تازہ ترین
کلگام لہو لہو : تین جنگجو 7عام شہری ، فوجی جاں بحق، 100سے زائد زخمی، ضلع میں کرفیو نافذ
خبراردو:
جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے مضافاتی گاؤں خارپورہ سرنو میں سنیچر کو اُس وقت لوگ ششدرہ ہوکر رہ گئے جب یہاں فوج کی 55آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی 182اور 183بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے جنگجوؤں سے متعلق ایک مصدقہ اطلاع کے بعد پورے گاؤں کو محاصرے میں لیتے ہوئے جنگجو مخالف آپریشن کا آغاز کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق گاؤں میں موجود جنگجوؤں کی تلاش کے لیے فورسز نے دوران شب ہی پورے گاؤں کو محاصرے میں لیا تھا جس کے بعد ہی طلوع آفتاب کے ساتھ ہی گاؤں میں گولیوں کی گن گرج سنائی دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طرفین کی گولی باری چند گھنٹوں تک محیط رہی جس دوران مکان کے ملبے سے حزب المجاہدین سے وابستہ 3عسکریت پسندجاں بحق ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دوران فوج و فورسز کی طرف سے شروع کئے کئے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی خاطر علی الصبح ہی سرنو اور ملحقہ علاقوں سے لوگوں کی بڑی تعداد جن میں نوجوان بھی شامل تھے نے جھڑپ والے مقام کی طرف پیش قدمی شروع کرنے چاہی تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز پر چہار سوپتھراؤ کیا جس کے بعد یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ فورسز اہلکاروں نے اس موقعے پر مظاہرین کا اگر چہ تعاقب کرنا چاہیے تاہم بضد مظاہرین نے فورسز کے خلاف محاذ جاری رکھتے ہوئے سنگ باری اور احتجاج میں شدت لائی۔معلوم ہوا کہ اس دوران فورسز اہلکاروں نے سنگ باری کررہے نوجوانوں پر راست فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی یہاں آہ و بکاہ کا عالم برپا ہوا ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسزنے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے راست فائرنگ اور پیلٹ کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں بھیڑ میں موجود سینکڑوں نوجوان خون میں لت پت ہوکر گر پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں یہاں کئی نوجوانوں کے نازک اعضا میں گولیاں پیوست ہوئیں جس کے نتیجے میں یہاں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ اس موقعے پر یہاں موجود لوگوں نے اگر چہ زخمی ہوئے نوجوانوں کو نزدیکی ہسپتالوں میں منتقل کردیاتاہم ہسپتال پہنچانے کے ساتھ ہی کئی نوجوان یہاں دم توڑ بیٹھے۔ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ کے مقام پر فورسز کی ابتدائی فائرنگ کے نتیجے میں 6نوجوان جاں بحق ہوگئے جن کی شناخت شہباز علی ساکن منگہامہ، سہیل احمد ساکن بیلو، لیاقت احمد ساکن پاری گام، مرتضیٰ احمد ساکن پرچھو، عامر احمد پالا ساکن اشمندر اور عابد حسین لون ساکن کریم آباد شامل ہیں۔اس دوران اگر چہ درجنوں زخمیوں کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم یہاں ابتدائی مرحلے میں ایک اور نوجوان زندگی کی جنگ ہار بیٹھا جس کی شناخت توصیف احمد میر شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ توصیف احمد جھڑپ والے مقام پر ابتدائی طور پر گولی لگنے سے زخمی ہوگیا تھا جسے پہلے پہل ضلع ہسپتال پلوامہ منتقل کردیا گیا تھا تاہم یہاں موجود ڈاکٹروں نے اس کی نازک صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسے سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ توصیف احمد میر کے جسم سے کافی خون بہہ چکا تھا جس کے بعد سرینگر پہنچتے ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ فورسز کی فائرنگ سے سرنو میں قیامت صغریٰ بپا ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ یہاں موجود لوگوں نے زخمی ہوئے افراد کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی تاہم فورسز کی راست فائرنگ لوگوں کا زخمیوں تک پہنچنا محال بن گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک گولیوں کا سلسلہ جاری رکھا جس دوران یہاں خوف و دہشت ماحول پیدا ہوا ۔انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں سڑکوں پر پڑے زخمی افراد کے جسم سے کافی خون بہہ گیا جن میں سے بعد میں کئی نوجوان ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے۔معلوم ہوا کہ فورسز کارروائی کے نتیجے میں 100سے زائد مظاہرین بری طرح زخمی ہوئے ہیں جن میں سے ہسپتال ذرائع کے مطابق کئی افراد کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ ادھر سنیچر کی سہ پہر تک جنوبی کشمیر سے ایمبولینس گاڑیاں سرینگر کی جانب رواں دواں تھی جو فورسز کارروائی میں زخمی افراد کو سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس، صورہ، جے وی سی اور برزلہ ہسپتالوں میں منتقل کررہی تھی۔ اس دوران وادی بھر میں حالات نے اُس وقت سنگین رخ اختیار کیا جب سرنو پلوامہ میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران عام شہری ہلاکتوں کی خبر شمال و جنوب میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے ساتھ ہی ہر سو صف ماتم بچھ گئی۔معلوم ہوا کہ سرنو پلوامہ میں جونہی فورسز کارروائی کے دوران عام شہریوں سے متعلق ہلاکتوں کی خبر شمالی اور وسطی اضلاع تک پھیل گئی تو یہاں کئی مقامات پر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے فورسز کارروائی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبا نے سنیچر کی صبح اپنے کلاسوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے سرنو پلوامہ میں ہوئی عام شہری اور جنگجو ہلاکتوں کے خلاف کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ طلبا نے اس موقعے پر اسلام اور آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے لگاتے ہوئے وائس چانسلر کے سیکرٹریٹ کے باہر احتجاجی دھرنا دیا۔ اس موقعے پر یہاں موجود طلبا نے فورسز کارروائی میں مارے گئے جنگجوؤں اور عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کیا۔ ادھر شہر کے نوہٹہ علاقے میں بھی لوگوں نے شہری ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاجی ظاہرے کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں سے شہری ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سنیچر کی دوپہر نوہٹہ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سرنو پلوامہ میں 7عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف جم کر احتجاج کیا اور اس دوران انہوں نے فورسز کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ مظاہرین نے اس موقعے پر آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اقتدار پر براجمان لوگوں کو شہری ہلاکتوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی۔شہر کے امر سنگھ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کالج کے احاطے میں جم کر نعرے بازی کی ۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ کالج میں زیر تعلیم طلبا نے جنگجوؤں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف سنیچر دوپہر کو کیمپس احاطے میں جم کر احتجاجی مظاہرے کئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر طلبا نے اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں بھی زور دار نعرے بازی کی جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ شمالی قصبہ سوپور میں بھی عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف طلبا نے احتجاج کرتے ہوئے پولیس پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ڈگر ی کالج سوپور کے طلاب نے کلاسوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کالج سے باہر آکر پلوامہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس دوران مظاہرین نے جونہی آگے بڑھنے کی کوشش کی تو یہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے احتجاج کررہے طلاب کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ ہوا میں آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے ساتھ ہی یہاں حالات پرتناؤ رہے۔ اس دوران احتجاج کے نتیجے میں یہاں تمام تجارتی مراکز مکمل طورپر بند ہوگئے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی ٹھپ ہوگئی۔ادھر وادی کے بقیہ علاقوں میں بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑتالی صورتحال دیکھنے کو ملی جس دوران دکانداروں نے اپنے دکانات کے شٹر گراکر محفوظ مقامات کی جانب پیش قدمی کی۔ ادھر ضلع پلوامہ میں صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے سنیچر کو پیدا شدہ صورتحال کے بعد اعلانیہ طور پر کرفیو نافذ کردیا جس کے بعد یہاں حساس مقامات پر ہتھیار بند فورسز اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے امن دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے ضلع کے حدود میں اگلے احکامات تک کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا ہے جس کے بعد یہاں کسی بھی شخص کو پرمارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیان، اننت ناگ اور کولگام سمیت وادی کے شمال و جنوب میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو فی الحال معطل کردیا ہے جس کے ساتھ ہی عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا۔ معلوم ہوا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا جب کہ حکام نے براڈ بینڈ سروس کی تیز رفتار سروس میں بھی کمی لائی ۔ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر ریلوے حکام نے بھی مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ریل سروس کو حالات سازگار ہونے تک معطل کردیا ہے۔
دنیا
فرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
پیرس، فرانس میں گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کی خامیاں سامنے آنے اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ بڑھنے کے درمیان، حکام نے نئے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ہفتہ کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس کے کئی بڑے عجائب گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
تشدد کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر لوور، اورسے میوزیم، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے سمیت کئی ثقافتی ادارے بند رہے۔ پیرس میں منعقد ہونے والے عصری فنون کے بڑے میلے آرٹ باسل کے منتظمین نے بھی جمعہ کو افتتاح کے بعد ہفتے کے اختتام کے پروگرام منسوخ کر دیے۔
پیرس سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع اورلیاں میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی گئی۔ یہ مظاہرہ میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی کی قومی کانگریس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والا ہے۔
ٹریڈ یونینوں، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نسل پرستی مخالف انجمنوں سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے اس مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ حکام کو اس میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات میں فساد مخالف پولیس، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن شامل ہوں گے۔
نونیز نے جمعہ کو کہا، ”ہم تشدد کرنے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکام کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
طلبہ تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے پیرس میں بھی احتجاجی مظاہروں کی توقع ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لوموند’ کے حوالے سے پیش کیے گئے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، پیرس کی سڑکوں پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد اتر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فرانس بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔
