ہندوستان
دنیا نے آپریشن سندور کے ذریعے ہندوستان کی فوجی طاقت اور صلاحیت کو دیکھا: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ دنیا نے آپریشن سندور کے ذریعے ہندوستان کی فوجی طاقت اور صلاحیت کو دیکھا ہے اور پارلیمنٹ کا یہ مانسون اجلاس قوم کے لئے فخر کا موقع اور ایک طرح کا وجے اتسو ہے مانسون اجلاس کے آغاز سے قبل پارلیمنٹ احاطے میں صحافیوں سے اپنے روایتی خطاب میں مسٹر مودی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے، آپریشن سندور، ہندوستانی خلاباز کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے سفر اور ملک کی بڑھتی ہوئی معیشت کا خاص طور پر ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’یہ مانسون سیشن قوم کے لیے ایک بہت ہی قابل فخر سیشن ہے، یہ سیشن اپنے آپ میں قوم کے لیے فتح کا جشن منانے کا موقع ہے، جب میں کہتا ہوں کہ یہ سیشن قومی فخر اور فتح کے جشن کا سیشن ہے، تو سب سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہندوستان کا ترنگا جھنڈا پہلی بار بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر لہرایا گیا، یہ ہر ملک کے لیے ایک کامیاب سفر رہا ہے۔ ملک کو سائنس اور ٹکنالوجی نے جوش اور ولولے سے بھر دیا۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں ہندوستانی خلاباز گروپ کیپٹن سبھانشو شکلا ایکسیوم 4 مشن کے تحت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن گئے تھے اور وہاں 18 دن قیام کے بعد زمین پر واپس آئے تھے۔
اس تناظر میں وزیر اعظم نے کہا کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایک آواز میں اس فخر کے ساتھ شامل ہوں گے، جس کا احساس ہم وطنوں کو ہو رہا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ’’آپریشن سندھ کے تحت دہشت گردوں کے آقاؤں کو 22 منٹ کے اندر ان کے گھر جا کر زمین بوس کر دیا گیا۔ میں نے بہار میں ایک پروگرام میں اس کا اعلان کیا تھا، جسے ہماری فوجی طاقت نے بہت کم وقت میں ثابت کر دیا کہ یہ فوجی طاقت بہت کم وقت میں دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر چکی ہے۔ جب بھی میں دنیا کے لوگوں سے ملتا ہوں، دنیا ہندوستان میں تیار ہونے والے ہتھیاروں کی طرف متوجہ ہوتی ہے، مجھے یقین ہے کہ جب ایوان جیت کے جذبے کے ساتھ اس وجے اتسو کو منائے گا اور اس سیشن کے دوران ان متحرک اور روشن جذبات کا اظہار کرے گا، تب ہندوستان کی فوجی طاقت مضبوط ہوگی، حوصلہ ملے گا اور ہم وطنوں کو حوصلہ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس دہائی میں ہم قدم قدم پر امن اور ترقی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ترقی کا احساس کر رہے ہیں۔ ملک ایک عرصے سے کئی طرح کے پرتشدد واقعات کا شکار ہے۔ آج نکسل ازم اور ماؤ ازم کا دائرہ بہت تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے، نکسل ازم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کے ساتھ، ملک کی سکیورٹی فورسز ایک نئے اعتماد کے ساتھ کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہیں اور میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ملک نکسلی انتہاپسندی کی گرفت سے نکل آیا ہے اور آج آزادی کی سانس لے رہا ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے ملک کا آئین بموں، بندوقوں اور پستولوں کے سامنے جیت رہا ہے۔
اقتصادی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ جب انہیں 2014 میں اقتصادی شعبے میں ذمہ داری ملی، ملک فریجائل -5 کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ 2014 سے پہلے یہ ملک عالمی معیشت میں 10ویں نمبر پر تھا اور آج دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ملک میں 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر نکل آئے ہیں، جس کی تعریف دنیا کی کئی تنظیمیں کر رہی ہیں۔ ایک وقت تھا جب مہنگائی کی شرح دوہرے ہندسے میں ہوتی تھی۔ آج یہ دو فیصد کے قریب آ گئی ہے اور ملک کے عام آدمی کی زندگی میں راحت آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی عالمی کانفرنس ہوئی اور اس میں ہندوستان نے بڑی بلندیاں حاصل کی ہیں۔ آئی ایل او کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اب 90 کروڑ سے زیادہ لوگ سماجی تحفظ کے دائرے میں ہیں، جو کہ اپنے آپ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح عالمی تنظیم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ہندوستان کو آنکھوں کی بیماری ٹریکوما سے پاک قرار دیا ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا، پہلگام میں ہونے والے وحشیانہ قتل و غارت، مظالم، قتل عام سے پوری دنیا کو صدمہ پہنچا، دنیا کی توجہ دہشت گردوں اور ان کے آقاوں پر مرکوز تھی اور اس وقت پارٹی مفادات کو ایک طرف رکھ کر، ہماری بیشتر جماعتوں کے نمائندوں، زیادہ تر ریاستوں کے نمائندوں نے دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کیا، ایک آواز کے ساتھ پاکستان کو بے نقاب کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آج میں ان تمام اراکین پارلیمنٹ کی تعریف کرنا چاہتا ہوں، میں قومی مفاد میں کیے گئے اس اہم کام کے لیے تمام جماعتوں کی تعریف کرنا چاہتا ہوں، اور اس سے ملک میں ایک مثبت ماحول پیدا ہوا ہے‘۔
یو این آئی۔ ایس اے۔ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
