جموں و کشمیر
جو تسلط کبھی صرف مغربی ممالک کے پاس تھا، اب مشرقی ممالک کا تیزی سے زور:وزیراعظم نریندر مودی
نیا ہندوستان اپنے دشمنوں کو سزا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا، زمین اور آسمان دونوں سے افواج متحرک
پوری دنیامیں آپریشن سندور کا ڈھنکا
سرینگر :جے کے این ایس : وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ نیا ہندوستان اپنے دشمنوں کو سزا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔انہوںنے کہاکہ یہ ایک نیاہندوستان ہے،جو زمین اور آسمان دونوں سے افواج کو متحرک کرتا ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے بہار کے موتیہاری میں آپریشن سندور کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک نیا ہندوستان ہے، ایک ایسا ہندوستان جو دشمنوں کو سزا دینے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑتا ہے،جو زمین اور آسمان دونوں سے افواج کو متحرک کرتا ہے ۔انہوںنے کہا کہ یہ بہار کی سرزمین سے تھا کہ اس نے آپریشن سندور شروع کرنے کا عزم کیا تھا۔ وزیر اعظمنے تصدیق کی کہ آج اس آپریشن کی کامیابی پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے موتیہاری میں7000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا، افتتاح کیا اور قوم کے لیے وقف کیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بہار چمپارن کی سرزمین ہے، ایک ایسی سرزمین جس نے تاریخ کو شکل دی ہے۔ تحریک آزادی کے دوران اس سرزمین نے مہاتما گاندھی کو ایک نئی سمت دی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسی سرزمین سے حاصل ہونے والی تحریک اب بہار کے نئے مستقبل کی تشکیل کرے گی۔ انہوں نے تمام حاضرین اور بہار کے لوگوں کو ان ترقیاتی اقدامات کے لئے مبارکباد پیش کی۔ وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ 21 ویں صدی تیزی سے عالمی ترقی کی گواہی دے رہی ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ جو تسلط کبھی صرف مغربی ممالک کے پاس تھا اب مشرقی ممالک تیزی سے شیئر کر رہے ہیں، جن کی شرکت اور اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشرقی اقوام اب ترقی کی نئی رفتار حاصل کر رہی ہیں۔ ایک متوازی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جس طرح مشرقی ممالک عالمی سطح پر ترقی کر رہے ہیں، اسی طرح ہندوستان میں یہ مشرقی ریاستوں کا دور ہے۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کی تصدیق کی کہ آنے والے وقتوں میں مشرق میں موتیہاری مغرب میں ممبئی کی طرح نمایاں ہو جائے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے گیا میں مساوی مواقع کا تصور کیا، جیسا کہ گروگرام، پٹنہ میں صنعتی ترقی پونے کی طرح، اور سورت کے مقابلے سنتھل پرگنہ میں ترقی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلپائی گوڑی اور جاج پور میں سیاحت جے پور کی طرح نئے ریکارڈ قائم کرے گی اور بیر بھوم کے لوگ بنگلورو کی طرح ترقی کریں گے۔انہوںنے کہاکہ مشرقی ہندوستان کو آگے بڑھانے کے لیے، بہار کو ایک ترقی یافتہ ریاست میں تبدیل کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آج بہار میں تیز رفتار ترقی ممکن ہے کیونکہ مرکز اور ریاست دونوں کی حکومتیں بہار کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت کے 10 سالوں کے دوران، جب وہ مرکز میں برسراقتدار تھے، بہار کو صرف2 لاکھ کروڑ روپے ملے تھے، یہ تبصرہ کرتے ہوئے کہ یہ وزیر اعظم نتیش کمار کی قیادت والی حکومت کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد، ان کی حکومت نے بہار کے خلاف انتقام کی اس سیاست کو ختم کر دیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ گزشتہ 10 سالوں میں ان کے دور حکومت میں بہار کی ترقی کے لیے تقریباً9 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ اس سے چار گنا زیادہ ہے جو پچھلے نظام کے تحت فراہم کی گئی تھی، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ یہ فنڈنگ پورے بہار میں عوامی بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔وزیر اعظم نے حالیہ برسوں میں نکسلزم کے خلاف کی گئی فیصلہ کن کارروائی پر روشنی ڈالی جس سے بہار کے نوجوانوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چمپارن، اورنگ آباد، گیا، اور جموئی جیسے اضلاع ، جو کبھی ماو ¿نواز اثر و رسوخ کے زیر اثر تھے ، اب انتہا پسندی میں کمی دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان علاقوں میں جو کبھی ماو ¿نواز تشدد کے زیر سایہ تھے، اب نوجوان بڑے خواب دیکھ رہے ہیں اور ہندوستان کو نکسل ازم کی گرفت سے مکمل طور پر آزاد کرنے کے حکومت کے عزم کی تصدیق کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نعروں یا وعدوں پر نہیں رکتی بلکہ عمل سے ڈیلیور کرتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب ان کی حکومت کہتی ہے کہ وہ پسماندہ اور انتہائی پسماندہ برادریوں کے لیے کام کرتی ہے تو یہ عزم اس کی پالیسیوں اور فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا مشن واضح ہے: ہر پسماندہ فرد کی ترجیح، چاہے وہ پسماندہ علاقے ہوں یا پسماندہ طبقات، وہ حکومت کی ترجیحات میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ ہندوستان کے سرحدی دیہات کو طویل عرصے سے آخری گاو ¿ں سمجھا جاتا تھا اور پیچھے چھوڑ دیا جاتا تھا، لیکن حکومت نے انہیں پہلے گاو ¿ںکے طور پر دوبارہ بیان کیا اور ان کی ترقی کو ترجیح دی۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ او بی سی کمیونٹی نے طویل عرصے سے او بی سی کمیشن کو آئینی درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا ، یہ مطالبہ ان کی مخلوط حکومت نے پورا کیا۔وزیر اعظم نے پچھلی حکومتوں پر تنقید کی کہ وہ غریبوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلی برادریوں کے نام پر طویل عرصے سے سیاست میں مصروف رہیں اور وہ نہ صرف مساوی حقوق سے انکاری ہیں بلکہ اپنے خاندان سے باہر والوں کا احترام کرنے میں بھی ناکام رہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بہار آج ان کے غرور کو صاف دیکھ رہا ہے۔اس تقریب میں بہار کے گورنر عارف محمد خان، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، مرکزی وزراءجیتن رام مانجی، گری راج سنگھ، راجیو رنجن سنگھ، چراغ پاسوان، رام ناتھ ٹھاکر، نتیا نند رائے، ستیش چندر دوبے، ڈاکٹر راج بھوشن چودھری سمیت دیگر معززین موجود تھے۔ (اے این آئی)
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