حکام نے خصوصی پولیس دستوں، سراغ رساں کتوں کی ٹیموں، گھڑسوار اہلکاروں اور ڈرون مخالف ٹیموں کی مدد سے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ نیشنل جنڈارمری کے زیر استعمال تقریباً 15 واٹر کینن گاڑیوں اور 20 بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
احتجاج سے قبل پیرس کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کے شٹر اور دروازے مضبوط کیے اور سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے متاثر ہونے والے پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب کاروباری اداروں اور بینک کی ایک شاخ نے اپنے احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے جنوب مشرق میں واقع ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے عملے کی کمی اور تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بعد میں اس تحریک میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ناراضگی بھی شامل ہو گئی۔
اسکولوں میں ناکافی فنڈنگ، پسماندہ علاقوں میں عملے کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل نے بھی طلبہ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
لیون، نیس اور مونٹ پیلیئر میں مجوزہ بعض مظاہروں پر مقامی حکام نے پابندی عائد کر دی، جبکہ پیرس اور مارسیے میں ریلیاں نکالے جانے کی توقع ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر میکرون، جنہیں اپنی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی میں اضافے کا سامنا ہے، نے سکیورٹی کے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں، کاروباری اداروں اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہیں۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
علاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
استنبول، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر استنبول میں آر4 (ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب) اور اٹلی کی شرکت کے ساتھ منعقدہ آر4 ای3 (برطانیہ، جرمنی، فرانس) وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا۔
وزیر فیدان نے کہا کہ استنبول میں پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والے آر4 مذاکرات کے بعد، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ کی شرکت کے ساتھ آٹھ ممالک کو یکجا کرنے والے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی گئی۔
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے آپس میں جڑے تمام مسائل اور تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اختلافات کو علاقائی ملکیت کے تصور کے تحت، گفت و شنید اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں شریک ہم منصبوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر فیدان نے کہا:ہم امید کرتے ہیں کہ جس اقدام کی ہم رہنمائی کر رہے ہیں وہ مستقل مزاجی اختیار کرے اور ہمارے خطے میں اور اس سے باہر امن اور استحکام میں حصہ ڈالے۔ ترکیہ دو جغرافیوں کے درمیان مرکزی مقام کے ساتھ علاقائی مسائل کے حل میں اپنی ذمہ
داریوں کو جاری رکھے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فلپائن میں تربیتی طیارے حادثے کا شکار، فضائیہ کے چار پائلٹ ہلاک
منیلا، فلپائن میں منیلا کے جنوب میں واقع ایک فضائی اڈے پر تربیتی پرواز کے دوران دو ایس ایف 260 طیاروں کے حادثے کا شکار ہونے سے فضائیہ کے چار پائلٹ ہلاک ہو گئے۔ فوج نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
فلپائن کی فضائیہ (پی اے ایف) کے ایک بیان کے مطابق، یہ حادثہ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 51 منٹ پر صوبہ باتانگاس میں واقع فرنانڈو ایئر بیس پر پیش آیا۔ دونوں طیارے فضائی اڈے کی حدود کے اندر گر کر تباہ ہو گئے۔
حادثے میں کسی دوسرے شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق، دونوں طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا گئے تھے، تاہم فضائیہ نے حادثے کی وجہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔
پی اے ایف نے کہا کہ حادثے کے حالات اور اسباب کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ احتیاطی اقدام کے طور پر تحقیقات مکمل ہونے تک ایس ایف 260 طیاروں کے پورے بیڑے کی پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ ہلاک ہونے والے پائلٹوں کے اہل خانہ کو مدد فراہم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی نجی زندگی کا احترام کریں۔
بیان میں ہلاک ہونے والے پائلٹوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی حادثے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کی گئیں۔
فلپائن میں ایس ایف 260 تربیتی طیاروں کے ساتھ پیش آنے والا یہ تازہ ترین جان لیوا حادثہ ہے۔
مئی میں ملک کے شمالی حصے کے ایک پہاڑی علاقے میں ایس ایف 260 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں دو پائلٹ ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل 2023 میں تربیتی پرواز کے دوران ایک اور ایس ایف 260 ٹی پی مارچیٹی طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں دو پائلٹوں کی موت ہو گئی تھی۔
فلپائن کی فوج نے 2017 میں جنوبی شہر مراوی کے بعض علاقوں پر قبضہ کرنے والے اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی ایس ایف 260 طیاروں کا استعمال کیا تھا۔
جمعہ کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ فضائیہ نے یہ نہیں بتایا کہ عارضی طور پر گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کو دوبارہ پرواز کی اجازت کب دی جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان7 days agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
