ساتھ عصمت دری اور غریبوں کے ساتھ جرائم ہوتے ہیں نیز نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں پیلٹ گن چلائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خاندان کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں اور ایف آئی آر درج ہونے تک یہاں سے نہیں جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح وہ خود مندر مارگ تھانے گئے تھے، لیکن وہاں ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا گیا اور انہیں یہاں بھیجا گیا اور اب ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ہی وہ یہاں سے جائیں گے۔
راہل نے کہا کہ پرامن احتجاج کے خلاف ایسی بربریت سنگین جرم ہے۔ اس واقعے کے لیے نہ وزیر داخلہ امت شاہ نے طلبہ کو کوئی صفائی دی اور نہ وزیراعظم نے ان سے معافی مانگی ہے۔ اب ایف آئی آر ہوگی، عدالتی جانچ ہوگی اور اوپر سے نیچے تک جو بھی اس بربریت کے قصوروار ہیں، ان تمام پر کارروائی ہوگی۔
اس دوران ساحل نے میڈیا سے کہا کہ 20 جولائی کو اس پر پیلٹ گن سے گولی چلائی گئی تھی۔ اسے لیڈی ہارڈنگ ہسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں سے ایمس ریفر کیا گیا۔ ایمس میں اس کی سرجری ہوئی لیکن اس کی آنکھ کی بینائی ابھی بھی واضح نہیں ہے۔ اس نے 14 اگست کو سات صفحات پر مشتمل شکایت اپنے وکیل کے ذریعے دی تھی لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس ایم پی کشوری لال شرما نے کہا، “ایف آئی آر درج کروانا ہمارا جمہوری حق ہے۔ پیلٹ گن کی گولی سے متاثرہ نوجوان اتنے دنوں سے بھٹک رہا ہے اور اس کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے راہل اس کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے یہاں آئے۔ آپ دیکھیے کہ جمہوریت کا کتنا قتل ہو رہا ہے کہ ایک عام شہری کے حقوق کے لیے بھی قائد حزب اختلاف کو اس کی ایف آئی آر درج کروانے آنا پڑ رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
