ہندوستان
جی ایس ٹی پر حکومت کا قدم درست ہے، پیچیدگیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے: کھڑگے
نئی دہلی، کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس (جی ایس ٹی) میں اصلاحات کی حکومت کی پہل کو درست قرار دیا لیکن کہا کہ اٹھائے گئے اقدامات کافی نہیں ہیں اور اس کی پیچیدگیوں کو ختم کرکے اسے عوام کے لیے مزید مفید بنانے کی ضرورت ہے جمعرات کو جی ایس ٹی اصلاحات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مسٹر کھرگے نے کہا کہ حکومت نے اسے بہت پیچیدہ بنا دیا ہے اور جی ایس ٹی کے ذریعے عام آدمی کو کچلا جا رہا ہے، اس لیے کانگریس نے اسے گبر سنگھ ٹیکس بھی کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی تعمیل میں اب بھی پیچیدگیاں ہیں اور انہیں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک دہائی سے کانگریس جی ایس ٹی کو آسان بنانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مودی حکومت نے’ون نیشن ون ٹیکس‘ کو’ون نیشن 9 ٹیکسز‘ بنا دیا تھا۔ جس میں صفر فیصد، پانچ فیصد، 12 فیصد، 18 فیصد، 28 فیصد اور 0.25 فیصد، 1.5 فیصد، تین فیصد اور چھ فیصد کی خصوصی شرحیں شامل ہیں۔ کانگریس صدر نے کہا کہ کانگریس نے 2019 اور 2024 کے اپنے منشور میں ایک سادہ اور عقلی ٹیکس نظام کے ساتھ جی ایس ٹی 2.0 کا مطالبہ کیا تھا ۔ کانگریس کی قیادت میں متحدہ ترقی پسند اتحاد ( یو پی اے) حکومت نے 28 فروری 2005 کو لوک سبھا میں جی ایس ٹی کا اعلان کیا تھا اور 2011 میں جب اس وقت کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے جی ایس ٹی بل پیش کیا تو بی جے پی نے اس کی مخالفت کی تھی اور جی ایس ٹی کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔
اس وقت مسٹر نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور انہوں نے جی ایس ٹی کی سخت مخالفت کی تھی۔ آج وہی بی جے پی حکومت جی ایس ٹی کی ریکارڈ وصولی کا جشن منا رہی ہے، گویا اس نے عام آدمی سے ٹیکس وصول کرکے بڑا کام کیا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسانوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔ مودی حکومت نے زرعی شعبے کی کم از کم 36 اشیاء پر جی ایس ٹی نافذ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے روزمرہ کی چیزوں جیسے دودھ، دہی، آٹا، اناج، یہاں تک کہ بچوں کی پنسل، کتابیں، آکسیجن، انشورنس اور اسپتال کے اخراجات پر جی ایس ٹی ٹیکس لگایا ہے۔ اسی لیے ہم نے بی جے پی کے اس جی ایس ٹی کو ‘گبر سنگھ ٹیکس’ کا نام دیا۔ دو تہائی یعنی کل جی ایس ٹی کا 64 فیصد غریب اور متوسط طبقے کی جیبوں سے آتا ہے لیکن ارب پتیوں سے صرف تین فیصد جی ایس ٹی وصول کیا جاتا ہے جبکہ کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 22 فیصد کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں انکم ٹیکس کی وصولی میں 240 فیصد اور جی ایس ٹی کی وصولی میں 177 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ 8 سال کی تاخیر کے بعد بھی جی ایس ٹی پر مودی سرکار کی کمبھکرانہ نیند ٹوٹ گئی اور انہوں نے جاگ کر جی ایس ٹی کی شرحوں کو معقول بنانے کی بات کی ہے۔ تمام ریاستوں کو 2024-25 کو بنیادی سال کے طور پر دیکھتے ہوئے پانچ سال کی مدت کے لیے معاوضہ دیا جانا چاہیے، کیونکہ شرحوں میں کمی سے ان کی آمدنی پر منفی اثر پڑے گا۔۔ جی ایس ٹی کی پیچیدہ تعمیل کو بھی ختم کرنا ہوگا، تب ہی ایم ایس ایم ای اور چھوٹی صنعتوں کو صحیح معنوں میں فائدہ ہوگا۔
یو این آئی ۔م اع
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا1 week agoامریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کو نئی سکیورٹی صورتحال میں توازن کے چیلنج کا سامنا
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
-
دنیا7 days agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
