تازہ ترین
کلگام لہو لہو : تین جنگجو 7عام شہری ، فوجی جاں بحق، 100سے زائد زخمی، ضلع میں کرفیو نافذ
خبراردو:
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے مضافاتی گاؤں خارپورہ سرنو میں سنیچر کو اُس وقت لوگ ششدرہ ہوکر رہ گئے جب یہاں فوج کی 55آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی 182اور 183بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے جنگجوؤں سے متعلق ایک مصدقہ اطلاع کے بعد پورے گاؤں کو محاصرے میں لیتے ہوئے جنگجو مخالف آپریشن کا آغاز کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں میں موجود جنگجوؤں کی تلاش کے لیے فورسز نے دوران شب ہی پورے گاؤں کو محاصرے میں لیا تھا جس کے بعد ہی طلوع آفتاب کے ساتھ ہی گاؤں میں گولیوں کی گن گرج سنائی دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طرفین کی گولی باری چند گھنٹوں تک محیط رہی جس دوران مکان کے ملبے سے حزب المجاہدین سے وابستہ 3عسکریت پسندجاں بحق ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دوران فوج و فورسز کی طرف سے شروع کئے کئے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر علی الصبح ہی سرنو اور ملحقہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد جن میں نوجوان بھی شامل تھے نے جھڑپ والے مقام کی طرف پیش قدمی شروع کرنے چاہی تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پر چہار سوپتھراؤ کیا جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ فورسز اہلکاروں نے اس موقعے پر مظاہرین کا اگر چہ تعاقب کرنا چاہیے تاہم بضد مظاہرین نے فورسز کے خلاف محاذ جاری رکھتے ہوئے سنگ باری اور احتجاج میں شدت لائی۔معلوم ہوا کہ اس دوران فورسز اہلکاروں نے سنگ باری کررہے نوجوانوں پر راست فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی یہاں آہ و بکاہ کا عالم برپا ہوا ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسزنے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے راست فائرنگ اور پیلٹ کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں بھیڑ میں موجود سینکڑوں نوجوان خون میں لت پت ہوکر گر پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں یہاں کئی نوجوانوں کے نازک اعضا میں گولیاں پیوست ہوئیں جس کے نتیجے میں یہاں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ اس موقعے پر یہاں موجود لوگوں نے اگر چہ زخمی ہوئے نوجوانوں کو نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کردیاتاہم ہسپتال پہنچانے کے ساتھ ہی کئی نوجوان یہاں دم توڑ بیٹھے۔ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام پر فورسز کی ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں 6نوجوان جاں بحق ہوگئے جن کی شناخت شہباز علی ساکن منگہامہ، سہیل احمد ساکن بیلو، لیاقت احمد ساکن پاری گام، مرتضیٰ احمد ساکن پرچھو، عامر احمد پالا ساکن اشمندر اور عابد حسین لون ساکن کریم آباد شامل ہیں۔اس دوران اگر چہ درجنوں زخمیوں کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم یہاں ابتدائی مرحلے میں ایک اور نوجوان زندگی کی جنگ ہار بیٹھا جس کی شناخت توصیف احمد میر شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ توصیف احمد جھڑپ والے مقام پر ابتدائی طور پر گولی لگنے سے زخمی ہوگیا تھا جسے پہلے پہل ضلع ہسپتال پلوامہ منتقل کردیا گیا تھا تاہم یہاں موجود ڈاکٹروں نے اس کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ توصیف احمد میر کے جسم سے کافی خون بہہ چکا تھا جس کے بعد سرینگر پہنچتے ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز کی فائرنگ سے سرنو میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ یہاں موجود لوگوں نے زخمی ہوئے افراد کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز کی راست فائرنگ لوگوں کا زخمیوں تک پہنچنا محال بن گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک گولیوں کا سلسلہ جاری رکھا جس دوران یہاں خوف و دہشت ماحول پیدا ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں سڑکوں پر پڑے زخمی افراد کے جسم سے کافی خون بہہ گیا جن میں سے بعد میں کئی نوجوان ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے۔معلوم ہوا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں 100سے زائد مظاہرین بری طرح زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ہسپتال ذرائع کے مطابق کئی افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ ادھر سنیچر کی سہ پہر تک جنوبی کشمیر سے ایمبولینس گاڑیاں سرینگر کی جانب رواں دواں تھی جو فورسز کارروائی میں زخمی افراد کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس، صورہ، جے وی سی اور برزلہ ہسپتالوں میں منتقل کررہی تھی۔ اس دوران وادی بھر میں حالات نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب سرنو پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عام شہری ہلاکتوں کی خبر شمال و جنوب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے ساتھ ہی ہر سو صف ماتم بچھ گئی۔معلوم ہوا کہ سرنو پلوامہ میں جونہی فورسز کارروائی کے دوران عام شہریوں سے متعلق ہلاکتوں کی خبر شمالی اور وسطی اضلاع تک پھیل گئی تو یہاں کئی مقامات پر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے فورسز کارروائی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا نے سنیچر کی صبح اپنے کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے سرنو پلوامہ میں ہوئی عام شہری اور جنگجو ہلاکتوں کے خلاف کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ طلبا نے اس موقعے پر اسلام اور آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے لگاتے ہوئے وائس چانسلر کے سیکرٹریٹ کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ اس موقعے پر یہاں موجود طلبا نے فورسز کارروائی میں مارے گئے جنگجوؤں اور عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کیا۔ ادھر شہر کے نوہٹہ علاقے میں بھی لوگوں نے شہری ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاجی ظاہرے کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں سے شہری ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر نوہٹہ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سرنو پلوامہ میں 7عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاج کیا اور اس دوران انہوں نے فورسز کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہرین نے اس موقعے پر آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں کو شہری ہلاکتوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی۔شہر کے امر سنگھ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کالج کے احاطے میں جم کر نعرے بازی کی ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے جنگجوؤں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف سنیچر دوپہر کو کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طلبا نے اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں بھی زور دار نعرے بازی کی جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ شمالی قصبہ سوپور میں بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف طلبا نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ڈگر ی کالج سوپور کے طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج سے باہر آکر پلوامہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس دوران مظاہرین نے جونہی آگے بڑھنے کی کوشش کی تو یہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے احتجاج کررہے طلاب کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ ہوا میں آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے ساتھ ہی یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ اس دوران احتجاج کے نتیجے میں یہاں تمام تجارتی مراکز مکمل طورپر بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی ٹھپ ہوگئی۔ادھر وادی کے بقیہ علاقوں میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑتالی صورتحال دیکھنے کو ملی جس دوران دکانداروں نے اپنے دکانات کے شٹر گراکر محفوظ مقامات کی جانب پیش قدمی کی۔ ادھر ضلع پلوامہ میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے سنیچر کو پیدا شدہ صورتحال کے بعد اعلانیہ طور پر کرفیو نافذ کردیا جس کے بعد یہاں حساس مقامات پر ہتھیار بند فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے امن دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے ضلع کے حدود میں اگلے احکامات تک کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا ہے جس کے بعد یہاں کسی بھی شخص کو پرمارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیان، اننت ناگ اور کولگام سمیت وادی کے شمال و جنوب میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو فی الحال معطل کردیا ہے جس کے ساتھ ہی عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا۔ معلوم ہوا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا جب کہ حکام نے براڈ بینڈ سروس کی تیز رفتار سروس میں بھی کمی لائی ۔ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ریل سروس کو حالات سازگار ہونے تک معطل کردیا ہے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
